Showing posts with label حدیث میں نجات. Show all posts
Showing posts with label حدیث میں نجات. Show all posts

Tuesday, March 12, 2024

ہمارے پیارے رسول ﷲ ﷺ زندگی بھر کبھی بیمار نہیں ہوئے۔ وجہ،

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق

   


رسول ﷺ کی عادات مبارکہ اور سائنسی ثبوت

ہم سب جانتے ہیں کہ کلام مجید ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے اور اس کی تشریح و تفسیر حیات طیبہ رسول اللہﷺ ہے۔ غیرمسلم سائنسدانوں نے حتی الامکان کوشش کی ہے کہ کلام مجید میں کوئی غلطی مل جائے مگر وہ ناکام رہے اور تقریباً اسّی فیصد واقعات کو سائنسی طور پر صحیح ثابت پایا ہے جو بیس فیصد رہ گئے ہیں وہ بھی ان شا ﷲ وہ صحیح پائیں گے۔ ایک عزیز دوست نے یہ معلومات بھیجی ہیں آپ سب سے شیئر کررہا ہوں، ان پر عمل کرنے سے 75فیصد ثواب ان کو 25 فیصد مجھے وسیلہ بننے پر مل جائے گا ان شا ﷲ۔

پہلی بات تو یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے پیارے رسول ﷲ ﷺ زندگی بھر کبھی بیمار نہیں ہوئے۔ وجہ، آپ مندرجہ ذیل اسباب جان لیں:

(۱) صبح جلدی اُٹھنا:رسول ﷲ ﷺ صبح بہت جلدی اٹھ جایا کرتے تھے بلکہ ایسی کوئی روایت نہیں ملتی کہ آپ ﷺ کی تہجد بھی کبھی قضاء ہوئی ہو۔ سورج نکلنے سے کچھ وقت قبل اور ایک گھنٹہ بعد تک کا وقت آکسیجن سے بھرپورہوتا ہے۔ آج سائنسی تحقیق کی بنیاد پر بھی صحت کے اعتبار سے 24گھنٹوں میں یہ بہترین وقت ہوتا ہے کہ جس میں آپ کو زیادہ سے زیادہ آکسیجن لینے کا موقع ملتا ہے جو کہ آپ کی صحتمند زندگی کے لئے ایک بہت مفید عمل ہے۔

(۲) آنکھوں کا مساج:صبح نیند سے اٹھنے کے بعد رسول ﷲ ﷺ آنکھوں کا مساج فرمایا کرتے تھے۔ باڈی کا پورا نظام گیارہ سسٹم پر مشتمل ہوتا ہے۔ نیند سے اٹھنے کے بعد یہ سسٹم بحال ہونے میں 11 سے 12 منٹ لیتا ہے۔ اگر آپ آنکھوں کا مساج کرتے ہیں تو یہ سسٹم 10 سے 15 سیکنڈ میں فوراً بحال ہوجاتا ہے۔

(۳) بستر پر کچھ دیر بیٹھے رہنا:رسول ﷺ بستر سے اٹھ کر کچھ دیر بیٹھے رہتے تھے اور معمول تھا کہ تین دفعہ سورہ اخلاص پڑھتے تھے کہ جس کو پڑھنے میں تقریباً ایک منٹ صرف ہوتا ہے۔ آج میڈیکل سائنس بتاتی ہے کہ ہمارے دماغ میں ایک capillary ہے کہ جس کے ایک حصے سے دوسرے حصے کیلئے بلڈ کیلئے ایک پل بنتا ہے۔ اس طرح اس پل کے ذریعے سے ہی ہمارے پورے دماغ کو بلڈ کی سپلائی بحال ہوتی ہے کہ جہاں سے ہمارے تمام تر اعصاب یعنی پورا جسم کنٹرول ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص صبح بیدار ہونے پر اچانک اُٹھ کر چل دے جبکہ ابھی برین میں بلڈ کی سپلائی بحال نہیں ہوئی تو اس شخص کو برین ہیمرج ہوسکتا ہے یا وہ برین کے کئی دوسرے پیچیدہ مسائل کا شکار ہوسکتا ہے جس میں اچانک جسم کے کئی حصوں کا مفلوج ہونا (فالج) بھی شامل ہے۔ جبکہ اگر وہ ایک منٹ بیٹھا رہے کہ اس کے دماغ میں بلڈ کی سپلائی بحال ہوسکے تو بہت سے پیچیدہ مسائل سے بچ سکتا ہے۔ یہ باقاعدہ ایک سائنس ہے اور اس ایک حدیث مبارکہ کے پیچھے بہت سے پروفیسر ڈاکٹرز کی ریسرچ شامل ہے، جس سے غیرمسلم ریسرچرز نے بھی اتفاق کیا ہے کہ ہمیں محمد ﷺ کی اس سنت کے مطابق صبح اٹھنے کے بعد بیڈ پر کچھ دیر بیٹھے رہنا چاہئے۔اس کا فائدہ یہ ہے کہ دماغ پوری طرح سے ایکٹو ہوکر ہمارے جسم کی بھرپور رہنمائی کے قابل ہوجاتا ہے۔ یہ سنت مبارکہ ہے‘ جہاں بہت بڑا اَجر و ثواب ہے وہاں صحت کا بہت بڑاراز بھی ہے۔

(۴) قیلولہ کرنا: آپ ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ دوپہر کے کھانے کے بعد ایک گھڑی کے لئے (20 سے 25 منٹ) آ پ ﷺ لیٹ جایا کرتے تھے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ تقریباً 68 فیصد افراد میں جب وہ لنچ کرتے ہیں تو ان کا معدہ تھوڑی مقدار میں الکوحل پیدا کرتا ہے۔ ایسے میں اگر انسان چل پھر رہا ہو تو وہ چکرا کر گر سکتا ہے، یا اس پر خمار کی سی کیفیت طاری ہوسکتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ آپ ہمیشہ دوپہر کے کھانے کے بعد اپنے آپ کو تھوڑا بوجھل محسوس کرتے ہیں۔ اگر ہم کچھ دیر لیٹ جائیں تو الکوحل سے پیدا ہونے والے خمار کا ذہن پر زیادہ دبائو نہیں آئے گا اور وہ باڈی فنکشنز کے لئے زیادہ فعال رہے گا اور ہم کسی بھی طرح کے حادثے سے بچ سکیں گے۔ اس کے علاوہ بھی اس سنت مبارکہ پر عمل نہ کرنے کی صورت میں بہت سے صحت کے مسائل کا خدشہ رہتا ہے۔ چونکہ یہ بات آج تحقیق سے ثابت شدہ ہے اسلئے دُنیا بھر کے ممالک میں بیشتر ایک سے دو یا تین بجے تک دوپہر کا وقفہ کیا جاتا ہے تاکہ لوگ لنچ کے بعد کچھ قیلولہ کرسکیں۔ آج پورا یورپ رسول ﷲ ﷺ کی سنت کو اپنائے ہوئے ہے اور پورے یورپ میں دوپہرا سے ۳ بجے تک کا وقفہ ہوتا ہے۔ اُنھوں نے سنت رسول ﷺ پر ریسرچ کی،اسے اَپنایا اور ہم سے کہیں بہتر صحت کا معیار رکھتے ہیں۔

(۵) کھانے سے پہلے پھل نوش فرمانا:رسول ﷲ ﷺ ہمیشہ کھانا کھانے سے پہلے پھل نوش فرمایا کرتے تھے۔ آپ ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ آپ کھانے کے بعد پھل نوش نہ فرماتے تھے۔ مختلف پھلوں میں 90سے 99 فیصد تک پانی کی مقدار ہوتی ہے آپ ﷺ نے چونکہ کھانا کھانے کے بعد پانی پینے سے منع فرمایا ہے جبکہ کھانے سے قبل پانی پینے کی ترغیب دلائی ہے۔ اس لئے مختلف پھل بھی چونکہ پانی کی بہت زیادہ مقدار رکھتے ہیں اس لئے ان کو کھانے سے پہلے کھانے سے جسم اور خاص طور پر معدہ اور آنتوں کو توانائی ملتی ہے۔ کیونکہ کھانے کو ہضم کرنے میں معدہ اور آنتو ں کا بہت اہم کردار ہوتا ہے اور یہ عمل ان کی کارکردگی بڑھانے میں ان کے لئے مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اور یہ بات بھی سائنسی مشاہدات سے ثابت شدہ ہے۔ فروٹ میں موجود غذائیت سے خالی معدے کو زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔

(۶) غذاکے بعد پانی نہ پینا: رسول ﷲ ﷺ کبھی بھی کھانے کے بعد پانی نہ پیتے تھے۔ آج علم و تحقیق سے جو باتیں سامنے آئی ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ اس سنتِ مبارکہ پر عمل نہ کرنے کے اس قدر نقصانات ہیں کہ گمان بھی نہیں کیا جاسکتا۔ جب ہم کھانے کے بعد پانی پیتے ہیں تو کھانے میں جس قدر بھی فیٹس ہوتے ہیں وہ کھانے سے نکل کر معدے کے اوپر والے حصے کی طرف آجاتے ہیں۔ باقی کھانا ہاضمے کے دوسرے مرحلے کیلئے چھوٹی آنت میں چلا جاتا ہے اور اس طرح معدے میں رہ جانے والا فیٹ اور پروٹین معدےمیں انتہائی نقصان دہ گیسز پیدا کرتے ہیں جبکہ ان سب کو کھانے کے ساتھ مکس ہوکر نظام انہضام کے اگلے مرحلے میں جانا تھا۔ ہم نے پانی پی لیا یا فروٹ کھا لیا تو یہ ہماری صحت کی بربادی کیلئے معدے ہی میں رہ گئے۔ ایک حدیث رسول ﷺ کا مفہوم ہے کہ اگر کھانا کھالینے کے بعد پانی کی حاجت ہو تو محض چند ایک گھونٹ لے لو اور اس کے بعد روٹی کا ایک لقمہ کھالو۔ جاپانی ریسرچ ہے کہ کھانے کے بعد پانی پینے سے جو فیٹ اوپر آرہے تھے اور آپ نے جو بعد میں لقمہ کھالیا تو فیٹس کے اوپر آنے کا سلسلہ نہ صرف وہیں رک جاتا ہے بلکہ وہ دوبارہ غذا کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اس لئے کھانا کھانے کے بعد پانی ہرگز نہیں پینا چاہئے کہ جو پیٹ میں نہ صرف گیسز، تیزابیت، بدہضمی کا باعث بنتے ہیں بلکہ دل کے بہت سے امراض کا تعلق بھی اسی سنت مبارکہ پر عمل نہ کرنے کے سبب سے ہی ہے۔ 


 


حدیث اور سائنس

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق



حدیث اور سائنس

حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور سائنس کے اعترافات

جنین کی نشوونما کے پہلے چالیس دن :

ڈاکٹر جولے سمپسن ، ہیوسٹن ( امریکہ ) کے بیلور کالج آف میڈیسن میں شعبہ حمل و زچگی و امراض نسوانی ( Ob-Gyn ) کے چیئرمین اور سالماتی و انسانی توارث کے پروفیسر ہیں ، اس سے پہلے وہ میمفس کی یونیورسٹی آف ٹینٹیسی میں شعبہ ” اوب گائن “ کے پروفیسر اور چیئرمین رہے ، وہ امریکی باروری انجمن کے صدر بھی تھے ۔ 1992ءمیں انہیں کئی ایوارڈ ملے ، جن میں ایسوسی ایشن آف پروفیسرز آف اوب گائن پبلک ریلکنیشن ایوارڈ بھی شامل تھا ۔ پروفیسر سمپسن نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی درج ذیل دواحادیث کا مطالعہ کیا ۔
(( ان احدکم یجمع خلقہ ، فی بطن امہ اربعین یوما )) ( صحیح البخاری ، بدءالخلق ، باب ذکر الملائکۃ ، حدیث : 3208 ، صحیح مسلم ، القدر ، باب کیفیۃ خلق الآدمی ، حدیث : 2643 )
” تم میں سے ہر ایک کی تخلیق کے تمام اجزاءاس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک ( نطفے کی صورت ) میں جمع رہتے ہیں ۔ “
(( اذا مر بالنطفۃ اثنتان واربعون لیلۃ ، بعث اللہ الیھا ملکا ، فصورھا وخلق سمعھا وبصرھا وجلدھا ولحمھا وعظامھا )) ( صحیح مسلم ، القدر ، باب کیفیۃ خلق الآدمی.... حدیث : 2645 )
” جب نطفہ قرار پائے بیالیس راتیں گزر جاتی ہیں تو اللہ ایک فرشتے کو اس کے پاس بھیجتا ہے جو ( اللہ کے حکم سے ) اس کی شکل و صورت بناتا ہے ، اور اس کے کان ، اس کی آنکھیں ، اس کی جلد ، اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں بناتا ہے ۔ “

پروفیسر سمپسن ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دوحدیثوں کا بالاستیعاب مطالعہ کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ جنین کے پہلے چالیس دن اس کی تخلیق کے ناقابل شناخت مرحلے پر مشتمل ہوتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان احادیث میں جس قطعیت اور صحت کے ساتھ جنین کی نشوونما کے مراحل بیان کئے گئے ہیں ان سے وہ خاص طور پر متاثر ہوئے ، پھر ایک کانفرنس کے دوران انہوں نے اپنے درج ذیل تاثرات پیش کئے ۔

دونوں احادیث جو مطالعے میں آئی ہیں ، وہ ہمیں پہلے چالیس دنوں میں بیشتر جنینی ارتقاءکا متعین ٹائم ٹیبل فراہم کرتی ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ آج صبح دوسرے مقررین نے بھی بار بار اس نکتے کو دہرایا ہے ۔ یہ احادیث جب ارشاد فرمائی گئیں اس وقت کے میسر سائنسی علم کی بنا پر اس طرح بیان نہیں کی جا سکتی تھیں ۔ میرے خیال میں اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ نہ صرف جینیات ( Genetics ) اور مذہب کے درمیان کوئی تصادم نہیں ، درحقیقت ، مذہب بعض روایتی سائنسی نقطہ نظر کو الہام سے تقویت پہنچا کر سائنس کی رہنمائی کر سکتا ہے اور یہ کہ قرآن میں ایسے بیانات موجود ہیں جو صدیوں بعد درست ثابت ہوئے اور جو اس امر کا ثبوت ہیں کہ قرآن میں دی گئی معلومات اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی گئی ہیں ۔
انگلیوں کے پوروں پر جراثیم کش پروٹین :

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
(( اذا اکل احدکم من الطعام فلا یمسح یدہ حتی یلعقھا او یلعقھا )) ( صحیح مسلم ، الاشربۃ ، باب استحباب لعق الاصابع.... حدیث : 2031 )
” جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو وہ اپنا ہاتھ نہ پونچھے یہاں تک کہ اسے ( انگلیاں ) چاٹ لے یا چٹوالے ۔ “
کھانے کے بعد انگلیاں چاٹنے کا حکم پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ صدیاں پہلے دیا اور اس میں جو حکمت کار فرما ہے اس کی تصدیق طبی سائنسدان اس دور میں کر رہے ہیں ۔
ایک خبر ملاحظہ کیجئے :

جرمنی کے طبی ماہرین نے تحقیق کے بعد یہ اخذ کیا ہے کہ انسان کی انگلیوں کے پوروں پر موجود خاص قسم کی پروٹین اسے دست ، قے اور ہیضے جیسی بیماریوں سے بچاتی ہے ۔ ماہرین کے مطابق وہ بیکٹیریا جنہیں ” ای کولائی “ کہتے ہیں ، جب انگلیوں کی پوروں پر آتے ہیں تو پوروں پر موجود پروٹین ان مضر صحت بیکٹیریا کو ختم کر دیتی ہے ۔ اس طرح یہ جراثیم انسانی جسم پر رہ کر مضر اثرات پیدا نہیں کرتے خاص طور پر جب انسان کو پسینہ آتا ہے تو جراثیم کش پروٹین متحرک ہو جاتی ہے ۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہ پروٹین نہ ہوتی تو بچوں میں ہیضے ، دست اور قے کی بیماریاں بہت زیادہ ہوتیں ۔ ( روزنامہ نوائے وقت 30 جون 2005ء )

اہل مغرب کھانے کے بعد انگلیاں چاٹنے کے فعل کو غیرصحت مند ( Unhigienic ) قرار دے کر اس پر حرف گیری کرتے رہے ہیں ، لیکن اب سائنس اس کی تصدیق کر رہی ہے کہ یہ عمل تو نہایت صحت مند ہے کیونکہ انگلیاں منہ کے اندر نہیں جاتیں اور یوں منہ کے لعاب سے آلودہ نہیں ہوتیں ۔ نیز انگلیوں کے پوروں پر موجود پروٹین سے مضر بیکٹیریا بھی ہلاک ہو جاتے ہیں ۔ اس کے برعکس چمچے یا کانٹے سے کھانا کھائیں تو وہ بار بار منہ کے لعاب سے آلودہ ہوتا رہتا ہے اور یہ بے حد غیرصحت مند عمل ہے ، جب اللہ تعالیٰ نے انگلیوں کے پوروں پر جراثیم کش پروٹین پیدا کی ہے تو ہاتھ سے کھانا اور کھانے کے بعد انگلیاں چاٹنا دونوں صحت مند افعال ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ بالا حدیث میں انہی دو باتوں پر عمل کی تلقین کی گئی ہے ، یعنی ( 1 ) کھانا ہاتھ ( دائیں ) سے کھایا جائے ، ( 2 ) ہاتھ پونچھنے سے پہلے انگلیاں چاٹی جائیں ۔

دائیں ہاتھ سے کھانے اور اس کے بعد انگلیاں چاٹنے کی اس اسلامی روایت بلکہ سنت کو عربوں نے اب تک زندہ رکھا ہوا ہے جسے ماضی میں یورپ والے غیر صحت منع عمل ٹھہراتے رہے ، مگر اب انہی کے طبی محققین کی تحقیق کہہ رہی ہے کہ یہ ہرگز مضر عمل نہیں بلکہ عین صحت مند اور فائدہ مند ہے ۔
کتا چاٹ جائے تو برتن کو مٹی سے دھونے کا حکم :

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
(( طھور اناءاحدکم اذا ولغ فیہ الکلب ان یغسلہ سبع مرات اولاھن بالتراب )) ( صحیح مسلم ، الطھارۃ ، باب حکم ولوغ الکلب ، حدیث : 279 )
مسلم کی ایک اور روایت میں ہے : فلیرقۃ اسے چاہئے کہ اس ( میں موجود کھانے یا پانی ) کو بہاد دے ۔ “ ( مسلم ، الطھارۃ ، باب حکم ولوغ الکلب ، حدیث : 279(89) )

اور ترمذی کی روایت میں ہے :
(( اولاھن او اخراھن بالتراب )) ( جامع الترمذی ، باب ما جاءفی سور الکلب ، حدیث : 91 )
” پہلی یا آخری بار مٹی کے ساتھ دھونا چاہئے ۔ “
اس کی توضیح بلوغ المرام من ادلۃ الاحکام ( انگریزی ) میں یوں کی گئی ہے :

یہ واضح رہے کہ کسی چیز کی محض ناپاکی سے صفائی کے لئے اسے سات دفعہ دھونا ضروری نہیں ، کسی چیز کو سات دفعہ دھونے کا فلسفہ محض صفائی کرنے سے مختلف ہے ۔ آج کے طبی ماہرین کہتے ہیں کہ کتے کی آنتوں میں جراثیم اور تقریبا 4 ملی میٹر لمبے کیڑے ہوتے ہیں جو اس کے فضلے کے ساتھ خارج ہوتے ہیں اور اس کے مقعد کے گرد بالوں سے چمٹ جاتے ہیں ، جب کتا اس جگہ کو زبان سے چاٹتا ہے تو زبان ان جراثیم سے آلودہ ہو جاتی ہے ، پھر کتا اگر کسی برتن کو چاٹے یا کوئی انسان کتے کا بوسہ لے جیسا کہ یورپی اور امریکی عورتیں کرتی ہیں تو جراثیم کتے سے اس برتن یا اس عورت کے منہ میں منتقل ہو جاتے ہیں اور پھر وہ انسان کے معدے میں چلے جاتے ہیں ، یہ جراثیم آگے متحرک رہتے ہیں اور خون کے خلیات میں گھس کر کئی مہلک بیماریوں کا باعث بنتے ہیں چونکہ ان جراثیم کی تشخیص خوردبینی ٹیسٹوں کے بغیر ممکن نہیں ۔ شریعت نے ایک عام حکم کے تحت کتے کے لعاب کو فی نفسہ ناپاک قرار دیا اور ہدایت کی کہ جو برتن کتے کے لعاب سے آلودہ ہو جائے اسے سات بار ضرور صاف کیا جائے اور ان میں سے ایک بار مٹی کے ساتھ دھویا جائے ۔ ( بلوغ المرام من ادلۃ الاحکام ) ( انگریزی ) مطبوعہ دارالسلام ، صفحہ : 16 حاشیہ : 1 )
مکھی کے ایک پر میں بیماری ، دوسرے میں شفا :

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
(( اذا وقع الذباب فی شراب احدکم فلیغمسہ ثم لینزعہ فان فی احدی جناحیہ داءوفی الاخرٰی شفاء )) ( صحیح البخاری ، بدءالخلق ، باب اذا وقع الذباب.... حدیث : 3320 )
” اگر تم میں سے کسی کے مشروب ( پانی ، دودھ وغیرہ ) میں مکھی گر پڑے تو اسے چاہئے کہ اس کو مشروب میں ڈبکی دے ، پھر اسے نکال پھینکے ، کیوں کہ اس کے ایک پر میں بیماری ہے تو دوسرے میں شفا ۔ “

ڈاکٹر محمد محسن خاں اس ضمن میں لکھتے ہیں : ” طبی طور پر اب یہ معروف بات ہے کہ مکھی اپنے جسم کے ساتھ کچھ جراثیم اٹھائے پھرتی ہے ، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے 1400 سال پہلے بیان فرمایا جب انسان جدید طب کے متعلق بہت کم جانتے تھے ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے کچھ عضوےے ( Organisms ) اور دیگر ذرائع پیدا کئے جو ان جراثیم ( Pathogenes ) کو ہلاک کر دیتے ہیں ، مثلاً پنسلین پھپھوندی اور سٹیفائلو کوسائی جیسے جراثیم کو مار ڈالتی ہے ۔ حالیہ تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک مکھی بیماری ( جراثیم ) کے ساتھ ساتھ ان جراثیم کا تریاق بھی اٹھائے پھرتی ہے ۔ عام طور پر جب مکھی کسی مائع غذا کو چھوتی ہے تو وہ اسے اپنے جراثیم سے آلودہ کر دیتی ہے لہٰذا اسے مائع میں ڈبکی دینی چاہئے تا کہ وہ ان جراثیم کا تریاق بھی اس میں شامل کر دے جو جراثیم کامداوا کرے گا ۔

میں نے اپنے ایک دوست کے ذریعے اس موضوع پر جامعۃ الازہر قاہرہ ( مصر ) کے عمید قسم الحدیث ( شعبہ حدیث کے سربراہ ) محمد السمحی کو خط بھی لکھا جنہوں نے اس حدیث اور اس کے طبی پہلوؤں پر ایک مضمون تحریر کیا ہے ۔ اس میں انہوں نے بیان کیا ہے کہ ماہرین خرد حیاتیات ( Microbiologists ) نے ثابت کیا ہے کہ مکھی کے پیٹ میں خامراتی خلیات ( Yeast Cells ) طفیلیوں ( Parasites ) کے طور پر رہتے ہیں اور یہ خامراتی خلیات اپنی تعداد بڑھانے کے لئے مکھی کی تنفس کی نالیوں ( Repiratory Tubules ) میں گھسے ہوتے ہیں اور جب مکھی مائع میں ڈبوئی جائے تو وہ خلیات نکل کر مائع میں شامل ہو جاتے ہیں ، اور ان خلیات کا مواد ان جراثیم کا تریاق ہوتا ہے جنہیں مکھی اٹھائے پھرتی ہے ۔ ( مختصر صحیح البخاری ) ( انگریزی ) مترجم ڈاکٹر محمد حسن خاں ، ص : 656 حاشیہ : 3 )

اس سلسلے میں ” الطب النبوی صلی اللہ علیہ وسلم لابن القیم “ کے انگریزی ترجمہ : Healing with the Madicine of the Prophet طبع دارالسلام الریاض میں لکھا ہے :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ مکھی خوراک میں گر پڑے تو اسے اس میں ڈبویا جائے ، اس طرح مکھی مر جائے گی ، بالخصوص اگر غذا گرم ہو ، اگر غذا کے اندر مکھی کی موت غذا کو ناپاک بنانے والی ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے پھینک دینے کا حکم دیتے اس کے برعکس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے محفوظ بنانے کی ہدایت کی ۔ شہد کی مکھی ، بھڑ ، مکڑی اور دیگر کیڑے بھی گھریلو مکھی کے ذیل میں آتے ہیں ، کیوں کہ اس حدیث سے ماخوذ حکم نبوی صلی اللہ علیہ وسلم عام ہے ۔ مردہ جانور ناپاک کیوں ہیں ؟ اس کی توجیہ یہ ہے کہ ان کا خون ان کے جسموں کے اندر رہتا ہے ، اس لئے کیڑے مکوڑے یا حشرات جن میں خون نہیں ہوتا وہ پاک ہیں ۔

بعض اطباءنے بیان کیا ہے کہ بچھو اور بھڑ کے کاٹے پر گھریلو مکھی مل دی جائے تو اس شفا کی وجہ سے آرام آ جاتا ہے جو اس کے پروں میں پنہاں ہے ، اگر گھریلو مکھی کا سر الگ کر کے جسم کو آنکھ کے پپوٹے کے اندر رونما ہونے والی پھنسی پر ملا جائے تو انشاءاللہ آرام آجائے گا ۔ ( الطب النبوی : 105,104 )
طاعون زدہ علاقے سے دور رہنے کا حکم اور اس کی حکمت :

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
(( الطاعون رجز ، ارسل علی بنی اسرائیل ، او علی من کان قبلکم فاذا سمعتم بہ بارض فلا تقدموا علیہ ، واذا وقع بارض وانتم بھا ، فلا تخرجوا فرارا منہ )) ( صحیح مسلم ، الطب ، باب الطاعون ، حدیث : 2218 )
” طاعون عذاب ہے ، جو بنی اسرائیل کے ایک گروہ پر اور تم سے پہلوں پر نازل ہوا ، چنانچہ جب تم سنو کہ کسی علاقے میں طاعون پھیلا ہوا ہے تو وہاں نہ جاؤ اور جب وہ اس علاقے میں پھوٹ پڑے جہاں تم مقیم ہو تو فرار ہو کر اس علاقے سے باہر مت جاؤ ۔ “

صحیحین ہی کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
(( الطاعون شھادۃ لکل مسلم )) ( صحیح البخاری ، الطب ، باب ما یذکر من الطاعون ، حدیث : 5732 )
” طاعون ہر مسلم کے لئے شہادت ہے ۔ “

طبی اصطلاح میں طاعون ایک مہلک گلٹی ہے جو بہت شدید اور تکلیف دہ متعدی عارضہ ہے اور یہ تیزی سے متاثرہ حصے کے رنگ کو سیاہ ، سبز یا بھورے رنگ میں تبدیل کر دیتا ہے پھر جلد ہی متاثرہ حصے کے اردگرد زخم نمودار ہونے لگتے ہیں ۔ طاعون عموماً جسم کے تین حصوں ، بغلوں ، کان کے پیچھے اور ناک پھنک یا جسم کی نرم بافتوں ( Tissues ) پر حملہ کرتا ہے ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے طاعون کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا :
(( غدۃ ، کغدۃ البعیر یخرج فی المراق والابط )) ( التمھید لابن عبدالبر : 6/212 )
” یہ ایک گلٹی ہے ، جو اونٹ کی گلٹی سے مشابہ ہے اور جو پیٹ کے نرم حصوں اور بغلوں میں نمودار ہوتی ہے ۔ “

امام ابن القیم الجوزیہ رحمہ اللہ کی تصنیف الطب النبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ” نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو طاعون زدہ علاقے میں داخل نہ ہونے کا حکم دیا ہے ، کے زیر عنوان لکھا ہے :
طاعون کے نتیجے میں جسم میں تعدیہ یا عفونت ( Infection ) زخم ( Ulcers ) اور مہلک رسولیاں نمودار ہوتی ہیں ، اطباءاپنے مشاہدے کی رو سے انہیں طاعون کی علامات قرار دیتے ہیں ۔ طبی ماہرین کہتے ہیں کہ طاعون کی وبا سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ جسم کو مضر رطوبتوں سے نجات پانے میں مدد دی جائے ۔ اسے پرہیزی غذا ملے اور جسم کی خشکی عموماً محفوظ رہے ۔ انسانی جسم میں مضر مادے ہوتے ہیں جو بھاگ دوڑ اور غسل کرنے سے متحرک ہو جاتے ہیں پھر وہ جسم کے مفید مادوں سے مل کر کئی بیماریوں کا باعث بنتے ہیں ، اس لئے جب کسی جگہ طاعون حملہ آور ہو تو وہیں ٹھہرنے میں عافیت ہے تا کہ انسان کے جسم میں مضر مادے متحرک نہ ہوں ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو طاعون سے متاثرہ علاقے میں نہ جانے یا وہیں ٹھہرنے کا جو حکم دیا ، اس میں بڑی حکمت پنہاں ہے ، اس کا مقصد یہ ہے :
( 1 ) آدمی نقصان اور نقصان کا باعث بننے والی شے سے بچ جائے ۔

( 2 ) اپنی صحت برقرار رکھے ، کیوں کہ ضرورت زندگی کے حصول اور عاقبت کے تقاضے پورے کرنے کا دارومدار اسی پر ہے ۔

( 3 ) آلودہ اور مضر ہوا میں سانس لے کر بیمار نہ پڑ جائے ۔

( 4 ) طاعون سے متاثرہ لوگوں سے میل ملاپ سے احتراز کرے ، تا کہ خود اسے طاعون نہ آئے ۔

( 5 ) جسم اور روح کی چھوت اور توہم سے تحفظ ہو ، جن کا نقصان صرف انہیں ہوتا ہے جو ان پر یقین رکھتے ہوں ۔

غرض یہ کہ طاعون سے متاثرہ علاقے میں داخل ہونے کی ممانعت ایک احتیاطی تدبیر اور ایک طرح کی پرہیزی غذا ہے ، جو انسان کو نقصان کی راہ سے پرے رکھتی ہے ، اور یہ طاعون سے متاثرہ علاقہ چھوڑ کر جانے کا نہیں بلکہ اللہ کی رضا اور اس کے فیصلوں کے آگے سرجھکانے کا سبق ہے ۔ 

Saturday, March 9, 2024

احادیث میں صحت کاراز

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق



today news

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق 📰 آج ک...