Showing posts with label بلند شخصیتیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی کہانی. Show all posts
Showing posts with label بلند شخصیتیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی کہانی. Show all posts

Wednesday, August 12, 2026

حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا نسب

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء
اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق

حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا نسب

خدیجہ نام، ام ہند کنیت اور طاہرہ لقب تھا۔ سلسلہ نسب اس طرح ہے: حضرت خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی۔ قصی پر پہنچ کر آپ کا خاندان رسول اللہ ﷺ کے خاندان سے مل جاتا ہے۔

آپ کی والدہ کا نام فاطمہ بنت زائدہ تھا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے والد اپنے قبیلے میں نہایت معزز شخص تھے۔ وہ مکہ آکر مقیم ہوئے اور عبدالدار بن قصی کے حلیف بنے۔ یہیں فاطمہ بنت زائدہ سے شادی ہوئی۔

بحوالہ: طبقات ابن سعد، جلد 8، صفحات 8، 10

طاہرہ کا لقب

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سن شعور کو پہنچیں تو اپنے پاکیزہ اخلاق اور پاکیزگی کی بنا پر طاہرہ کے لقب سے مشہور ہوئیں۔

بحوالہ: الاصابہ، جلد 8، صفحہ 60

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا نکاح

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے شریفانہ اخلاق اور دولت و ثروت نے قریش کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔ بہت سے لوگ آپ سے نکاح کے خواہش مند تھے، لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے رسول اللہ ﷺ کو منتخب فرمایا۔

رسول اللہ ﷺ تجارت کے سلسلے میں ملک شام سے واپس آئے تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے شادی کا پیغام بھیجا۔ نفیسہ بنت مینہ اس خدمت پر مامور ہوئیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اس پیغام کو منظور فرمایا۔

بحوالہ: طبقات ابن سعد، جلد 1، صفحہ 84

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے والد وفات پاچکے تھے، تاہم ان کے چچا عمرو بن اسد زندہ تھے۔ مقررہ تاریخ پر حضرت ابوطالب اور خاندان کے دیگر بزرگ تشریف لائے۔ حضرت ابوطالب نے خطبۂ نکاح پڑھا اور مہر مقرر ہوا۔ اس طرح حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو حرمِ نبوت اور ام المؤمنین ہونے کا شرف حاصل ہوا۔

اہم بات: رسول اللہ ﷺ کی عمر مبارک اس وقت 25 سال تھی۔
بحوالہ: صحیح بخاری، جلد 1، صفحات 2، 3

سب سے پہلے ایمان لانے کا شرف

جب رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل ہوئی اور آپ ﷺ نے نبوت کے فرائض ادا کرنا شروع فرمائے تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو سب سے پہلے یہ پیغام سنایا گیا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کی صداقت پر پہلے ہی ایمان رکھتی تھیں۔

سبحان اللہ! حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کی صداقت کی گواہی دیتے ہوئے آپ ﷺ کی بھرپور حمایت فرمائی۔
بحوالہ: صحیح بخاری، کتاب بدء الوحی

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی اولاد

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ ﷺ کی اولاد میں دو صاحبزادے اور چار صاحبزادیاں ہوئیں۔

  • حضرت قاسم رضی اللہ عنہ
  • حضرت زینب رضی اللہ عنہا
  • حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ
  • حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا
  • حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا
  • حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا
بحوالہ: طبقات ابن سعد، جلد 8، صفحہ 11

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نکاح کے بعد تقریباً 25 برس تک رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہیں۔ ہجرت سے تقریباً تین سال قبل آپ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا۔ رسول اللہ ﷺ کے لیے یہ بہت بڑا صدمہ تھا، کیونکہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کی عظیم غمگسار اور مددگار تھیں۔

چونکہ اس وقت نمازِ جنازہ مشروع نہیں ہوئی تھی، اس لیے آپ رضی اللہ عنہا کو دفن کیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ خود آپ رضی اللہ عنہا کی قبر میں اترے۔

بحوالہ: طبقات ابن سعد، جلد 8، صفحہ 11

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حالاتِ زندگی

رسول اللہ ﷺ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کی پہلی زوجہ تھیں۔ ان کی وفات کے بعد رسول اللہ ﷺ بہت غمگین رہتے تھے۔ حضرت خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کو نکاح کی ترغیب دی اور حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا۔

حضرت خولہ رضی اللہ عنہا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے گئیں اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کا پیغام پہنچایا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ابتدا میں ایک شرعی مسئلہ دریافت کیا، پھر رسول اللہ ﷺ کی وضاحت کے بعد اس رشتے کو قبول فرمایا۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا علم، فہم، ذہانت اور دینی بصیرت کے اعتبار سے امت کی عظیم خواتین میں شمار ہوتی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہا سے بہت سی احادیث مروی ہیں اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم آپ سے مسائل دریافت کرتے تھے۔

سادگی سے نکاح

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کے واقعات میں سادگی نمایاں نظر آتی ہے۔ اسلامی نکاح میں غیر ضروری تکلف، فضول خرچی اور دکھاوے کے بجائے سادگی اور شرعی طریقے کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔

اسلامی پیغام:
نکاح کو آسان بنایا جائے، فضول خرچی اور غیر ضروری رسم و رواج سے بچا جائے اور مہر کو عورت کا شرعی حق سمجھا جائے۔

مہر عورت کا حق ہے

مہر عورت کا شرعی حق ہے اور شوہر پر لازم ہے کہ اسے ادا کرے۔ نکاح کے معاملات میں مہر کو محض رسمی چیز سمجھنے کے بجائے عورت کے حق کے طور پر ادا کرنا چاہیے۔

ہجرت اور مدینہ منورہ

ہجرت کے موقع پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف سفر فرمایا۔ بعد میں اہل خانہ کو بھی مدینہ منورہ منتقل کیا گیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی اپنے اہل خانہ کے ساتھ مدینہ منورہ تشریف لائیں۔

نکاح میں سادگی کا پیغام

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے نکاح اور رخصتی کے واقعات سے نکاح میں سادگی کی اہمیت کا سبق ملتا ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ نکاح کو غیر ضروری اخراجات، نمود و نمائش اور فضول رسموں سے محفوظ رکھیں۔

وَفِي ذَٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ
اور اسی میں سبقت لے جانے والوں کو سبقت کرنی چاہیے۔
سورۃ المطففین: 26

سبق اور نصیحت

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی زندگی سے وفاداری، قربانی، پاکیزگی، رسول اللہ ﷺ کی نصرت اور دین کے لیے مال و جان پیش کرنے کا سبق ملتا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی زندگی سے علم، فہم، دینی بصیرت اور سادگی جیسے عظیم اسباق حاصل ہوتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں صحابیاتِ کریمات رضی اللہ عنہن کی سیرت سے سبق حاصل کرنے اور اپنی زندگی کو قرآن و سنت کے مطابق گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

رضی اللہ عنہن اجمعین

Saturday, July 18, 2026

میثاقِ مدینہ

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق

ميثاق المدينة المنورة

 

 میثاقِ مدینہ

 میثاق مدینہ
میثاق مدینہ کو بجا طور پر تاریخ انسانی کا پہلا تحریری دستور قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ 730 الفاظ پر مشتمل ایک جامع دستور ہے
 جو ریاست مدینہ کا آئین تھا۔ 622ء میں ہونے والے اس معاہدے کی 53دفعات تھیں۔ یہ معاہدہ اور تحریری دستور مدینہ کے قبائل (بشمول یہود و نصاریٰ) کے درمیان جنگ نہ کرنے کا بھی عہد تھا۔
 معاہدے کا بکثرت ثبوت پوری تفصیل کے ساتھ کتبِ تواریخ میں ملتا ہے مگر اس کے باوجود مغربی مصنفین اسے نظر انداز کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔

 The Charter of Madinah (Constitution of Madinah)

For a detailed article, see: The Charter of Madinah

The Charter of Madinah is widely regarded as the first written constitution in human history. It was a comprehensive document consisting of approximately 730 words and served as the constitution of the State of Madinah.

Concluded in 622 CE, the Charter contained 53 clauses. It established a peaceful agreement among the tribes of Madinah, including Muslims, Jews, and Christians, committing them to mutual cooperation and to refraining from warfare against one another. It also defined the rights and responsibilities of the different communities living in the city.

Extensive historical evidence of this treaty is found in classical books of Islamic history. Nevertheless, some Western writers have attempted to overlook or minimize its historical significance.

Life in Madinah part.9

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق

مدنی زندگی

ہجرت

 
مدنی زندگی

ہجرت

622ء تک مسلمانوں کےلئے مکہ میں رہنا ممکن نہیں رہا تھا۔ کئی دفعہ مسلمانوں اور خود حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تکالیف دیں گئیں۔
 اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسلمانوں کو مدینہ ہجرت کرنے کی اجازت دے دی۔
 آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اللہ کے حکم سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ ستمبر 622ء میں مدینہ کی طرف روانہ ہوئے اور مدینہ میں اپنی جگہ حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کو امانتوں کی واپسی کے لیے چھوڑا۔
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مدینہ پہنچنے پر ان کا انصار نے شاندار استقبال کیا اور اپنے تمام وسائل پیش کر دیے۔
 جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ پہنچے تو انصار استقبال کے لیے آئے اور خواتین چھتوں پر سے دیکھ رہی تھیں۔
 اور دف بجا کر کچھ اشعار پڑھ رہی تھیں جن کا ترجمہ یہ ہے۔

    ہم پر چودھویں کی رات کا چاند طلوع ہوگیا وداع کی پہاڑیوں سے ہم پر شکر واجب ہے جب تک کوئی اللہ کو پکارنے والا باقی رہے۔
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اونٹنی حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر کے سامنے رکی اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے گھر قیام فرمایا۔

 جس جگہ اونٹنی رکی تھی اسے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قیمتاً خرید کر ایک مسجد کی تعمیر شروع کی جو مسجد نبوی کہلائی۔

 اس تعمیر میں انہوں نے خود بھی حصہ لیا۔ یہاں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسلمانوں کے درمیان عقدِ مؤاخات کیا یعنی مسلمانوں کو اس طرح بھائی بنایا کہ انصار میں سے ایک کو مہاجرین میں سے ایک کا بھائی بنایا۔

خود حضرت علی علیہ السلام کو اپنا بھائی قرار دیا۔ انصار نے مہاجرین کی مثالی مدد کی۔
ہجرت کے ساتھ ہی اسلامی تقویم کا آغاز بھی ہوا۔ آپ کے مدینہ آنے سے، اوس اور خزرج، یہاں کے دو قبائل جن نے بعد میں اسلام قبول بھی کیا میں لڑائی جھگڑا ختم ہوا اور ان میں اتحاد اور بھائی چارہ پیدا ہو گیا۔
 اس کے علاوہ یہاں کچھ یہودیوں کے قبائل بھی تھے جو ہمیشہ فساد کا باعث تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آنے کے بعد یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان ہونے والے معاہدہ 'میثاق مدینہ' نے مدینہ میں امن کی فضا پیدا کر دی۔ اسی دور میں مسلمانوں کو کعبہ کی طرف نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا،
 اس سے پہلے مسلمان بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرتے تھے جو کہ یہودیوں کا بھی قبلہ تھا۔

 

Life in Madinah

The Hijrah (Migration)

By 622 CE, it had become impossible for Muslims to continue living in Makkah due to the increasing persecution they faced. The Muslims, including Prophet Muhammad (peace and blessings be upon him), were subjected to repeated hardships and oppression. Therefore, the Prophet (peace and blessings be upon him) granted the Muslims permission to migrate to Madinah.

By the command of Allah, Prophet Muhammad (peace and blessings be upon him) set out for Madinah in 622 CE accompanied by Abu Bakr As-Siddiq (may Allah be pleased with him). Before leaving, he entrusted Ali ibn Abi Talib (may Allah be pleased with him) with returning the valuables and trusts that had been left in his care by the people of Makkah.

When the Prophet (peace and blessings be upon him) arrived in Madinah, he received a warm and joyful welcome from the Ansar (the Helpers), who generously offered their homes and resources to the Muslim emigrants. Men, women, and children came out to greet him, and women watched from the rooftops while people sang words of welcome and gratitude.

The Prophet's camel stopped in front of the house of Abu Ayyub al-Ansari (may Allah be pleased with him), where the Prophet stayed as his guest. He then purchased the land where the camel had knelt and began the construction of Al-Masjid an-Nabawi (the Prophet's Mosque), personally participating in its construction.

The Prophet (peace and blessings be upon him) also established the brotherhood (Mu'akhah) between the Muhajirun (the Emigrants) and the Ansar, pairing each emigrant with a helper from Madinah. He declared Ali ibn Abi Talib to be his own brother. The Ansar set a remarkable example of generosity and support toward the Muhajirun.

The Islamic (Hijri) calendar begins with the Hijrah. After the Prophet's arrival, the long-standing conflicts between the tribes of Aws and Khazraj came to an end, and unity and brotherhood were established among them after they embraced Islam.

Several Jewish tribes also lived in Madinah. To ensure peaceful coexistence among the city's communities, the Prophet established the Constitution of Madinah (Mithaq al-Madinah), which promoted peace, mutual rights, and cooperation.

During this period, Allah commanded the Muslims to change the Qiblah (direction of prayer) from Jerusalem (Bayt al-Maqdis) to the Kaaba in Makkah. Before this command, Muslims had offered their prayers facing Jerusalem.

معراج Muhammad nabi part.8

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق

معراج


مسجدِ اقصیٰ، جہاں سے سفرِ معراج کی ابتداء ہوئی
620ء میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم معراج پر تشریف لے گئے۔
 اس سفر کے دوران آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ سے مسجد اقصیٰ گئے اور وہاں تمام انبیائے کرام کی نماز کی امامت فرمائی۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آسمانوں میں اللہ تعالٰی سے ملاقات کرنے تشریف لے گئے۔
 وہاں اللہ تعالٰی نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جنت اور دوزخ دکھائی۔ وہاں آپکی ملاقات مختلف انبیائے کرام سے بھی ہوئی۔ اسی سفر میں نماز بھی فرض ہوئی۔

Al-Isra and Al-Mi'raj (The Night Journey and Ascension)

In 620 CE, Prophet Muhammad (peace and blessings be upon him) was honored with the miraculous journey of Al-Isra and Al-Mi'raj.

During this blessed journey, he traveled from Makkah to Al-Masjid Al-Aqsa (the Farthest Mosque) in Jerusalem, where he led all the previous prophets in prayer.

After that, the Prophet (peace and blessings be upon him) ascended through the heavens by the command of Allah. During this heavenly journey, he met several prophets and was shown the signs of Allah's creation, including Paradise and Hell.

It was during this miraculous journey that Allah made the five daily prayers (Salah) obligatory upon the Muslim community.


Muhammad nabi part.7

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق

مخالفت
جیسے جیسے اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی مقامی قبیلوں اور لیڈروں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے لئے خطرہ سمجھنا شروع کر دیا۔
 ان کی دولت اور عزت کعبہ کی وجہ سے تھی۔ اگر وہ اپنے بت کعبے سے باہر پھینک کر ایک اللہ کی عبادت کرنے لگتے تو انہیں خوف تھا کہ تجارت کا مرکز ان کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے قبیلے سے بھی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا کونکہ وہ ہی کعبے کے رکھوالے تھے۔
قبائل نے ایک معاہدہ کے تحت مسلمانوں کا معاشی اور معاشرتی بائیکاٹ کیا یہاں تک کہ مسلمان تین سال شعبِ ابی طالب میں محصور رہے۔
 یہ بائیکاٹ اس وقت ختم ہوا جب کعبہ پر لٹکے ہوئے معاہدے میں یہ دیکھا گیا کہ لفظ 'اللہ' کے علاوہ تمام حروف دیمک کی وجہ سے کھائے گئے ہیں۔
جب مخالفت حد سے بڑھ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو حبشہ جہاں ایک عیسائی بادشاہ حکومت کرتا تھا کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دے دی۔
619ء میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیوی حضرت خدیجہ اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیارے چچا حضرت ابوطالب انتقال فرما گئے۔
 اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سال کو عام الحزن یعنی دکھ کا سال قرار دیا۔




Monday, July 13, 2026

پہلی وحی

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق


Prophethood (The First Revelation)

Prophet Muhammad (peace and blessings be upon him) used to go to the Cave of Hira, outside Makkah, for reflection and contemplation.

The Cave of Hira is located on Mount Hira. In 610 CE, the Angel Jibreel (Gabriel), peace be upon him, came to Prophet Muhammad ﷺ with the first revelation. At that time, the opening verses of Surah Al-‘Alaq were revealed, which have been mentioned earlier. The Prophet ﷺ was approximately forty years old at the time.

Among the first to believe in Prophet Muhammad ﷺ were Hazrat Khadijah (may Allah be pleased with her), his cousin Hazrat Ali (may Allah be pleased with him), his close friend Hazrat Abu Bakr As-Siddiq (may Allah be pleased with him), and his freed companion Hazrat Zaid (may Allah be pleased with him).

The first person from outside Makkah to accept Islam was Hazrat Abu Dharr Al-Ghifari (may Allah be pleased with him).

At first, Prophet Muhammad ﷺ preached the message of Islam among his close companions and relatives. Approximately three years after the first revelation, following the invitation to his close relatives, he began openly preaching the message of Islam.

Many people opposed him, but gradually, some people continued to accept the invitation and message of Islam.

بعثت (پہلی وحی)
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غوروفکر کے لئے مکہ سے باہر ایک غار حرا میں تشریف لے جاتے تھے۔
 یہ کوہ حرا کا ایک غار ہے جسے کوہِ فاران بھی کہا جاتا تھا۔ 610ء میں فرشتہ جبرائیل علیہ السلام پہلی وحی لے کر تشریف لائے، اس وقت سورۃ العلق کی وہ آیات نازل ہوئیں جن کا تذکرہ شروع میں ہوا ہے۔ اس وقت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عمر مبارک تقریباً چالیس برس تھی۔
 شروع ہی میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا، آپ کے چچا زاد حضرت علی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریبی دوست حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ ، اور آپ کے آزاد کردہ غلام اور صحابی حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ایمان لے آئے۔
 مکہ کے باہر سے پہلے شخص حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ تھے جو اسلام لائے۔
 پہلے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قریبی ساتھیوں میں تبلیغ کی پھر تقریباً پہلی وحی کے تین سال بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعوتِ ذوالعشیرہ کے بعد سے اسلام کے پیغام کی کھلی تبلیغ شروع کی۔ اکثر لوگوں نے مخالفت کی مگر کچھ لوگ آہستہ آہستہ اسلام کی دعوت لوگ آہستہ آہستہ اسلام کی دعوت قبول کرتے گئے۔

شام کا دوسرا سفر اور شادی

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق امہات المؤمنین اور اولاد


رحلة سوريا الثانية والزفاف - شام کا دوسرا سفر اور شادی
تقریباً25 سال کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شام کا دوسرا بڑا سفر کیا جو حضرت خدیجہ علیہا السلام کے تجارتی قافلہ کے لیے تھا۔
 حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایمانداری کی بنا پر اپنے آپ کو ایک اچھا تاجر ثابت کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دوسرے لوگوں کا مال تجارت بھی تجارت کی غرض سے لے کر جایا کرتے تھے۔
 آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ خدمات حضرت خدیجہ علیہا السلام کے لئے بھی انجام دیا کرتے تھے۔
 اس سفر سے واپسی پر حضرت خدیجہ کے غلام میسرہ نے ان کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایمانداری اور اخلاق کی کچھ باتیں بتائیں۔ انہوں نے جب یہ باتیں اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کو بتائیں تو ورقہ بن نوفل نے کہا کہ جو باتیں آپ نے بتائیں ہیں اگر صحیح ہیں تو یہ شخص یقیناً نبی ہیں
۔ آپ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اچھے اخلاق اور ایمانداری سے بہت متاثر ہوئیں اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شادی کا پیغام دیا جس کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ابوطالب کے مشورے سے قبول کر لیا۔
اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عمر 25 سال تھی۔حضرت خدیجہ علیہا السلام قریش کی مالدار ترین اور معزز ترین خواتین میں سے تھیں۔
حضرت خدیجہ علیہا السلام سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی چار بیٹیاں حضرت زینب، حضرت رقیہ، حضرت ام کلثوم اور حضرت فاطمہ پیدا ہوئیں۔ بعض علمائے اہلِ تشیع کے مطابق حضرت فاطمہ علیہا السلام کے علاوہ باقی بیٹیاں حضرت خدیجہ علیہا السلام کی بھانجیاں تھیں۔

Mothers of the Believers and Children

The Second Journey to Syria and Marriage

At approximately the age of 25, Prophet Muhammad (peace and blessings be upon him and his family) undertook his second major journey to Syria. This journey was made in connection with the trading caravan of Hazrat Khadijah (peace be upon her).

Because of his honesty and trustworthiness, Prophet Muhammad (peace and blessings be upon him and his family) proved himself to be an excellent merchant. He also used to take the merchandise of other people for trading purposes and provided similar trading services for Hazrat Khadijah (peace be upon her).

Upon returning from this journey, Maysarah, a servant of Hazrat Khadijah, told her about the honesty and noble character of Prophet Muhammad (peace and blessings be upon him and his family). When she shared these accounts with her cousin, Waraqah ibn Nawfal, he said that if these reports were true, then this man was certainly a Prophet.

Hazrat Khadijah (peace be upon her) was deeply impressed by the noble character, honesty, and trustworthiness of Prophet Muhammad (peace and blessings be upon him and his family). She sent him a marriage proposal, which he accepted after consulting Hazrat Abu Talib. At that time, Prophet Muhammad (peace and blessings be upon him and his family) was 25 years old.

Hazrat Khadijah (peace be upon her) was one of the wealthiest and most respected women of the Quraysh.

Prophet Muhammad (peace and blessings be upon him and his family) had four daughters with Hazrat Khadijah: Hazrat Zaynab, Hazrat Ruqayyah, Hazrat Umm Kulthum, and Hazrat Fatimah (peace be upon them).

According to some Shia scholars, with the exception of Hazrat Fatimah (peace be upon her), the other daughters were the nieces of Hazrat Khadijah (peace be upon her).


Sunday, July 12, 2026

Muhammad nabi part.4

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق

طفولة - بچپن

 

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والد محترم حضرت عبدالله ابن عبدالمطلب آپ کی ولادت سے چھ ماہ قبل وفات پا چکے تھے اور آپ کی پرورش آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب نے کی۔   اس دوران آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ مدت ایک بدوی قبیلہ کے ساتھ بسر کی جیسا عرب کا رواج تھا۔

اس کا مقصد بچوں کو فصیح عربی زبان سکھانا اور کھلی آب و ہوا میں صحت مند طریقے سے پرورش کرنا تھا۔ اس دوران آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حضرت حلیمہ بنت عبداللہ اور حضرت ثویبہ (درست تلفظ: ثُوَیبہ) نے دودھ پلایا۔
 چھ سال کی عمر میں آپ کی والدہ اور آٹھ سال کی عمر میں آپ کے دادا بھی وفات پا گئے۔ اس کے بعد آپ کی پرورش کی ذمہ داریاں آپ کے چچا اور بنو ہاشم کے نئے سردار حضرت ابو طالب نے سرانجام دیں۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ابو طالب کے ساتھ شام کا تجارتی سفر بھی اختیار کیا اور تجارت کے امور سے واقفیت حاصل کی۔
 اس سفر کے دوران ایک بحیرا نامی عیسائی راہب نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں کچھ ایسی نشانیاں دیکھیں جو ایک آنے والے پیغمبر کے بارے میں قدیم آسمانی کتب میں لکھی تھیں۔ اس نے حضرت ابوطالب کو بتایا کہ اگر شام کے یہود یا نصاریٰ نے یہ نشانیاں پا لیں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

چنانچہ حضرت ابوطالب نے یہ سفر ملتوی کر دیا اور واپس مکہ آ گئے۔

 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا بچپن عام بچوں کی طرح کھیل کود میں نہیں گذرا ہوگا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں نبوت کی نشانیاں شروع سے موجود تھیں۔

 اس قسم کا ایک واقعہ اس وقت بھی پیش آیا جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بدوی قبیلہ میں اپنی دایہ کے پاس تھے۔ وہاں حبشہ کے کچھ عیسائیوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بغور دیکھا اور کچھ سوالات کیے یہاں تک کہ نبوت کی نشانیاں پائیں اور پھر کہنے لگے کہ ہم اس بچے کو پکڑ کر اپنی سرزمین میں لے جائیں گے۔

 اس واقعہ کے بعد حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مکہ لوٹا دیا گیا۔ 

 

 

Childhood

The respected father of Prophet Muhammad ﷺ, Abdullah ibn Abd al-Muttalib, had passed away six months before his birth. His grandfather, Abd al-Muttalib, therefore took responsibility for his upbringing.

During his early childhood, Prophet Muhammad ﷺ spent some time with a Bedouin tribe, as was customary among the Arabs. The purpose of this tradition was to help children learn eloquent Arabic and grow up in the healthy environment of the open countryside. During this period, Halimah bint Abdullah and Thuwaybah (correctly pronounced: Thuwaibah) nursed Prophet Muhammad ﷺ.

When Prophet Muhammad ﷺ was six years old, his mother passed away. At the age of eight, he also lost his grandfather. After this, his uncle Abu Talib, the new chief of Banu Hashim, assumed responsibility for his care and upbringing.

Prophet Muhammad ﷺ also accompanied Abu Talib on a trading journey to Syria, where he became familiar with matters of trade. During this journey, a Christian monk named Bahira noticed certain signs in Prophet Muhammad ﷺ that, according to traditional accounts, were associated with the coming of a prophet and mentioned in earlier scriptures.

Bahira warned Abu Talib that if certain people in Syria recognized these signs, the young Muhammad ﷺ might face danger. Therefore, Abu Talib discontinued the journey and returned to Makkah.

These accounts suggest that the childhood of Prophet Muhammad ﷺ was different from that of ordinary children and that signs associated with his future Prophethood were observed from an early age.

A similar incident is also reported from the time when Prophet Muhammad ﷺ was living with his foster mother among the Bedouins. Some Christians from Abyssinia carefully observed him and asked questions. According to the traditional account, they recognized signs of Prophethood and said that they wished to take the child to their own land.

Following this incident, Prophet Muhammad ﷺ was returned to Makkah.

Thursday, July 9, 2026

Muhammad arbi part.3

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق


 نسب محمد صلی اللہ علیہ وسلم

آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا تعلق قریش عرب کے معزز ترین قبیلہ بنو ہاشم سے تھا۔ اس خاندان کی شرافت ، ایمانداری اور سخاوت بہت مشہور تھی۔ یہ خاندان حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین پر تھا جسے دینِ حنیف کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے والد عبداللہ بن عبدالمطلب اپنی خوبصورتی کے لیے مشہور تھے مگر ان کا انتقال آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیدائش سے چھ ماہ پہلے ہوگیا تھا۔ والدہ کا نام حضرت آمنہ بنت وہب تھا جو قبیلہ بنی زہرہ کے سردار وہب بن عبدمناف بن قصی بنکلاب کی بیٹی تھیں۔ یعنی ان کا شجرہ ان کے شوہر عبداللہ بن عبدالمطلب کے ساتھ عبد مناف بن قصی کے ساتھ مل جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دادا عبدالمطلب قریش کے سردار تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا شجرہ نسب حضرت عدنان سے جا ملتا ہے جو حضرت اسماعیل علیہ السلام ابن حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے۔ اور مشہور ترین عربوں میں سے تھے۔ حضرت عدنان کی اولاد کو بنو عدنان کہا جاتا ہے۔ یہ شجرہ یوں ہے۔

محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان

(عربی میں :محمد بن عبدالله بن عبد المطلب بن هاشم بن عبد مناف بن قصي بن كلاب بن مرة بن كعب بن لؤي بن غالب بن فهر بن مالك بن النضر بن كنانۃبن خزيمۃ بن مدركۃ بن الياس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان)



For a Detailed Article

The Lineage of Prophet Muhammad (Peace and Blessings Be Upon Him)

Prophet Muhammad (peace and blessings be upon him) belonged to Banu Hashim, the most honorable clan of the Quraysh tribe in Arabia. This family was renowned for its nobility, honesty, generosity, and high moral character. They followed the religion of Prophet Abraham (Ibrahim, peace be upon him), which is known as Hanif (the pure monotheistic faith).

The Prophet's father, Abdullah ibn Abdul Muttalib, was well known for his exceptional beauty. However, he passed away about six months before the birth of Prophet Muhammad (peace and blessings be upon him). His mother was Aminah bint Wahb, the daughter of Wahb ibn Abd Manaf ibn Qusayy ibn Kilab, the chief of the Banu Zuhrah clan. Thus, her lineage met that of her husband, Abdullah ibn Abdul Muttalib, at Abd Manaf ibn Qusayy.

The Prophet's grandfather, Abdul Muttalib, was the respected leader of the Quraysh. The lineage of Prophet Muhammad (peace and blessings be upon him) traces back to Adnan, who was among the descendants of Prophet Ishmael (Isma'il, peace be upon him), the son of Prophet Abraham (Ibrahim, peace be upon him). Adnan was one of the most distinguished ancestors of the Arabs, and his descendants became known as Banu Adnan.

The Lineage of Prophet Muhammad (Peace Be Upon Him)

Muhammad ibn Abdullah ibn Abdul Muttalib ibn Hashim ibn Abd Manaf ibn Qusayy ibn Kilab ibn Murrah ibn Ka'b ibn Lu'ayy ibn Ghalib ibn Fihr ibn Malik ibn al-Nadr ibn Kinanah ibn Khuzaymah ibn Mudrikah ibn Ilyas ibn Mudar ibn Nizar ibn Ma'add ibn Adnan.

Arabic:

محمد بن عبد الله بن عبد المطلب بن هاشم بن عبد مناف بن قصي بن كلاب بن مرة بن كعب بن لؤي بن غالب بن فهر بن مالك بن النضر بن كنانة بن خزيمة بن مدركة بن إلياس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان


Monday, July 6, 2026

Muhammad arbi part.1

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق


 

🌹 حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ مبارکہ، نسب اور ابتدائی تعارف 🌹


📖 ولادتِ مبارکہ

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سنہ عام الفیل (تقریباً 570ء) میں ربیع الاول کے مبارک مہینے میں بعثت سے چالیس سال پہلے مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کی ولادت کے وقت متعدد غیر معمولی واقعات رونما ہوئے جن کا ذکر بعض تاریخی روایات میں ملتا ہے، جیسے آتشکدۂ فارس کا بجھ جانا۔

مشکوٰۃ کی ایک روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"میں اس وقت بھی نبی تھا جب آدم علیہ السلام مٹی اور پانی کے درمیان تھے۔ میں ابراہیم علیہ السلام کی دعا، عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت اور اپنی والدہ کے اس خواب کی تعبیر ہوں جس میں ان سے ایک نور ظاہر ہوا جس سے شام کے محلات روشن ہوگئے۔"

جس سال آپ ﷺ کی ولادت ہوئی، اس سال قریش کی معاشی حالت میں بھی بہتری آئی اور خوشحالی کے آثار نمایاں ہوئے۔

🌙 تاریخِ ولادت

  • اہلِ سنت کے نزدیک مشہور روایت: 12 ربیع الاول
  • بعض علماء کے نزدیک: 9 ربیع الاول
  • اہلِ تشیع کے نزدیک: 17 ربیع الاول

آپ ﷺ کا نام مبارک محمد آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب نے رکھا۔

آپ ﷺ کی ولادت مکہ مکرمہ کے شعب ابی طالب میں ہوئی۔ تاریخی روایات کے مطابق بعد میں اس مقام پر مسجد قائم ہوئی اور بعد ازاں اسے کتب خانہ (لائبریری) میں تبدیل کر دیا گیا۔


🌹 نسبِ مبارک

آپ ﷺ کا تعلق قریش کے معزز ترین خاندان بنو ہاشم سے تھا، جو اپنی شرافت، امانت، سخاوت اور عزت کی وجہ سے پورے عرب میں معروف تھا۔

والد گرامی کا نام حضرت عبداللہ بن عبدالمطلب تھا، جن کا انتقال آپ ﷺ کی پیدائش سے پہلے ہوگیا تھا۔

والدہ ماجدہ کا نام حضرت آمنہ بنت وہب تھا، جو قبیلہ بنی زہرہ سے تعلق رکھتی تھیں۔

دادا حضرت عبدالمطلب قریش کے سردار تھے۔

آپ ﷺ کا شجرۂ نسب حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے حضرت عدنان تک پہنچتا ہے۔

محمد ﷺ بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لؤی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان

عربی:

محمد بن عبد الله بن عبد المطلب بن هاشم بن عبد مناف بن قصي بن كلاب بن مرة بن كعب بن لؤي بن غالب بن فهر بن مالك بن النضر بن كنانة بن خزيمة بن مدركة بن إلياس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان

ﷺ صلى الله عليه وآله وسلم ﷺ

Sunday, July 5, 2026

Muhammad arbi

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق


Prophet Muhammad (Peace Be Upon Him)

Prophet Muhammad (Peace and Blessings of Allah Be Upon Him), son of Abdullah

Names and Titles:
Ahmad, Abul-Qasim, Abu al-Tayyib, Prophet of Repentance (Nabi al-Tawbah), Prophet of Mercy (Nabi al-Rahmah), Badr al-Duja, Light of Guidance (Nur al-Huda), Best of Creation (Khayr al-Bariyyah), the Chosen One (Al-Mustafa), the Selected One (Al-Mujtaba), the Truthful (Al-Sadiq), the Trustworthy (Al-Amin), Beloved of the Most Merciful (Habib al-Rahman), Seal of the Prophets (Khatam al-Nabiyyin), Messenger of Allah (Rasul Allah), Leader of the Messengers (Sayyid al-Mursalin), the Unlettered Prophet (Al-Nabi al-Ummi), the Radiant Lamp (Al-Siraj al-Munir), and many other honored names.

Basic Information

  • Birth: Rabi' al-Awwal, 570/571 CE (widely accepted), Makkah
  • Death: Rabi' al-Awwal, 632 CE (11 AH), Madinah
  • Prophethood: First revelation in the Cave of Hira during Ramadan, 610 CE
  • Father: Abdullah ibn Abdul Muttalib
  • Mother: Aminah bint Wahb
  • Foster Mother: Halimah al-Sa'diyyah
  • Children (Sons): Qasim, Abdullah, Ibrahim
  • Children (Daughters): Zaynab, Ruqayyah, Umm Kulthum, Fatimah
  • Lineage: Descendant of Prophet Isma'il (Ishmael), from the Quraysh tribe

Wives (Mothers of the Believers)

Khadijah bint Khuwaylid, Sawdah bint Zam'ah, Aisha bint Abi Bakr, Hafsah bint Umar, Zaynab bint Khuzaymah, Umm Salamah, Zaynab bint Jahsh, Juwayriyah bint al-Harith, Umm Habibah, Safiyyah bint Huyayy, Maymunah bint al-Harith, and Maria al-Qibtiyyah (according to some historical reports).

Biography

Prophet Muhammad (peace and blessings be upon him) was born in Makkah in 570 or 571 CE. He is regarded by Muslims as the final Prophet sent by Allah to guide humanity. Many historians have also described him as one of the most influential figures in world history.

His father passed away before his birth, and his mother died when he was six years old. He was then cared for by his grandfather Abdul Muttalib and later by his uncle Abu Talib.

Before receiving revelation, he became known among the people of Makkah for his honesty and trustworthiness, earning the titles Al-Sadiq (The Truthful) and Al-Amin (The Trustworthy).

At the age of forty, while worshipping in the Cave of Hira, Angel Jibril (Gabriel) brought him the first revelation from Allah:

"Read in the name of your Lord who created."

These verses later became the opening verses of Surah Al-'Alaq in the Holy Qur'an.

After receiving revelation, Prophet Muhammad (peace be upon him) devoted his life to calling people to the worship of One Allah, righteousness, justice, mercy, and accountability on the Day of Judgment.

Within twenty-three years of Prophethood, Islam spread throughout the Arabian Peninsula, a strong Islamic society was established, and the people were united under the worship of Allah.

For Muslims, love for Prophet Muhammad (peace be upon him) is an essential part of faith, and he is regarded as the final Messenger of Allah.

Important Events Timeline

  • 570/571 CE: Birth in Makkah
  • 576 CE: Death of his mother Aminah
  • 578 CE: Death of his grandfather Abdul Muttalib
  • 583 CE: Journey to Syria
  • 595 CE: Marriage to Khadijah bint Khuwaylid
  • 610 CE: First Revelation in Cave Hira
  • 613 CE: Public preaching of Islam
  • 615 CE: Migration to Abyssinia
  • 619 CE: Year of Sorrow (death of Abu Talib and Khadijah)
  • 620 CE: Isra and Mi'raj (Night Journey and Ascension)
  • 622 CE: Migration (Hijrah) to Madinah
  • 624 CE: Battle of Badr
  • 625 CE: Battle of Uhud
  • 627 CE: Battle of the Trench (Khandaq)
  • 628 CE: Treaty of Hudaybiyyah
  • 629 CE: Conquest of Khaybar
  • 630 CE: Conquest of Makkah
  • 630 CE: Battles of Hunayn and Ta'if
  • 632 CE: Farewell Pilgrimage (Hajjat al-Wada')
  • 632 CE: Passed away in Madinah

Family

Children

  • Qasim
  • Zaynab
  • Ruqayyah
  • Umm Kulthum
  • Fatimah
  • Abdullah
  • Ibrahim

Ahl al-Bayt

According to Sunni tradition:

  • The Mothers of the Believers
  • His children
  • Hasan ibn Ali
  • Husayn ibn Ali
  • Abbas ibn Abdul Muttalib
  • Ja'far ibn Abi Talib
  • Aqil ibn Abi Talib
  • Ali ibn Abi Talib

According to Shia tradition:

  • Ali ibn Abi Talib
  • Fatimah bint Muhammad
  • Hasan ibn Ali
  • Husayn ibn Ali
  • The Imams


محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

رحمۃ للعالمین ﷺ


مختصر تعارف

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بن عبداللہ بن عبدالمطلب اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ کی ولادت مشہور قول کے مطابق ربیع الاول، 570ء یا 571ء میں مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ چالیس برس کی عمر میں غارِ حرا میں پہلی وحی نازل ہوئی، اور آپ ﷺ نے پوری انسانیت کو توحید، عدل، رحمت اور اخلاق کی دعوت دی۔

اہم معلومات

  • نام: محمد ﷺ بن عبداللہ
  • کنیت: ابوالقاسم
  • القابات: رسول اللہ ﷺ، خاتم النبیین ﷺ، رحمت للعالمین ﷺ، صادق، امین
  • والد: عبداللہ بن عبدالمطلب
  • والدہ: آمنہ بنت وہب
  • رضاعی والدہ: حلیمہ سعدیہؓ
  • پیدائش: مکہ مکرمہ
  • بعثت: غارِ حرا، 610ء
  • وصال: 632ء، مدینہ منورہ
  • مدفن: مسجد نبوی ﷺ، مدینہ منورہ

اولاد

قاسم، عبداللہ، ابراہیم، زینب، رقیہ، ام کلثوم، فاطمہ رضی اللہ عنہم۔

ازواجِ مطہرات

خدیجہؓ، سودہؓ، عائشہؓ، حفصہؓ، زینب بنت خزیمہؓ، ام سلمہؓ، زینب بنت جحشؓ، جویریہؓ، ام حبیبہؓ، صفیہؓ، میمونہؓ، اور ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہن۔

پہلی وحی

اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ۝ خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ

ترجمہ: پڑھیے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا، انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا۔

اختتام

حضرت محمد ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے۔ آپ ﷺ کی سیرت قیامت تک انسانیت کے لیے کامل نمونہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں آپ ﷺ کی سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

ﷺ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ﷺ

Wednesday, June 24, 2026

hazrat imam Hussein

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت
 

حضرت امام حسینؓ کا واقعۂ کربلا

Imam Hussain، Ali ibn Abi Talib اور Fatimah bint Muhammad کے صاحبزادے اور Prophet Muhammad کے نواسے تھے۔

61 ہجری (680ء) میں Battle of Karbala کا عظیم واقعہ پیش آیا۔ اس وقت یزید کی حکومت قائم تھی۔ امام حسینؓ نے ایسے حالات میں حق، انصاف اور دین کی اصل تعلیمات کی حفاظت کے لیے بیعت سے انکار کیا۔

امام حسینؓ اپنے اہلِ خانہ اور چند وفادار ساتھیوں کے ساتھ مکہ سے عراق کی طرف روانہ ہوئے۔ کربلا کے مقام پر انہیں اور ان کے قافلے کو روک لیا گیا۔ کئی دن تک پانی بند رکھا گیا اور 10 محرم الحرام (یومِ عاشورا) کو جنگ ہوئی۔

اس جنگ میں امام حسینؓ کے خاندان اور ساتھیوں نے بے مثال صبر، استقامت اور قربانی کا مظاہرہ کیا۔ آخرکار امام حسینؓ شہید ہوگئے، لیکن انہوں نے حق اور سچائی کے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔

سبق

  • حق بات پر قائم رہنا۔
  • ظلم کے سامنے جھکنا نہیں۔
  • صبر اور استقامت اختیار کرنا۔
  • دین اور انصاف کی خاطر قربانی دینا۔

امام حسینؓ کا پیغام آج بھی مسلمانوں کے لیے حق، عدل اور قربانی کی روشن مثال ہے۔
"حسینؓ نے سر تو کٹا دیا، مگر حق اور سچائی کا پرچم بلند رکھا۔"

Imam Hussain کا روضہ مبارک Imam Husayn Shrine میں واقع ہے، جو Karbala شہر میں ہے۔

حضرت امام حسینؓ 10 محرم 61 ہجری (680ء) کو واقعۂ کربلا میں شہید ہوئے تھے، اور آپؓ کا مزار مبارک کربلا میں مسلمانوں کی اہم زیارت گاہوں میں شمار ہوتا ہے۔

کربلا عراق کے مقدس ترین شہروں میں سے ایک ہے، جہاں دنیا بھر سے زائرین حضرت امام حسینؓ اور دیگر اہلِ بیتؓ کی یاد میں حاضری دیتے ہیں۔

Tuesday, June 9, 2026

hazrat hood

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل ش
اعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق

🕌 حضرت ہود علیہ السلام

حضرت ہود علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی تھے، جنہیں قومِ عاد کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا گیا۔ آپ نے اپنی قوم کو ایک اللہ کی عبادت اور شرک سے باز رہنے کی دعوت دی، مگر اکثر لوگوں نے انکار کیا۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے سرکش قومِ عاد پر سخت آندھی کا عذاب نازل فرمایا، جبکہ حضرت ہود علیہ السلام اور ایمان والوں کو نجات عطا فرمائی۔

📖 قرآن کریم

حضرت ہود علیہ السلام کا ذکر سورۃ الاعراف، سورۃ ہود، سورۃ الشعراء اور دیگر سورتوں میں آیا ہے۔

﷽ اللہ تعالیٰ ہمیں انبیاء علیہم السلام کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Wednesday, June 3, 2026

hazrat Noah story

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق

Hazrat Nuh (AS) (حضرت نوح علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے عظیم پیغمبروں میں سے ایک تھے۔ قرآن مجید میں ان کا ذکر کئی مقامات پر آیا ہے۔

حضرت نوحؑ کا مختصر واقعہ

  • اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحؑ کو اپنی قوم کی ہدایت کے لیے بھیجا۔
  • آپ نے تقریباً 950 سال تک لوگوں کو اللہ کی عبادت اور شرک سے بچنے کی دعوت دی۔
  • بہت کم لوگوں نے آپ پر ایمان قبول کیا جبکہ اکثر لوگ انکار کرتے رہے۔
  • اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت نوحؑ نے ایک بڑی کشتی بنائی۔
  • جب طوفان آیا تو ایمان والے لوگ اور جانوروں کے جوڑے کشتی میں سوار ہوگئے۔
  • نافرمان لوگ طوفان میں ہلاک ہوگئے۔
  • طوفان کے بعد کشتی کوہِ جودی پر ٹھہر گئی۔

قرآن مجید میں

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

"پس ہم نے نوح کو اور کشتی والوں کو نجات دی، اور اسے تمام جہانوں کے لیے ایک نشانی بنا دیا۔" (سورۃ العنکبوت: 15)

سبق

  • اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں کامیابی ہے۔
  • حق کی دعوت میں صبر اور ثابت قدمی ضروری ہے۔
  • اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے۔

اگر آپ چاہیں تو میں بھی بیان کر سکتا ہوں۔

Saturday, May 23, 2026

azrat nooh alesalam

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق

حضرت نوح علیہ السلام کا مکمل واقعہ

حضرت نوح علیہ السلام اللہ کے عظیم پیغمبر تھے۔ انہیں اس قوم کی طرف بھیجا گیا جو بت پرستی اور گناہوں میں مبتلا تھی۔ حضرت نوحؑ نے اپنی قوم کو تقریباً 950 سال تک اللہ کی عبادت کی دعوت دی، مگر بہت کم لوگ ایمان لائے۔

قوم کی نافرمانی

قوم کے لوگ حضرت نوحؑ کا مذاق اڑاتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر عذاب سچا ہے تو لے آؤ۔ حضرت نوحؑ نے دن رات تبلیغ کی لیکن زیادہ تر لوگ اپنی ضد پر قائم رہے۔

کشتی کی تعمیر

اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحؑ کو حکم دیا کہ ایک بڑی کشتی بنائیں۔ جب وہ کشتی بنا رہے تھے تو لوگ ہنستے اور مذاق کرتے تھے۔ مگر حضرت نوحؑ اللہ کے حکم پر ثابت قدم رہے۔

طوفان نوح

پھر اللہ کا عذاب آیا۔ زمین سے پانی ابل پڑا اور آسمان سے بارش برسنے لگی۔ حضرت نوحؑ ایمان والوں اور جانوروں کے جوڑوں کو کشتی میں لے آئے۔ ساری نافرمان قوم پانی میں غرق ہوگئی۔

کشتی کا ٹھہرنا

طوفان ختم ہونے کے بعد کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہر گئی۔ اللہ نے ایمان والوں کو نجات دی اور حضرت نوحؑ کی سچائی ظاہر ہوگئی۔

سبق

  • اللہ کے حکم پر صبر کرنا چاہیے۔
  • حق بات ہمیشہ کامیاب ہوتی ہے۔
  • نافرمانی انسان کو تباہ کر دیتی ہے۔
  • اللہ اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے۔
قرآنی حوالہ:
سورۃ ہود، سورۃ نوح، سورۃ المؤمنون

Thursday, May 21, 2026

حضرت آدم علیہ السلام کی مکمل

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق

حضرت آدم علیہ السلام کی مکمل کہانی

حضرت آدم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے پہلے انسان اور پہلے نبی تھے۔ اللہ نے انسانیت کی شروعات انہی سے فرمائی۔ ان کا ذکر قرآنِ مجید کی کئی سورتوں میں آیا ہے، جیسے سورۃ البقرہ، الاعراف، الحجر اور طٰہٰ۔

آدم علیہ السلام کی تخلیق

اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا کہ وہ زمین میں اپنا ایک خلیفہ بنانے والا ہے۔ فرشتوں نے عرض کیا:

“کیا تو زمین میں ایسے کو پیدا کرے گا جو فساد کرے اور خون بہائے؟”

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

“میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔”

پھر اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا فرمایا۔ قرآن میں مختلف جگہوں پر مٹی، گارے اور خشک کھنکھناتی مٹی کا ذکر آیا ہے۔ اللہ نے اپنے حکم سے آدم علیہ السلام کی شکل بنائی اور پھر ان میں روح پھونکی۔

فرشتوں کو سجدے کا حکم

اللہ تعالیٰ نے تمام فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم علیہ السلام کو سجدہ کریں۔ یہ عبادت کا سجدہ نہیں بلکہ احترام کا سجدہ تھا۔

تمام فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے انکار کردیا۔ اس نے تکبر کرتے ہوئے کہا:

“میں اس سے بہتر ہوں، مجھے آگ سے پیدا کیا گیا اور اسے مٹی سے۔”

اس نافرمانی کی وجہ سے ابلیس مردود ہوگیا اور اللہ کی رحمت سے دور کردیا گیا۔

حضرت حوا علیہا السلام کی پیدائش

اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کے سکون کے لیے حضرت حوا علیہا السلام کو پیدا فرمایا۔ دونوں جنت میں رہتے تھے اور ہر نعمت سے فائدہ اٹھاتے تھے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جنت میں سب کچھ کھاؤ پیو مگر ایک خاص درخت کے قریب نہ جانا۔

شیطان کا دھوکہ

ابلیس نے آدم اور حوا علیہما السلام کو بہکایا۔ اس نے کہا کہ اگر تم اس درخت کا پھل کھالو گے تو ہمیشہ زندہ رہو گے یا فرشتے بن جاؤ گے۔

شیطان کے بہکانے پر انہوں نے اس درخت کا پھل چکھ لیا۔ فوراً ان کے ستر کھل گئے اور وہ جنت کے پتوں سے اپنے آپ کو چھپانے لگے۔

زمین پر بھیجے جانا

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اب تم زمین پر جاؤ۔ وہاں ایک وقت تک رہنا ہوگا، زندگی گزارنی ہوگی، اور پھر موت کے بعد دوبارہ اٹھایا جائے گا۔

اسی طرح انسان کی زمینی زندگی کا آغاز ہوا۔

آدم علیہ السلام کی توبہ

حضرت آدم علیہ السلام نے اپنی غلطی پر فوراً توبہ کی۔ قرآن میں ان کی دعا آئی ہے:

“اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اگر تو ہمیں نہ بخشے اور رحم نہ فرمائے تو ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔”

اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی کیونکہ اللہ بہت مہربان اور معاف فرمانے والا ہے۔

حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد

حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام سے پوری انسانیت پھیلی۔ ان کے بیٹوں میں ہابیل اور قابیل مشہور ہیں۔ قابیل نے حسد کی وجہ سے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کردیا، اور یہ دنیا کا پہلا قتل تھا۔

آدم علیہ السلام کی وفات

روایات کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام نے بہت طویل عمر پائی۔ وہ اپنی اولاد کو اللہ کی عبادت، نیکی اور سچائی کی تعلیم دیتے رہے۔ وفات کے بعد فرشتوں نے ان کی تدفین کی۔

اس کہانی سے سبق

  • تکبر انسان کو تباہ کرتا ہے۔
  • شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔
  • غلطی کے بعد سچی توبہ کرنی چاہیے۔
  • اللہ تعالیٰ معاف فرمانے والا ہے۔
  • انسان کو اللہ کی اطاعت کرنی چاہیے۔

اگر۔

Sunday, May 17, 2026

Muhammad arbi

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق


Muhammad ﷺ کی مکمل سیرتِ مبارکہ

ولادتِ مبارکہ

آپ ﷺ کی پیدائش 570 عیسوی میں Mecca میں ہوئی۔ یہ سال “عام الفیل” کہلاتا ہے، کیونکہ اسی سال ابرہہ ہاتھیوں کے لشکر کے ساتھ خانہ کعبہ پر حملہ کرنے آیا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے اسے ناکام کردیا۔

آپ ﷺ کے والد حضرت عبداللہؓ آپ کی پیدائش سے پہلے وفات پا چکے تھے۔ والدہ حضرت آمنہؓ نے آپ کی پرورش کی، مگر جب آپ ﷺ چھ سال کے ہوئے تو وہ بھی وفات پا گئیں۔ پھر دادا حضرت عبدالمطلبؓ نے کفالت کی، اور ان کے انتقال کے بعد چچا حضرت ابوطالبؓ نے آپ کو سنبھالا۔


بچپن اور نوجوانی

آپ ﷺ بچپن سے ہی نہایت سچے، نرم دل اور امانت دار تھے۔ کبھی جھوٹ نہ بولا، کبھی کسی کا حق نہ مارا۔ اسی وجہ سے لوگ آپ کو “الصادق” اور “الامین” کہتے تھے۔

آپ ﷺ نے بکریاں بھی چرائیں اور تجارت بھی کی۔ تجارت میں ایسی ایمانداری دکھائی کہ پورے عرب میں آپ ﷺ کی شہرت ہوگئی۔


حضرت خدیجہؓ سے نکاح

Khadija bint Khuwaylid ایک معزز اور مالدار خاتون تھیں۔ انہوں نے آپ ﷺ کی سچائی اور کردار دیکھ کر نکاح کا پیغام بھیجا۔ اس وقت آپ ﷺ کی عمر 25 سال تھی اور حضرت خدیجہؓ کی عمر 40 سال تھی۔

یہ نکاح محبت، وفاداری اور سکون کی بہترین مثال تھا۔ حضرت خدیجہؓ اسلام قبول کرنے والی پہلی شخصیت بھی تھیں۔


غارِ حرا میں عبادت

آپ ﷺ دنیا کے ظلم، شرک اور برائیوں سے پریشان رہتے تھے۔ آپ اکثر Cave of Hira میں جا کر عبادت اور غور و فکر کرتے۔

40 سال کی عمر میں رمضان کے مہینے میں فرشتہ جبرائیلؑ آئے اور اللہ تعالیٰ کا پہلا حکم سنایا:

“اقْرَأْ”
“پڑھو”

یہ نبوت کا آغاز تھا۔


اسلام کی دعوت

شروع میں آپ ﷺ نے قریبی لوگوں کو اسلام کی دعوت دی۔ سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں:

  • حضرت خدیجہؓ
  • حضرت علیؓ
  • حضرت ابوبکرؓ
  • حضرت زیدؓ

شامل تھے۔

بعد میں آپ ﷺ نے کھلے عام اسلام کی تبلیغ شروع کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

“اللہ ایک ہے، اسی کی عبادت کرو”


کفارِ مکہ کا ظلم

قریش نے اسلام کی مخالفت شروع کردی۔ مسلمانوں کو سخت تکلیفیں دی گئیں:

  • مار پیٹ
  • بھوکا رکھنا
  • سماجی بائیکاٹ
  • قتل کی سازشیں

لیکن آپ ﷺ نے صبر، دعا اور حکمت کا راستہ نہ چھوڑا۔

حضرت بلالؓ کو گرم ریت پر لٹایا جاتا، مگر وہ کہتے:

“احد، احد”


شعبِ ابی طالب

کفار نے مسلمانوں اور بنو ہاشم کا مکمل بائیکاٹ کردیا۔ تین سال تک لوگ بھوک اور سختی میں رہے۔ درختوں کے پتے تک کھانے پڑے، مگر ایمان قائم رہا۔


عام الحزن

اسی دوران آپ ﷺ کے چچا حضرت ابوطالبؓ اور زوجہ حضرت خدیجہؓ وفات پاگئیں۔ یہ سال “عام الحزن” یعنی غم کا سال کہلایا۔


طائف کا سفر

آپ ﷺ طائف گئے تاکہ لوگوں کو اسلام کی دعوت دیں، مگر وہاں لوگوں نے پتھر مارے۔ آپ ﷺ زخمی ہوگئے، مگر پھر بھی بددعا نہ دی۔

آپ ﷺ نے فرمایا:

“اے اللہ! ان کو ہدایت دے، یہ جانتے نہیں۔”


معراج کا واقعہ

اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو عظیم معجزہ عطا فرمایا:

  • Masjid al-Haram سے
  • Al-Aqsa Mosque تک سفر
  • پھر آسمانوں کی سیر

اسی سفر میں نماز فرض ہوئی۔


ہجرتِ مدینہ

جب مکہ میں ظلم بڑھ گیا تو اللہ تعالیٰ نے Medina ہجرت کا حکم دیا۔

آپ ﷺ اور Abu Bakr غارِ ثور میں چھپے رہے۔ دشمن بہت قریب آگئے مگر اللہ نے حفاظت فرمائی۔


مدینہ میں اسلامی معاشرہ

مدینہ پہنچ کر:

  • مسجد نبوی تعمیر ہوئی
  • مہاجر اور انصار میں بھائی چارہ قائم ہوا
  • اسلامی ریاست بنی
  • انصاف اور امن کا نظام قائم ہوا

آپ ﷺ صرف نبی ہی نہیں بلکہ بہترین حکمران، قاضی اور رہنما بھی تھے۔


اہم غزوات

اسلام کی حفاظت کے لیے کئی غزوات پیش آئے:

غزوہ بدر

313 مسلمانوں نے ہزار کفار کا مقابلہ کیا اور اللہ نے فتح عطا فرمائی۔

غزوہ احد

مسلمانوں کو آزمائش کا سامنا ہوا، مگر ایمان مضبوط رہا۔

غزوہ خندق

مدینہ کے گرد خندق کھودی گئی اور دشمن ناکام ہوگئے۔


صلح حدیبیہ

کفار کے ساتھ ایک معاہدہ ہوا جو بظاہر مسلمانوں کے خلاف لگتا تھا، مگر بعد میں اسلام کی بڑی فتح ثابت ہوا۔


فتح مکہ

8 ہجری میں آپ ﷺ دس ہزار صحابہؓ کے ساتھ Mecca داخل ہوئے۔ دشمن ڈرے ہوئے تھے کہ شاید انتقام لیا جائے گا، مگر آپ ﷺ نے فرمایا:

“آج تم پر کوئی گرفت نہیں”

آپ ﷺ نے سب کو معاف کردیا۔


حجۃ الوداع

10 ہجری میں آپ ﷺ نے آخری حج فرمایا اور عظیم خطبہ دیا:

  • سب انسان برابر ہیں
  • عورتوں کے حقوق ادا کرو
  • سود حرام ہے
  • ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو

وصالِ مبارک

632 عیسوی میں Medina میں 63 سال کی عمر میں آپ ﷺ کا وصال ہوا۔

آپ ﷺ نے دنیا کو:

  • توحید
  • عدل
  • رحم
  • اخلاق
  • بھائی چارہ

کا درس دیا۔


آپ ﷺ کے اخلاق

آپ ﷺ:

  • ہمیشہ سچ بولتے
  • غریبوں کی مدد کرتے
  • بچوں سے محبت کرتے
  • عورتوں کا احترام کرتے
  • دشمنوں کو معاف کرتے

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

“بے شک آپ ﷺ عظیم اخلاق پر ہیں”


سیرت النبی ﷺ سے ہمیں کیا سیکھنا چاہیے؟

  • صبر
  • سچائی
  • معافی
  • اللہ پر بھروسہ
  • والدین کا احترام
  • انسانیت سے محبت

اہم مقامات

Masjid al-Haram

Masjid an-Nabawi

Cave of Hira

Mount Uhud

اگر آپ چاہیں تو میں:

  • سیرت النبی ﷺ PDF
  • بچوں کے لیے آسان ورژن
  • YouTube ویڈیو اسکرپٹ
  • Blogger اسلامی ویب پیج
  • سیرت النبی ﷺ کوئز
  • خوبصورت اردو پوسٹر
    بھی تیار کرسکتا ہوں۔

Sunday, April 12, 2026

Muhammad arbi part.8

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق
سیرت النبی ﷺ


عنوان: نرالی شان کا مالک

حضرت آمنہ کے انتقال کے پانچ دن بعد ام ایمن آپ کو لے کر مکہ پہونچیں۔ آپ کو عبدالمطلب کے حوالے کیا۔آپ کے یتیم ہوجانے کا انہیں اتنا صدمہ تھا کہ بیٹے کی وفات پر بھی اتنا نہیں ہوا تھا۔
عبدالمطلب کے لیے کعبہ کے سائے میں ایک کالین بچھایا جاتا تھا۔ وہ اس پر بیٹھا کرتے تھے۔ ان کا احترام اس قدر تھا کہ کوئی اور اس قالین پر بیٹھتا نہیں تھا، چنانچہ ان کے بیٹے اور قریش کے سردار اس قالین کے چاروں طرف بیٹھتے تھے، لیکن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وہاں تشریف لاتے تو سیدھے اس قالین پر جا بیٹھتے۔ اس وقت آپ ایک تندرست لڑکے تھے، آپ کی عمر نو سال کے قریب ہو چلی تھی، آپ کے چچا عبدالمطلب کے ادب کی وجہ سے آپ کو اس قالین سے ہٹانا چاہتے تو عبدالمطلب کہتے ; 
میرے بیٹےکو چھوڑ دو، اللّٰہ کی قسم ! یہ بہت شان والا ہے۔ 
پھر وہ آپ کو محبت سے اس فرش پر بٹھاتے، آپ کی کمر پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے، آپ کی باتیں سن سن کر حد درجے خوش ہوتے رہتے۔
کبھی وہ دوسروں سے کہتے; 
ُُ میرے بیٹے کو یہیں بیٹھنے دو، اسے خود بھی احساس ہے کہ اس کی بڑی شان ہے، اور میری آرزو ہے یہ اتنا بلند رتبہ پائے جو کسی عرب کو اس سے پہلے حاصل نہ ہوا ہو اور نہ بعد میں کسی کو حاصل ہوسکے۔
ایک بار انہوں نے یہ الفاظ کہے; 
" میرے بیٹے کو چھوڑ دو، اس کے مزاج میں طبعی طور بلندی ہے.... اس کی شان نرالی ہوگی"۔
یہاں تک کہ عمر کے آخری حصے میں حضرت عبدالمطلب کی آنکھیں جواب دے گئی تھیں، آپ نابینا ہو گئے تھے۔ ایسی حالت میں ایک روز وہ اس قالین پر بیٹھے تھے کہ آپ تشریف لے آئے اور سیدھے اس قالین پر جا پہنچے۔ ایک شخص نے آپ کو قالین سے کھینچ لیا۔ اس پر آپ رونے لگے، آپ کے رونے کی آواز سن کر عبدالمطلب بے چین ہوئے اور بولے: 
"میرا بیٹا کیوں رو رہا ہے "
"آپ کے قالین پر بیٹھنا چاہتا ہے... ہم نے اسے قالین سے اتار دیا ہے۔"
یہ سن کر عبدالمطلب نے کہا: 
"میرے بیٹے کو قالین پر ہی بٹھا دو، یہ اپنا رتبہ پہچانتا ہے، میری دعا ہے کہ یہ اس رتبے کو پہنچے جو اس سے پہلے کسی عرب کو نہ ملا ہو، اس کے بعد کسی کو نہ ملے۔"
اس کے بعد پھر کسی نے آپ کو قالین پر بیٹھنے سے نہیں روکا۔‌
ایک روز بنو مدلج کے کچھ لوگ حضرت عبدالمطلب سے ملنے کے لئے آئے... ان کے پاس اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف فرما تھے ۔بنو مدلج کے لوگوں نے آپ کو دیکھا، یہ لوگ قیافہ شناس تھے، آدمی کا چہرہ دیکھ کر اس کے مستقبل کے بارے میں اندازے بیان کرتے تھے۔انہوں نے عبدالمطلب سے کہا: 
" اس بچے کی حفاظت کریں، اس لیے کہ مقام ابراہیم پر جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قدم کا نشان ہے، اس بچے کے پاؤں کا نشان بالکل اس نشان سے ملتا جلتا ہے، اس قدر مشابہت ہم نے کسی اور کے پاؤں کے نشان میں نہیں دیکھی... ہمارا خیال ہے... یہ بچہ نرالی شان کا مالک ہوگا.. . اس لیے اس کی حفاظت کریں۔"
مقام ابراہیم خانہ کعبہ میں وہ پتھر ہے جس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کعبہ کی تعمیر کے وقت کھڑے ہوئے تھے۔ معجزے کے طور پر اس پتھر پر ابراہیم علیہ السلام کے پیروں کے نشان پڑگئے تھے۔ لوگ اس پتھر کی زیارت کرتے ہیں ۔ یہی مقام ابراہیم ہے۔ چونکہ آپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے ہیں، اس لیے ان کے پاؤں کی مشابہت آپ میں ہونا قدرتی بات تھی۔
ایک روز حضرت عبدالمطلب خانہ کعبہ میں حجر اسود کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ایسے میں ان کے پاس نجران کے عیسائی آگئے۔ان میں ایک پادری بھی تھا ۔ اس پادری نے عبدالمطلب سے کہا۔: 
"ہماری کتابوں میں ایک ایسے نبی کی علامات ہیں جو اسماعیل کی اولاد میں ہونا باقی ہے، یہ شہر اس کی جائے پیدائش ہوگا، اس کی یہ یہ نشانیاں ہوں گی۔"
ابھی یہ بات ہورہی تھی کہ کوئی شخص آپ کو لے کر وہاں آپہنچا۔ پادری کی نظر جونہی آپ پر پڑی، وہ چونک اٹھا، آپ کی آنکھوں، کمر اور پیروں کو دیکھ کر وہ چلا اٹھا: 
" وہ نبی یہی ہیں، یہ تمہارے کیا لگتے ہیں ۔"
عبدالمطلب بولے
" یہ میرے بیٹے ہیں ۔"
اس پر وہ پادری بولا: 
" اوہ! تب یہ وہ نہیں... اس لیے کہ ہماری کتابوں میں لکھا ہے کہ اس کے والد کا انتقال اس کی پیدائش سے پہلے ہوجائے گا۔
یہ سن کر عبدالمطلب بولے: 
" یہ دراصل میرا پوتا ہے، اس کے باپ کا انتقال اس وقت ہوگیا تھا جب یہ پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔"
اس پر پادری بولا:
" ہاں! یہ بات ہوئی نا... آپ اس کی پوری طرح حفاظت کریں۔"
عبدالمطلب کی آپ سے محبت کا یہ عالم تھا کہ کھانا کھانے بیٹھتے تو کہتے: 
"میرے بیٹے کو لے آؤ۔"
آپ تشریف لاتے تو عبدالمطلب آپ کو اپنے پاس بٹھاتے ۔ آپ کو اپنے ساتھ کھلاتے۔
بہت زیادہ عمر والے ایک صحابی حیدہ بن معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
" میں ایک مرتبہ اسلام سے پہلے، جاہلیت کے زمانے میں حج کے لئے مکہ معظمہ گیا۔وہاں بیت الله کا طواف کررہا تھا ۔ میں نے ایک ایسے شخص کو دیکھا، جو بہت بوڑھا اور بہت لمبے قد کا تھا۔ وہ بیت اللہ کا طواف کررہا تھا۔اور کہہ رہا تھا، اے میرے پروردگار میری سواری کو محمد کی طرف پھیر دے اور اسے میرا دست و بازو بنادے۔میں نے اس بوڑھے کو جب یہ شعر پڑھتے سنا تو لوگوں سے پوچھا: 
"یہ کون ہے؟ "
لوگوں نے بتایا یہ عبدالمطلب بن ہاشم ہیں ۔ انہوں نے اپنے پوتے کو اپنے ایک اونٹ کی تلاش میں بھیجا ہے۔ وہ اونٹ گم ہوگیا ہے، اور وہ پوتا ایسا ہے جب بھی کسی گم شدہ چیز کی تلاش میں اسے بھیجاجاتا ہے تو وہ چیز لے کر ہی آتا ہے۔ پوتے سے پہلے یہ اپنے بیٹوں کو اس اونٹ کی تلاش میں بھیج چکے ہیں، لیکن وہ ناکام لوٹ آئے ہیں، اب چونکہ پوتے کو گئے ہوئے دیر ہوگئی ہے، اس لئے پریشان ہے، اور دعا مانگ رہےہیں ۔
تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ کو لئے تشریف لا رہے ہے۔عبدالمطلب نے آپ کو، دیکھ کر کہا ؛ 
"میرے بیٹے ! میں تمہارے لئے اس قدر فکر مند ہوگیا تھا کہ شاید اس کا اثر کبھی میرے دل سے نہ جائے۔
عبدالمطلب کی بیوی کا نام رقیہ بنت ابو سیفی تھا ۔ وہ کہتی ہیں :
قریش کئی سال سے سخت قحط سالی کا شکار تھے. بارشیں بالکل بند تھیں. سب لوگ پریشان تھے، اسی زمانے میں، میں نے ایک خواب دیکھا، کوئی شخص خواب میں کہہ رہا تھا.
اے قریش کے لوگو. تم میں سے ایک نبی ظاہر ہونے والا ہے، اس کے ظہور کا وقت آ گیا ہے. اس کے ذریعے تمہیں زندگی ملے گی، یعنی خوب بارشیں ہوں گی، سرسبزی اور شادابی ہوگی تم اپنے لوگوں میں سے ایک ایسا شخص تلاش کرو جو لمبے قد کا ہو، گورے رنگ کا ہو، اس کی پلکیں گھنی ہوں، بھنویں اور ابرو ملے ہوئے ہوں، وہ شخص اپنی تمام اولاد کے ساتھ نکلے اور تم میں سے ہر خاندان کا ایک آدمی نکلے، سب پاک صاف ہوں اور خوشبو لگائیں، وہ حجر اسود کو بوسہ دیں پھر سب جبل ابو قیس پر چڑھ جائیں. پھر وہ شخص جس کا حلیہ بتایا گیا ہے، آگے بڑھے اور بارش کی دعا مانگے اور تم سب آمین کہو تو بارش ہو جائے گی.
صبح ہوئی تو رقیقہ نے اپنا یہ خواب قریش سے بیان کیا. انہوں نے ان نشانیوں کو تلاش کیا تو سب کی سب نشانیاں انہیں عبد المطلب میں مل گئیں، چنانچہ سب ان کے پاس جمع ہوئے. ہر خاندان سے ایک ایک آدمی آیا. ان سب نے شرائط پوری کیں. اس کے بعد سب ابو قیس پہاڑ پر چڑھ گئے. ان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم بھی تھے. آپ اس وقت نو عمر تھے. پھر عبد المطلب آگے بڑھے اور انہوں نے یوں دعا کی.
اے اللہ یہ سب تیرے غلام ہیں، تیرے غلاموں کی اولاد ہیں، تیری باندیاں ہیں اور تیری باندیوں کی اولاد ہیں، ہم پر جو برا وقت آ پڑا ہے، تو دیکھ رہا ہے، ہم مسلسل قحط سالی کا شکار ہیں. اب اونٹ، گائیں، گھوڑے، خچر اور گدھے سب کچھ ختم ہو چکے ہیں اور جانوروں پر بن آئی ہے. اس لیے ہماری یہ خشک سالی ختم فرما دے ہمیں زندگی اور سرسبزی اور شادابی عطا فرما دے
ابھی یہ دعا مانگ ہی رہے تھے کہ بارش شروع ہو گئی. وادیاں پانی سے بھر گئیں لیکن اس بارش میں ایک بہت عجیب بات ہوئی اور وہ عجیب بات یہ تھی کہ قریش کو یہ سیرابی ضرور حاصل ہوئی مگر یہ بارش قبیلہ قیس اور قبیلہ مضر کی قریبی بستیوں میں بالکل نہ ہوئی. اب لوگ بہت حیران ہوئے کہ یہ کیا بات ہوئی. ایک قبیلے پر بارش اور آس پاس کے سب قبیلے بارش سے محروم.... تمام قبیلوں کے سردار جمع ہوئے، اس سلسلے میں بات چیت شروع ہوئی. ایک سردار نے کہا.
ہم زبردست قحط اور خشک سالی کا شکار ہیں جب کہ قریش کو اللہ تعالٰی نے بارش عطا کی ہے اور یہ عبد المطلب کی وجہ سے ہوا ہے اس لیے ہم سب ان کے پاس چلتے ہیں، اگر وہ ہمارے لیے دعا کر دیں تو شاید اللہ ہمیں بھی بارش دے دے.
یہ مشورہ سب کو پسند آیا، چنانچہ یہ لوگ مکہ معظمہ میں آئے اور عبد المطلب سے ملے. انہیں سلام کیا پھر ان سے کہا.
اے عبد المطلب ہم کئی سال سے خشک سالی کے شکار ہیں ہمیں آپ کی برکت کے بارے میں معلوم ہوا ہے، اس لیے مہربانی فرما کر آپ ہمارے لیے بھی دعا کریں، اس لیے کہ اللہ نے آپ کی دعا سے قریش کو بارش عطا کی ہے.
ان کی بات سن کر عبد المطلب نے کہا.
اچھی بات ہے میں کل میدان عرفات میں آپ لوگوں کے لیے بھی دعا کروں گا.
دوسرے دن صبح سویرے عبد المطلب میدان عرفات کی طرف روانہ ہوئے. ان کے ساتھ دوسرے لوگوں کے علاوہ ان کے بیٹے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم بھی تھے. عرفات کے میدان میں عبد المطلب کے لیے ایک کرسی بچھائی گئی. وہ اس پر بیٹھ گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو انہوں نے گود میں بٹھا لیا، پھر انہوں نے ہاتھ اٹھا کر یوں دعا کی.
اے اللہ، چمکنے والی بجلی کے پروردگار، اور کڑکنے والی گرج کے مالک، پالنے والوں کے پالنے والے، اور مشکلات کو آسان کرنے والے. یہ قبیلہ قیس اور قبیلہ مضر کے لوگ ہیں، یہ بہت پریشان ہیں، ان کی کمریں جھک گئی ہیں، یہ تجھ سے اپنی لا چاری اور بے کسی کی فریاد کرتے ہیں اور جان و مال کی بربادی کی شکایت کرتے ہیں پس اے اللہ، ان کے لیے خوب برسنے والے بادل بھیج دے اور آسمان سے ان کے لیے رحمت عطا فرما تاکہ ان کی زمینیں سرسبز ہو جائیں اور ان کی تکالیف دور ہو جائیں.
عبد المطلب ابھی یہ دعا کر ہی رہے تھے کہ ایک سیاہ بادل اٹھا، عبد المطلب کی طرف آیا اور اس کے بعد اس کا رخ قبیلہ قیس اور بنو مضر کی بستیوں کی طرف ہو گیا. یہ دیکھ کر عبد المطلب نے کہا.
اے گروہ قریش اور مضر جاؤ تمہیں سیرابی حاصل ہو گی.
چنانچہ یہ لوگ جب اپنی بستیوں میں پہنچے تو وہاں بارش شروع ہو چکی تھی.
آپ سات سال کے ہو چکے تھے کہ آپ کی آنکھیں دکھنے کو آگئیں. مکہ میں آنکھوں کا علاج کرایا گیا لیکن افاقہ نہ ہوا. عبد المطلب سے کسی نے کہا.
عکاظ کے بازار میں ایک راہب رہتا ہے وہ آنکھوں کی تکالیف کا علاج کرتا ہے.
عبد المطلب آپ کو اس کے پاس لے گئے. اس کی عبادت گاہ کا دروازہ بند تھا. انہوں نے اسے آواز دی. راہب نے کوئی جواب نہ دیا. اچانک عبادت گاہ میں شدید زلزلہ آیا. راہب ڈر گیا کہ کہیں عبادت خانہ اس کے اوپر نہ گر پڑے. اس لئے ایک دم باہر نکل آیا.
اب اس نے آپ کو دیکھا تو چونک اٹھا. اس نے کہا.
اے عبد المطلب. یہ لڑکا اس امت کا نبی ہے. اگر میں باہر نہ نکل آتا تو یہ عبادت گاہ ضرور مجھ پر گر پڑتی. اس لڑکے کو فوراً واپس لے جاؤ اور اس کی حفاظت کرو. کہیں یہودیوں یا عیسائیوں میں سے کوئی اسے قتل نہ کر دے.
پھر اس نے کہا
اور رہی بات ان کی آنکھوں کی... تو آنکھوں کی دعا تو خود ان کے پاس موجود ہے.
عبد المطلب یہ سن کر حیران ہوئے اور بولے.
ان کے اپنے پاس ہے، میں سمجھا نہیں. ہاں. ان کا لعاب دہن ان کی آنکھوں میں لگائیں.
انہیں نے ایسا ہی کیا، آنکھیں فوراً ٹھیک ہو گئیں.
پرانی آسمانی کتابوں میں آپ کی بہت سی نشانیاں لکھی ہوئی تھیں. اس کی تفصیل بہت دلچسپ ہے.
یمن میں ایک قبیلہ حمیر تھا. وہاں ایک شخص سیف بن یزن تھا. وہ سیف حمیری کہلاتا تھا. کسی زمانے میں اس کے باپ دادا اس ملک پر حکومت کرتے تھے لیکن پھر حبشیوں نے یمن پر حملہ کیا اور اس پر قبضہ کر لیا. وہاں حبشیوں کی حکومت ہو گئی. ستر سال تک یمن حبشیوں کے قبضے میں رہا، جب یہ سیف بڑا ہوا تو اس کے اندر اپنے باپ دادا کا ملک آزاد کرانے کی امنگ پیدا ہوئی، چنانچہ اس نے ایک فوج تیار کی. اس فوج کے ذریعے حبشیوں پر حملہ کیا اور انہیں یمن سے بھگا دیا. اس طرح وہ باپ دادا کے ملک کو آزاد کرانے میں کامیاب ہو گیا، وہاں کا بادشاہ بن گیا. یہ یمن عرب کا علاقہ تھا. جب اس پر حبشیوں نے قبضہ کیا تھا تو عربوں کو بہت افسوس ہوا. 70 سال بعد جب یمن کے لوگوں نے حبشیوں کو نکال باہر کیا تو عربوں کو بہت خوشی ہوئی. ان کی خوشی کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ انہی حبشیوں نے ابرہہ کے ساتھ مکہ پر چڑھائی کی تھی. چاروں طرف سے عربوں کے وفد سیف کو مبارک باد دینے کے لیے آنے لگے.
قریش کا بھی ایک وفد مبارک دینے کے لیے گیا. اس وفد کے سردار عبد المطلب تھے. یہ وفد جب یمن پہنچا تو سیف اپنے محل میں تھا. اس کے سر پر تاج تھا، سامنے تلوار رکھی تھی اور حمیری سردار اس کے دائیں بائیں بیٹھے تھے. سیف کو قریش کے وفد کی آمد کے بارے میں بتایا گیا، اسے یہ بھی بتایا گیا کہ یہ لوگ کس رتبے کے ہیں. اس نے ان لوگوں کو آنے کی اجازت دے دی. یہ وفد دربار میں پہنچا. عبد المطلب آگے بڑھ کر اس کے سامنے جا کھڑے ہوئے. انہوں نے بات کرنے کی اجازت چاہی، سیف نے کہا.
اگر تم بادشاہوں کے سامنے بولنے کے آداب سے واقف ہو تو ہماری طرف سے اجازت ہے
تب عبد المطلب نے کہا.
اے بادشاہ، ہم کعبہ کے خادم ہیں، اللہ کے گھر کے محافظ ہیں، ہم آپ کو مبارکباد دینے آئے ہیں. یمن پر حبشی حکومت ہمارے لیے بھی بوجھ بنی ہوئی تھی. آپ کو مبارک ہو، آپ کے اس کارنامے سے آپ کے بزرگوں کو بھی عزت ملے گی اور آنے والی نسلوں کو بھی وقار حاصل ہو گا.
سیف ان کے الفاظ سن کر بہت خوش ہوا، بے اختیار بول اٹھا.
اے شخص تم کون ہو، کیا نام ہے تمہارا؟
انہوں نے کہا.
میرا نام عبد المطلب بن ہاشم ہے.
سیف نے ہاشم کا نام سن کر کہا.
تب تو تم ہماری بہن کے لڑکے ہو.
عبد المطلب کی والدہ مدینے کے قبیلے خزرج کی تھیں اور خزرج کا قبیلہ دراصل یمن کا تھا. اس لیے سیف نے ہاشم کا نام سن کر کہا، تب تو تم ہماری بہن کے لڑکے ہو. پھر اس نے کہا.
ہم آپ سب کو خوش آمدید کہتے ہیں، آپ کے جذبات کی قدر کرتے ہیں.
اس کے بعد قریش کے وفد کو سرکاری مہمان خانے میں ٹھہرا دیا گیا. ان کی خوب خاطر مدارت کی گئی... یہاں تک کہ ایک ماہ گزر گیا. ایک ماہ کی مہمان نوازی کے بعد سیف نے انہیں بلایا. عبد المطلب کو اپنے پاس بلا کر اس نے کہا.
اے عبد المطلب، میں اپنے علم کے پوشیدہ رازوں میں سے ایک راز تمہیں بتا رہا ہوں، تمہارے علاوہ کوئی اور ہوتا تو میں ہر گز نہ بتاتا، تم اس راز کو اس وقت تک راز ہی رکھنا جب تک کہ خود اللہ تعالٰی اس راز کو ظاہر نہ فرما دے. ہمارے پاس ایک پوشیدہ کتاب ہے وہ پوشیدہ رازوں کا ایک خزانہ ہے. ہم دوسروں سے اس کو چھپا کر رکھتے ہیں. میں نے اس کتاب میں ایک بہت عظیم الشان خبر اور ایک بڑے خطرے کے بارے میں پڑھ لیا ہے... اور وہ آپ کے بارے میں ہے.
عبد المطلب یہ باتیں سن کر حد درجے حیرت زدہ ہوئے اور پکار اٹھے.
میں سمجھا نہیں، آپ کہنا کیا چاہتے ہیں.
سنو، عبد المطلب، جب تہامہ کی وادی یعنی مکہ میں ایسا بچہ پیدا ہو جس کے دونوں کندھوں کے درمیان بالوں کا گچھا (یعنی مہر نبوت) ہو تو اسے امامت اور سرداری حاصل ہو گی اور اس کی وجہ سے تمہیں قیامت تک کے لیے اعزاز ملے گا، عزت ملے گی.
عبد المطلب نے یہ سن کر کہا.
اے بادشاہ. اللہ کرے آپ کو بھی ایسی خوش بختی میسر آئے، آپ کی ہیبت مجھے روک رہی ہے، ورنہ میں آپ سے پوچھتا کہ اس بچے کا زمانہ کب ہو گا.
بادشاہ نے جواب میں کہا.
یہی اس کا زمانہ ہے، وہ اسی زمانے میں پیدا ہو گا یا پیدا ہو چکا ہے اس کا نام محمد ہو گا، اس کی والدہ کا انتقال ہو جائے گا، اس کے دادا اور چچا اس کی پرورش کریں گے. ہم بھی اس کے آرزو مند رہے کہ وہ بچہ ہمارے ہاں پیدا ہو، اللہ تعالٰی اسے کھلے عام ظاہر فرمائے گا اور اس کے لیے ہم میں سے (یعنی مدینے کے قبیلے خزرج میں) اس نبی کے مددگار بنائے گا (ہم میں سے اس نے اس لیے کہا کہ خزرج اصل میں یمن کے لوگ تھے) ان کے ذریعے اس نبی کے خاندان اور قبیلے والوں کو عزت حاصل ہو گی اور ان کے ذریعے اس کے دشمنوں کو ذلت ملے گی اور ان کے ذریعے وہ تمام لوگوں سے مقابلہ کرے گا اور ان کے ذریعے زمین کے اہم علاقے فتح ہو جائیں گے. وہ نبی رحمان کی عبادت کرے گا، شیطان کو دھمکائے گا. آتش کدوں کو ٹھنڈا کرے گا (یعنی آگ کے پجاریوں کو مٹائے گا) بتوں کو توڑ ڈالے گا، اس کی ہر بات آخری فرمان ہو گی، اس کے احکامات انصاف والے ہوں گے، وہ نیک کاموں کا حکم دے گا، خود بھی ان پر عمل کرے گا، برائیوں سے روکے گا، ان کو مٹا ڈالےگا ۔
عبد المطلب نے سیف بن یزن کو دعا دی۔پھر کہا۔
کچھ اور تفصیل بیان کریں۔
بات ڈھکی چھپی ہے اور علامتیں پوشیدہ ہیں مگر اے عبد المطلب اس میں شبہ نہیں کہ تم اس کے دادا ہو۔
عبد المطلب یہ سن کر فوراً سجدے میں گر گئے اور پھر سیف نے ان سے کہا۔
اپنا سر اٹھاؤ،اپنی پیشانی اونچی کرو،اور مجھے بتاؤ، جو کچھ میں نے تم سے کہا ہے،کیا تم نے ان میں سے کوئی علامت اپنے ہاں دیکھی ہے؟
اس پر عبد المطلب نے کہا۔
ہاں میرا ایک بیٹا تھا،میں اسے بہت چاہتا تھا،
میں نے ایک شریف اور معزز لڑکی آمنہ بنت وہب عبد مناف سے اس کی شادی کر دی،وہ میری قوم کے انتہائی باعزت خاندان سے تھی،اس سے میرے بیٹے کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا،میں نے اس کا نام محمد رکھا،اس بچے کا باپ اور ماں دونوں فوت ہو چکے ہیں۔اب میں اور اس کا چچا ابو طالب اس کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔
اب سیف نے ان سے کہا۔
میں نے تمہیں جو کچھ بتایا ہے،وہ واقعہ اسی طرح ہے۔ اب تم اپنے پوتے کی حفاظت کرو،اسے یہودیوں سے بچائے رکھو،اس لیے کہ وہ اس کے دشمن ہیں،یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالٰی ہر گز ان لوگوں کو ان پر قابو نہیں پانے دے گا اور میں نے جو کچھ آپ کو بتایا ہے،اس کا اپنے قبیلے والوں سے ذکر نہ کرنا،مجھے ڈر ہے کہ ان باتوں کی وجہ سے ان لوگوں میں حسد اور جلن نہ پیدا ہو جائے۔یہ لوگ سوچ سکتے ہیں،یہ عزت اور بلندی آخر انہیں کیوں ملنے والی ہے یہ لوگ ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کریں گے اگر یہ لوگ اس وقت تک زندہ نہ رہے تو ان کی اولادیں یہ کام کریں گی اگر مجھے یہ معلوم نہ ہوتا کہ اس نبی کے ظہور سے پہلے ہی موت مجھے آ لے گی تو میں اپنے اونٹوں اور قافلے کے ساتھ روانہ ہوتا اور ان کی سلطنت کے مرکز یثرب پہنچتا،کیونکہ میں اس کتاب میں یہ بات پاتا ہوں کہ شہر یثرب ان کی سلطنت کا مرکز ہوگا، ان کی طاقت کا سرچشمہ ہو گا،ان کی مدد اور نصرت کا ٹھکانہ ہو گا اور ان کی وفات کی جگہ ہوگی اور انہیں دفن بھی یہیں کیا جائے گا اور ہماری کتاب پچھلے علوم سے بھری پڑی ہے۔مجھے پتا ہے اگر میں اسی وقت ان کی عظمت کا اعلان کروں تو خود ان کے لیے اور میرے لیے خطرات پیدا ہو جائیں گے۔یہ ڈر نہ ہوتا تو میں اسی وقت ان کے بارے میں یہ تمام باتیں سب کو بتا دیتا۔عربوں کے سامنے ان کی سربلندی اور اونچے رتبے کی داستانیں سنا دیتا،لیکن میں نے یہ راز تمہیں بتایا ہے....تمہارے ساتھیوں میں سے بھی کسی کو نہیں بتایا۔
اس کے بعد اس نے عبد المطلب کے ساتھیوں کو بلایا،ان میں سے ہر ایک کو دس حبشی غلام،دس حبشی باندیاں اور دھاری دار یمنی چادریں،بڑی مقدار میں سونا چاندی،سو سو اونٹ اور عنبر کے بھرے ڈبے دییے۔پھر عبد المطلب کو اس سے دس گنا زیادہ دیا اور بولا۔
سال گزرنے پر میرے پاس ان کی خبر لے کر آنا اور ان کے حالات بتانا۔
سال گزرنے سے پہلے ہی اس بادشاہ کا انتقال ہو گیا۔
عبد المطلب اکثر اس بادشاہ کا ذکر کیا کرتے تھے،آپ کی عمر آٹھ سال کی ہوئی تو عبد المطلب کا انتقال ہو گیا۔ اس طرح ایک عظیم سرپرست کا ساتھ چھوٹ گیا۔اس وقت عبد المطلب کی عمر 95 سال تھی۔تاریخ کی بعض کتابوں میں ان کی عمر اس سے بھی زیادہ لکھی ہے۔
جس وقت عبد المطلب کا انتقال ہوا۔آپ ان کی چارپائی کے پاس موجود تھے،آپ رونے لگے،عبد المطلب کو عجون کے مقام پر ان کے دادا قصی کے پاس دفن کیا گیا۔
مرنے سے پہلے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنے بیٹے ابو طالب کے حوالے کیا۔اب ابو طالب آپ کے نگران ہوئے۔انہیں بھی آپ سے بے تحاشا محبت ہو گئی۔ ان کے بھائی عباس اور زبیر بھی آپ کا بہت خیال رکھتے تھے۔پھر زبیر بھی انتقال کر گئے تو آپ کی نگرانی آپ کے چچا ابو طالب ہی کرتے رہے۔
انہیں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے بہت محبت تھی۔جب انہوں نے آپ کی برکات دیکھیں، معجزے دیکھے تو ان کی محبت میں اور اضافہ ہو گیا۔ یہ مالی اعتبار سے کمزور تھے۔دو وقت سارے گھرانے کو پیٹ بھر کر کھانا نہیں ملتا تھا۔لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ان کے ساتھ کھانا کھاتے تو تھوڑا کھانا بھی ان سب کے لیے کافی ہو جاتا۔سب کے پیٹ بھر جاتے۔اسی لیے جب دوپہر یا رات کے کھانے کا وقت ہوتا تو اور سب دسترخوان پر بیٹھتے تو ابو طالب ان سے کہتے۔
ابھی کھانا شروع نہ کرو،میرا بیٹا آ جائے پھر شروع کرنا۔
پھر آپ تشریف لے آتے اور ان کے ساتھ بیٹھ جاتے۔آپ کی برکت اس طرح ظاہر ہوتی کہ سب کے سیر ہونے کے بعد بھی کھانا بچ جاتا،اگر دودھ ہوتا تو پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو پینے کے لیے دیا جاتا،پھر ابو طالب کے بیٹے پیتے،یہاں تک کہ ایک ہی پیالے سے سب کے سب دودھ پی لیتے،خوب سیر ہو جاتے اور دودھ پھر بھی بچ جاتا،ابو طالب کے لیے ایک تکیہ رکھا رہتا تھا،وہ اس سے ٹیک لگا کر بیٹھتے تھے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لاتے تو آ کر سیدھے اس تکیے کے ساتھ بیٹھ جاتے،یہ دیکھ کر ابو طالب کہتے۔
میرے بیٹے کو اپنے بلند مرتبے کا احساس ہے۔
ایک بار مکہ میں قحط پڑ گیا،بارش بالکل نہ ہوئی،لوگ ایک دوسرے سے کہتے تھے،لات اور عزی سے بارش کی دعا کرو،کچھ کہتے تھے تیسرے بڑے بت منات پر بھروسہ کرو،اسی دوران ایک بوڑھے نے کہا۔
تم حق اور سچائی سے بھاگ رہے ہو،تم میں ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کی نشانی موجود ہے، تم اسے چھوڑ کر غلط راستے پر کیوں جا رہے ہو۔
اس پر لوگوں نے اس سے کہا۔
کیا آپ کی مراد ابو طالب سے ہے؟
اس نے جواب میں کہا۔
ہاں میں یہی کہنا چاہتا ہوں۔
اب سب لوگ ابو طالب کے گھر کی طرف چلے،وہاں پہنچ کر انہوں نے دروازے پر دستک دی،تو ایک خوبصورت آدمی باہر آیا،اس نے تہبند لپیٹ رکھا تھا، سب لوگ اس کی طرف بڑھے اور بولے۔
اے ابو طالب،وادی میں قحط پڑا ہے،بچے بھوکے مر رہے ہیں،اس لیے آؤ اور ہمارے لیے بارش کی دعا کرو۔
چنانچہ ابو طالب باہر آئے،ان کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بھی تھے،آپ ایسے لگ رہے تھے جیسے اندھیرے میں سورج نکل آیا ہو،ابو طالب کے ساتھ اور بھی بچے تھے لیکن انہوں نے آپ ہی کا بازو پکڑا ہوا تھا، اس کے بعد ابو طالب نے آپ کی انگلی پکڑ کر کعبے کا طواف کیا۔یہ طواف کر رہے تھے اور دوسرے لوگ آسمان کی طرف نظر اٹھا اٹھا کر دیکھ رہے تھے،جہاں بادل کا ایک ٹکڑا بھی نہیں تھا لیکن پھر اچانک ہر طرف سے بادل گھر گھر کر آنے لگے،اس قدر زور دار بارش ہوئی کہ شہر اور جنگل سیراب ہو گئے۔
ابو طالب ایک بار ذی الحجاز کے میلے میں گئے،یہ جگہ عرفات سے تقریباً 8 کلو میٹر دور ہے۔ان کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بھی تھے،ایسے میں ابو طالب کو پیاس محسوس ہوئی۔انہوں نے آپ سے کہا۔
بھتیجے،مجھے پیاس لگی ہے۔
یہ بات انہوں نے اس لیے نہیں کہی تھی کہ آپ کے پاس پانی تھا....بلکہ اپنی بے چینی ظاہر کرنے کے لیے کہی تھی۔چچا کی بات سن کر آپ فورا سواری سے اتر آئے اور بولے۔
چچا جان آپ کو پیاس لگی ہے۔
انہوں نے کہا۔
ہاں بھتیجے۔پیاس لگی ہے۔
یہ سنتے ہی آپ نے ایک پتھر پر اپنا پاؤں مارا۔

today news

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق 📰 آج ک...