Showing posts with label Quran urdu transletion. Show all posts
Showing posts with label Quran urdu transletion. Show all posts

Thursday, August 20, 2026

Allah ke ahkaam

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق

جس قوم پر ہوا اللہ غضب ناک
غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ
نہ اُن لوگوں کا راستہ جن پر غضب کیا گیا، اور نہ گمراہوں کا۔
آمین۔
 جس قوم پر ہوا اللہ غضب ناک
یہودی کردار کو ہوئی یہاں مات
اللہ کے غضب کا سبب جو بنا
علماء اور مشائخ نے کیا نہ حق ادا
برائی کونہ روکنا اور اچھائی کونہ اپنانا
اس غلطی سے دور ہوا یہودی کا زمانہ
اے اللہ تجھ سے ہے یہ گزارش
دن قیامت دیلانا ہمیں محمد صلّی اللہ علیہ وسلّم کی سفارش
غضب ناکی اور ذلالت کی راہیں
امت مسلمہ کبھی نہ ادھر جائیں
حرام کی لذت ہو یا فحش کی راہ
میرے اہل و اعیال سے دور رکھنا سدا
یارب  تجھ  سے مانگیں ہم جو بھی دعائیں
میں اور میرے اہل احباب تجھ سے
دونوں جہاں پاۓ سکون و اطمینان تم سے image banaho nice color shairi big likho by kalsoom parveen

Monday, July 27, 2026

سوشل میڈیا اور عورت

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء
اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق

سوشل میڈیا اور عورت

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

"اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں، یا اپنے باپ، یا اپنے سسر، یا اپنے بیٹوں، یا اپنے شوہروں کے بیٹوں، یا اپنے بھائیوں، یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں، یا اپنی بہنوں کے بیٹوں، یا اپنی (مسلمان) عورتوں، یا اپنے زیرِ ملک افراد، یا ایسے مرد خادم جو خواہش نہیں رکھتے، یا ایسے بچوں کے سامنے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے واقف نہیں ہوئے۔"

📖 سورۃ النور: 24:31


باریک کپڑے پہنے آرہی ہے میڈم
اللہ کی خفگی کوئی نہیں غم
دوبٹہ ہے سر پر باریک جالی کا
مہکتا ہوا پھول ہے ان دیکھی ڈالی کا
پاؤں میں پازیب کی مدھر بھری جھنکار
آئے نہ سب کو اس پر پیار
زلفیں ہیں اس کی گھٹاؤں کی طرح کھلی
بدن میں موتیے کی خوشبو ہے گھلی
چہرے پر میک اپ کی نفاست سی ٹیچنگ
پاؤں میں جوتا ہے کپڑوں کے ہم میچنگ
بناؤ سنگھار سے لگ رہا ہے چہرہ کتنا پیارا
آج کی عورت کر رہی ہے خود اپنا خسارہ
تالیوں کی گونج میں لیا اس نے ایوارڈ
بھول رہی ہے بیٹھا ہے اوپر ہمارا رب
ساری یہ محفلیں ہیں بیمار دماغ کی
قرآن اور سنت سے دوری کے باغ کی
جسم پھر کرتا ہے ادا بیماریوں کا قرض
اللہ کی نافرمانی سے جو ہو جاتا ہے فرض


📖 قرآن و سنت کی روشنی میں زندگی گزاریں

سوشل میڈیا اور عورت اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں، یا اپنے باپ، یا اپنے سسر، یا اپنے بیٹوں، یا اپنے شوہروں کے بیٹوں، یا اپنے بھائیوں، یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں، یا اپنی بہنوں کے بیٹوں، یا اپنی (مسلمان) عورتوں، یا اپنے زیرِ ملک افراد، یا ایسے مرد خادم جو خواہش نہیں رکھتے، یا ایسے بچوں کے سامنے جو عورتوں کی پردے کی باتوں سے واقف نہیں ہوئے۔سورۃ النور 24:31 باریک کپڑے پہنے آرہی ہے میڈم اللہ کی خفگی کوٸی نہیں غم دوبٹہ ہے سر پر باریک جالی کا مہکتا ہوا پھول ہے ان دیکھی ڈالی کا پاٶں میں پازیب کی مدھر بھری جھنکار آۓ نہ سب کو اس پر پیار زلفیں ہے اس کی گھٹاٶ کی طرح کھلی بدن میں موتیے کی خوشبو ہے گھلی چہرےپر میکپ کی نفاست سی ٹیچنگ پاڑں میں جوتا ہے کپڑوں کے ہم میچنگ بناٶ سنگھار سے لگ رہا ہے چہرہ کتنا پیارا آج کی عورت کر رہی ہے خود اپنا خسارا تالیوں کی گونج میں لیا اس نے ایوارڈ بھول رہی ہے بیٹھا ہے اوپر ہمارا گاڈ ساری یہ محفلیں ہیں بیمار دماغ کی قرآن اور سنت کی دوری کے باغ کی جسم پھر کرتا ہے ادا بیماریوں کا قرض اللہ کی نافرمانی سے جو ہو جاتا ہے فرض embed code

Tuesday, July 7, 2026

The Right of Allah

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق


The Right of Allah – English Translation

The right of Allah Almighty is greater and more important than all other rights because He is the Creator, Owner, and Sustainer of the entire universe. He is the Ever-Living, Eternal Being who manages and controls all affairs. He created everything and determined it with perfect wisdom. He honored mankind by making human beings the noblest of creation and reminded them of His countless favors.

O human being! You owe a great right to the One who nurtured you with His blessings. You were in your mother's womb, surrounded by three layers of darkness, where no created being could provide you with food or anything necessary for your growth and survival. Allah caused abundant milk to flow in your mother's breasts, guided you to it, made your parents a means of mercy for you, supported you, and granted you success.

Allah Almighty says:

"And Allah brought you out of your mothers' wombs knowing nothing, and He gave you hearing, sight, and hearts so that you might be grateful."
(Surah An-Nahl 16:78)

O human being! If Allah were to withhold His mercy and favor from you even for a single moment, you would perish. Since Allah has bestowed such immense blessings and mercy upon you, His right over you is greater than every other right.

Allah does not ask you for provision or food. He says:

"We do not ask you for provision; We provide for you. And the best outcome belongs to righteousness."
(Surah Ta-Ha 20:132)

Allah asks only one thing from you—and it is entirely for your own benefit—that you worship Him alone without associating any partner with Him.

Allah says:

"I did not create the jinn and mankind except that they should worship Me. I do not seek any provision from them, nor do I ask them to feed Me. Indeed, Allah is the All-Provider, the Possessor of Strength, the Most Powerful."
(Surah Adh-Dhariyat 51:56–58)

Allah only wants you to become His true servant in every aspect of worship, just as He is your Lord in every aspect of His Lordship. Be a servant who humbly submits before Him, obeys Him completely, and remains grateful for His countless blessings. Should you not feel ashamed of disobeying the One who has favored you so greatly?

If an ordinary person showed you kindness, you would feel ashamed to oppose or disobey them. Then what about your Lord, from Whom every blessing you possess has come? If any hardship is kept away from you, it is only because of His mercy.

Allah says:

"Whatever blessing you have is from Allah. Then when hardship touches you, to Him alone you cry for help."
(Surah An-Nahl 16:53)

Allah has made it obligatory upon His servants that they worship Him sincerely and associate nothing with Him. Whoever is granted guidance by Allah will find fulfilling this right easy.

Allah says:

"...Strive for Allah with the striving due to Him. He has chosen you and has not placed upon you any hardship in religion... So establish prayer, give zakah, and hold firmly to Allah. He is your Protector—the Best Protector and the Best Helper."
(Surah Al-Hajj 22:78)

This is the essence of true faith: sound belief accompanied by righteous deeds. The foundation of faith is love and reverence for Allah, while its fruits are sincerity and steadfastness.

Allah has prescribed five daily prayers through which sins are forgiven, ranks are elevated, hearts are purified, and lives are reformed. He has also commanded believers to fear Him according to their ability.

Allah says:

"So fear Allah as much as you are able."
(Surah At-Taghabun 64:16)

When Imran ibn Husayn (may Allah be pleased with him) was ill, the Prophet ﷺ said:

"Pray standing. If you cannot, then pray sitting. If you cannot, then pray lying on your side."
(Sahih al-Bukhari)

A small portion of your wealth is to be given once each year as zakah to assist the poor, the needy, travelers, those in debt, and other eligible recipients.

Fasting is obligatory only during one month of the year, and even then, Allah grants concessions to the sick and travelers.

Allah says:

"Whoever is ill or on a journey should make up the missed days later."
(Surah Al-Baqarah 2:185)

Pilgrimage (Hajj) to the Sacred House is obligatory only once in a lifetime for those who are financially and physically able.

These are the fundamental rights of Allah. Other obligations depend on circumstances, such as striving in the cause of Allah when it becomes obligatory.

My brother, these duties are few in effort but immense in reward. Whoever fulfills them will attain success in this world and the Hereafter, be saved from the Fire, and enter Paradise.

Allah says:

"Whoever is kept away from the Fire and admitted into Paradise has truly succeeded. And the life of this world is nothing but the enjoyment of deception."
(Surah Aal 'Imran 3:185)




اللہ تعالیٰ کا حق تمام حقوق سے زیادہ ضروری ہے اور سب سے اہم ہے۔کیونکہ وہ اس کائنات کا خالق و مالک اور تمام تر امور کی تدبیر کرنے والا ہے۔وہ زندہ جاوید ہستی ہے جو تمام کائنات کا نطام سنبھالے ہوئے ہے،اس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور اپنی حکمت بالغہ سے اس کا اندازہ کیا۔انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ،پھر انسان کو اپنے احسانات یاد کرائے کہ اے انسان !تجھ پر اس ذات کا حق ہے جس نے نعمتوں کے ساتھ تیری پرورش کی۔تو اپنی ماں کے پیٹ میں تین طرح کے اندھیروں میں تھا۔جہاں مخلوقات میں کوئی بھی تجھے غذا یا ایسی اشیاء نہیں پہنچا سکتا تھا جو تیری افزائش اور زندگی کو قائم رکھنے والی ہوں۔اس نے ماں کی چھاتیوں میں وافر دودھ اتارا،تجھے اس کی راہ دکھلائی اور تیرے والدین کو تیرا محسن بنا دیا۔تیری امداد کی اور تجھے کامیاب کیا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَٱللَّهُ أَخْرَجَكُم مِّنۢ بُطُونِ أُمَّهَٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْا وَجَعَلَ لَكُمُ ٱلسَّمْعَ وَٱلْأَبْصَٰرَ وَٱلْأَفْدَةَ ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ﴿78﴾
ترجمہ: اور اللہ ہی نے تم کو تمہاری ماؤں کے شکم سے پیدا کیا کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے۔ اور اس نے تم کو کان اور آنکھیں اور دل (اور اُن کے علاوہ اور) اعضا بخشے تاکہ تم شکر کرو (سورۃ النحل،آیت 78)
اے انسان! اگر اللہ تعالیٰ لمحہ بھر کے لیے اپنا فضل اور رحمت روک لے تو تو ہلاک ہو جائے۔جب انسان پر اللہ تعالیٰ کا اتنا فضل اور اس قدر رحمت ہے تو پھر اس کا حق بھی تمام حقوق سے زیادہ اہم ہے۔اللہ تعالیٰ انسان سے (نہ) زق مانگتا ہے نہ کھانا۔ارشاد ربانی ہے:
لَا نَسْلُكَ رِزْقًۭا ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُكَ ۗ وَٱلْعَٰقِبَةُ لِلتَّقْوَىٰ ﴿132﴾
ترجمہ: ہم تجھ سے روزی نہیں مانگتے ہم تجھے روزی دیتے ہیں اور پرہیزگاری کا انجام اچھا ہے (سورۃ طہ،آیت 132)
اللہ تعالیٰ تجھ سے صرف ایک ہی چیز کا مطالبہ کرتا ہے جس میں تیرا ہی فائدہ ہے اور وہ یہ کہ تو اس اکیلے کی عبادت کر جس کا کوئی شریک نہیں۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَمَا خَلَقْتُ ٱلْجِنَّ وَٱلْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ﴿56﴾مَآ أُرِيدُ مِنْهُم مِّن رِّزْقٍۢ وَمَآ أُرِيدُ أَن يُطْعِمُونِ ﴿57﴾إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلرَّزَّاقُ ذُو ٱلْقُوَّةِ ٱلْمَتِينُ ﴿58﴾
ترجمہ: اور میں نے جن اور انسان کو بنایا ہے تو صرف اپنی بندگی کے لیے میں ان سے کوئی روزی نہیں چاہتا ہوں اور نہ ہی چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں بے شک الله ہی بڑا روزی دینے والا زبردست طاقت والا ہے (سورۃ الذاریات،آیت 56-58)
وہ تجھ سے صرف یہ چاہتا ہے کہ عبودیت کہ ہر پہلو سے تو اس کا بندہ بن جا۔جیا کہ ربوبیت کے ہر پہلو سے وہ تیرا پروردگار ہے۔ایسا بندہ جو اسی کے سامنے عجز و انکسار کا اظہار کرے اور اس کی مکمل اطاعت کرے کیونکہ اس نے تجھے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔کیا ایسے منعم حقیقی کی نافرمانی کرتے ہوئے تجھے شرم محسوس نہیں ہوتی؟
اگر لوگوں میں سے کوئی تجھ پر احسان کرتا تو (اے انسان) تو اس کی نافرمانی اور مخالفت پر اُتر آنے سے ضرور شرماتا،پھر اپنے پروردگار سے تیرا معاملہ کیسا ہے کہ جو کچھ بھی تیرے پاس ہے وہ سب اسی کے فضل سے ہے اور اگر تجھ پر کوئی مصیبت نہیں آتی تو وہ صرف اسی کی رحمت سے رکی ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَمَا بِكُم مِّن نِّعْمَةٍۢ فَمِنَ ٱللَّهِ ۖ ثُمَّ إِذَا مَسَّكُمُ ٱلضُّرُّ فَإِلَيْهِ تَجْرُونَ﴿53﴾
ترجمہ: اور جو نعمتیں تم کو میسر ہیں سب اللہ کی طرف سے ہیں۔ پھر جب تم کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کے آگے چلاتے ہو (سورۃ النحل،آیت 53)
اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے صرف یہ حق واجب کیا ہے کہ اس کی خالص عبادت کی جائے اور اس کے ساتھ کسی قسم کا شرک نہ کیا جائے۔جسے اللہ تعالیٰ توفیق دے،اسے یہ حق ادا کرنا نہایت آسان ہے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَجَٰهِدُوا۟ فِى ٱللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِۦ ۚ هُوَ ٱجْتَبَىٰكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِى ٱلدِّينِ مِنْ حَرَجٍۢ ۚ مِّلَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَٰهِيمَ ۚ هُوَ سَمَّىٰكُمُ ٱلْمُسْلِمِينَ مِن قَبْلُ وَفِى هَٰذَا لِيَكُونَ ٱلرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا۟ شُهَدَآءَ عَلَى ٱلنَّاسِ ۚ فَأَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُوا۟ ٱلزَّكَوٰةَ وَٱعْتَصِمُوا۟ بِٱللَّهِ هُوَ مَوْلَىٰكُمْ ۖ فَنِعْمَ ٱلْمَوْلَىٰ وَنِعْمَ ٱلنَّصِيرُ ﴿78﴾
ترجمہ: اور الله کی راہ میں کوشش کرو جیسا کوشش کرنے کا حق ہے اس نے تمہیں پسند کیا ہے اور دین میں تم پر کسی طرح کی سختی نہیں کی تمہارے باپ ابراھیم کا دین ہے اسی نے تمہارا نام پہلے سےمسلمان رکھا تھااوراس قرآن میں بھی تاکہ رسول تم پر گواہ بنے اور تم لوگو ں پر گواہ بنو پس نماز قائم کرو اور زکوٰة دو اور الله کو مضبوط ہو کر پکڑو وہی تمہارا مولیٰ ہے پھر کیا ہی اچھامولیٰ اور کیا ہی اچھا مددگار ہے (سورۃ الحج،آیت 78)

یہ ہے عقیدہ اور حق کے ساتھ ایمان اور عمل صالح جو بار آور ہے۔عقیدے کا قوام محبت و تعظیم اور کا پھل اخلاص و مداومت ہے۔دن اور رات میں پانچ نمازیں ہیں جن سے اللہ تعالیٰ خطاؤں کو معاف،درجات کو بلند اور دلوں کی اصلاح کرتا ہے۔اصلاح احوال کے لیے حسب استطاعت تقوی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ مَا ٱسْتَطَعْتُمْ
ترجمہ: جہاں تک تم سے ہو سکے اللہ سے ڈرو(سورۃ التغابن،آیت 16)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیمار تھے نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا:
صل قائما، فإن لم تستطع فقاعدا، فإن لم تستطع فعلى جنب (صحیح بخاری)
"کھڑے ہو کر نماز ادا کرو،ایسا نہ کر سکو تو بیٹھ کر اور اگر یہ بھی نہ کر سکو تو پھر لیٹے لیٹے پہلو پر ادا کرو۔"
تیرے مال کا ایک قلیل سا حصہ ہےجسے تو سال میں ایک بار مسلمانوں کی امداد کے لیے فقیروں،مسکینوں،مسافروں،قرض داروں اور زکاۃ کے دوسرے مستحقین کو ادا کرتا ہے۔روزے سال بھر میں صرف ایک مہینے کے فرض ہیں اور اس میں بھی مریض اور مسافر کے لیے رعایت ہے کہ وہ باقی دنوں میں رکھ لے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍۢ فَعِدَّةٌۭ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۗ
ترجمہ: اور جو شخص مریض ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں کی گنتی میں پوری کر لے۔"(سورۃ البقرۃ،آیت 185)
بیت اللہ کا حج صاحب استطاعت کے لیے عمر بھر میں صرف ایک دفعہ فرض ہے۔
یہ اللہ تعالیٰ کے بنیادی حقوق ہیں۔اور جو ان کے علاوہ ہیں،وہ حالات کے مطابق واجب ہوتے ہیں ،جیسے جہاد فی سبیل اللہ وغیرہ۔
میرے بھائی! یہ حق کے لحاظ سے تھوڑا اور اجر کے لحاظ سے بہت زیادہ ہے۔جب تو اسے ادا کرے گا تو دنیا و آخرت میں سرخرو ہو جائے گا،آگ سے نجات پائے گا اور جنت میں داخل ہو گا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فَمَن زُحْزِحَ عَنِ ٱلنَّارِ وَأُدْخِلَ ٱلْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ ۗ وَمَا ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَآ إِلَّا مَتَٰعُ ٱلْغُرُورِ ﴿185﴾
ترجمہ: پس جو شخص آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کیا گیا وہ کامیاب ہو گیا اور دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کا سامان

Friday, May 22, 2026

sura fatia

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق

📖 سورۃ الفاتحہ اور سائنس

سورۃ الفاتحہ قرآنِ پاک کی پہلی سورت ہے جو انسان کو ہدایت، رحمت، شفا اور علم کی طرف بلاتی ہے۔ جدید سائنس بھی کائنات کے نظام، تخلیق اور انسان کی فطرت پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔

🎧 سورۃ الفاتحہ تلاوت

🔬 Amazing Science Video

✨ "اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ"
اے اللہ ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔

Quran information

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق



✨ 📖 القرآن الكريم ✨

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی آخری آسمانی کتاب ہے جو حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوئی۔ یہ انسانیت کے لیے ہدایت، رحمت اور نور ہے۔

🍷 شراب کے نقصانات

اسلام میں شراب کو شیطانی عمل قرار دیا گیا ہے۔ یہ عقل، صحت اور معاشرے کو تباہ کرتی ہے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ

سورۃ المائدہ: 90

💧 آبِ زمزم

آبِ زمزم دنیا کا مقدس ترین پانی ہے۔ یہ حضرت اسماعیلؑ کے لیے اللہ کی رحمت کے طور پر جاری ہوا۔

💦

🌴 جنت کے چشمے

جنت میں پاکیزہ چشمے بہتے ہوں گے جو اہلِ ایمان کے لیے اللہ کی عظیم نعمت ہوں گے۔

فِيهِمَا عَيْنَانِ تَجْرِيَانِ

سورۃ الرحمن: 50

📚 مشہور تفاسیر

  • تفسیر ابن کثیر
  • تفسیر طبری
  • تفسیر قرطبی
  • تفہیم القرآن
  • تفسیر جلالین
  • تفسیر روح المعانی

🔍 قرآن سرچ

🤲 اللہ ہمیں قرآن سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے 🤲

Thursday, January 15, 2026

ghibat ka asar

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعل ق







Shukrana e Naymat (Kalsoom Parveen) 18th January 2018

https://www.youtube.com/watch?v=l3FGtDIkLbI&feature=youtu.be

Monday, December 22, 2025

Quran lafzi tarjuma

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق



Friday, August 22, 2025

Amale loot

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق





https://www.profitableratecpm.com/dgq5ux6yns?key=e4c8339a046f9d8ce822c4932e79d72a




Monday, September 23, 2024

Hadees mubrka

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق











Wednesday, September 11, 2024

Sura albaqara

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق



سورۂ فاتحہ کی ضروری تفصیلات جاننے کے بعد اب ہم باضابطہ پہلے پارے کے خلاصے کا آغاز کرتے ہیں ۔ اس کی ابتدا سورۂ بقرہ سے ہوتی ہے۔ یہ قرآن کریم کی سب سے طویل سورت ہے جو کہ دوچھیاسی آیات پر مشتمل ہے۔ یاد رہے کہ قرآن مجید کی تمام سورتوں کے نام توقیفی ہیں اور ادنیٰ مناسبت کی وجہ سے رکھ دیے گئے ہیں ۔ عربی زبان میں ’بقرہ‘ گائے کو کہتے ہیں ۔ چونکہ اس سورہ میں بقرہ کا لفظ بھی آیا ہے اور گائے ذبح کرنے کا معروف واقعہ بھی مذکور ہے؛ اس لیے اسے’سورۃ البقرہ‘ کہاجاتاہے۔
یہ سورت بہت سی فضیلتوں کی جامع ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھروں کو قبرستان نہ بنائو، شیطان اس گھر سے نکل بھاگتاہے جس میں سورۂ بقرہ پڑھی جاتی ہے۔ محدثین کرام نے فرمایا کہ جسے اپنے گھر میں شیطان یا جن وغیرہ کا سایہ محسوس ہو اُسے چاہیے کہ ہفتہ میں دومرتبہ سورۂ بقرہ کی تلاوت کرلیاکرے، اس کی برکت سے اس کا گھرپرسکون ہوجائے گا-ان شاء اللہ-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایاکہ اے لوگو! سورۂ بقرہ پڑھاکرو؛ کیوں کہ اس کا پڑھنا برکت ہے، اس کا ترک کرنا حسرت ہے اور بدکار لوگ اس کو پڑھنے کی اِستطاعت نہیں رکھتے۔ سنن ترمذی میں ہے کہ ’ہرشے کی ایک چوٹی ہوتی ہے اور قرآن کی چوٹی سورۃ البقرۃ ہے۔
پوری سورت کا لب لباب یہ ہے: عقائد اسلامیہ کی اَساس ایمان بالغیب ہے، اور بن دیکھے اللہ رب العزت کو واحد لاشریک مانناہے۔ اس کے تمام رسولوں پر ایمان لاناہے اور تمام آسمانی کتابوں کو مانناہے، جزاوسزا کا اِقرار کرناہے، اور اعمالِ صالحہ میں ہمہ گیر اور ہمہ جہت عبادت ’نماز‘ کو قائم کرنا ہے،نیز طبقاتی منافرت کا سد باب کرنے کے
لیے اہم عبادت ’زکوٰۃ‘ کو اَدا کرنا ہے؛ اس لیے سورۂ بقرہ ایمان بالغیب، اِقامت صلوٰۃ اور اَداے زکوٰۃ کے بیان سے شروع ہوتی ہے۔
پھر آگے چل کر اس سورت میں شریعت اِسلامیہ کو وضاحت سے بیان کیا ہے اور عبادات اور معاملات کی تفصیل کی گئی ہے اور اقامت صلوٰۃ اور اَداے زکوٰۃ کے علاوہ تحویل قبلہ، توحیدپردلائل، ماہِ رمضان کے روزوں ، بیت اللہ کے حج، جہاد فی سبیل اللہ، والدین اور قرابت داروں کے حقوق، زکوٰۃ و صدقات کے مصارف، یتیموں کی کفالت، عائلی زندگی کے اُصول…اوراحکام میں نکاح، طلاق، رضاعت، عدت اور ایلا کو بیان کیا گیا ہے۔ نیز قسم کھانے کا شرعی حکم، جادو کا حرام ہونا، قتل ناحق کی ممانعت، قاتل پر قصاص کو واجب کرنا، ناجائز طریقوں سے لوگوں کا مال کھانے کی ممانعت، شراب، جوئے اور سود کی حرمت، اَیام حیض میں عمل اِزدواج کی ممانعت، عورتوں سے عمل معکوس کرنے کی تحریم کو بھی بیان کیا گیا ہے۔
سورۃ البقرہ کے خلاصۃً دوحصے بیان کیے گئے ہیں : پہلا حصہ آیات ۱تا۱۵۲(رکوع ۱تا۱۸) پر مشتمل ہے جس میں خطاب کا رخ سابقہ اُمت مسلمہ بنی اسرائیل کی طرف ہے۔ اور دوسرا حصہ آیات ۱۵۳ تا ۲۸۶(رکوع ۱۹تا۴۰) پر مشتمل ہے جس میں موجودہ اُمت مسلمہ یعنی مسلمانوں سے خطاب ہے۔
قرآن کے اعجاز کو بتلانے اور اس کی مثل لانے سے مخالفین کا عجز ظاہر کرنے کے لیے اس کی ابتدا حروفِ مقطعات سے ہوئی ہے کہ یہی وہ حروف ہیں جنھیں جوڑ کر قرآن بنایاگیا ہے، اگر قرآن واقعی انسانی کاوش ہے تو تم بھی ان حروف کی ترکیب سے قرآن جیسا کلام بنا ڈالو، پورا قرآن نہیں ، تو قرآن جیسی کوئی چھوٹی سے چھوٹی سورت ہی سہی، تمہارے اس کارنامے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ -معاذ اللہ- محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے تمہیں نہ پروپیگنڈا کرنا پڑے گا، نہ مالی وسائل
استعمال کرنے پڑیں گے، نہ جنگ کی آگ میں اپنے بیٹوں اور بھائیوں کو جھونکنا پڑے گا؛ لیکن اس چیلنج کو نہ کل کے منکرین نے قبول کیا اور نہ آج کے منکرین قبول کرنے کے لیے تیار ہیں ۔نیز حروفِ مقطعات سے کلامِ الٰہی کا آغاز کرکے دراصل یہ پیغام دیاگیا ہے کہ قرآنی علوم ومعارف سے اِستفادہ کے لیے ضروری ہے کہ انسان پہلے اپنی جہالت اورکم علمی کا اِعتراف اور علمی پندار کی نفی کرے۔
اس کے بعد قرآن کوشک وشبہہ سے بالاتر کتاب ہونے کا اِعزاز بخشنے کے بعد بتایاگیا کہ یہ اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے کتاب ہدایت ہے؛ لیکن یہ ہدایت ان لوگوں کے کام نہیں آتی جن میں ہدایت قبول کرنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے،وہ تو گونگوں اور بہروں کی طرح محروم ہی رہتے ہیں ۔
بلاشبہہ قرآنِ حکیم علم اور معلومات کا وسیع خزانہ ہے۔ اس میں سائنس، تاریخ، جغرافیہ، فلسفہ، نفسیات، معاشیات، سیاست، معاشرت غرض ہر شعبۂ حیات وکائنات کے بارے میں معلومات ہیں ؛ لیکن قرآن حکیم محض معلومات کی کتاب نہیں بلکہ یہ نصابِ ہدایت ہے۔ یہی کتاب راہ نمائی کرتی ہے اس راہ کی طرف جس میں دنیاوی امن وسکون بھی ہے اور اخروی راحت ولذت بھی۔
دوسری آیت ایسے کامیاب بندوں کی پانچ صفات ذکر کی گئی ہیں جنھیں قرآن حکیم سے ہدایت نصیب ہوتی ہے۔ پہلی صفت یہ ہے کہ وہ غیب پر ایمان رکھتے یعنی بن دیکھے مانتے ہیں ، یعنی وہ ہماری حواس خمسہ کی پہنچ سے دور اور سرحد ادراک سے پرے ہیں ۔ گویا مادہ پرستی، عقل پرستی اور ظاہرپرستی کی نفی ہدایت قرآنی کے حصول کے لیے شرطِ اولین ہے۔
دوسری صفت یہ ہے کہ وہ اللہ کی مسلسل یاد کے لیے نماز قائم کرتے ہیں ۔ تیسری صفت یہ ہے کہ وہ دل سے دنیا کی محبت دور کرنے کے لیے اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتے
ہیں ۔ چوتھی صفت یہ ہے کہ وہ تعصبات سے بالا تر ہوکر قرآن کے ساتھ سابقہ آسمانی کتابوں پر بھی ایمان رکھتے ہیں ۔ اور آخری صفت یہ ہے کہ وہ آخرت کی بازپرس پر پورا پورا یقین رکھتے ہیں ۔
مکہ کے کفار ومشرکین قرآن کے کلام اللہ ہونے کا انکار کرتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ یہ نبیِ کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کا اپنا بنایا ہوا کلام ہے، چنانچہ سورۂ بقرہ کی آیات بائیس اورتیئس میں ایسے تمام معاندین اور منکرین کو چیلنج کیا گیا کہ اگر تمہیں قرآن کے کلام اللہ ہونے میں شک ہے، اورتمہیں اپنی فصاحت وبلاغت پر بڑا ناز ہے ،تو تم سب مل کر اس جیسا کلام بنا کر لے آؤ؛ مگر تاریخ میں ہمیں ایسا کوئی حوالہ نہیں ملتا کہ قرآن حکیم کے اِس چیلنج کو کسی دور میں قبول کیا گیا ہو۔ چنانچہ قرآن نے فیصلہ کن انداز میں اعلان فرمادیا کہ تم یہ کام نہ آج کرسکے ہواور نہ صبح قیامت تک کرسکوگے۔
اِبتدائی بیس آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی تین قسمیں بیان کی ہیں : مومن، کافر، منافق۔ اہل ایمان کی نمایاں صفات پانچ ہیں اور یہ وہ خوش قسمت لوگ ہیں جو اپنی زندگیوں میں انقلابی تبدیلیاں لانے کے لیے اپنے مالی و جسمانی اعمال کو قرآنی نظام کے تابع لانے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں ۔ یہ لوگ قرآن اور اس سے پہلی آسمانی کتابوں پر پختہ یقین رکھتے ہیں ۔
دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو کافر ہیں وہ اپنی زندگی کی اصلاح اور اس میں قرآنی نظام کے مطابق تبدیلی کے لیے بالکل تیار نہیں ہیں ۔ تیسری قسم ان خطرناک لوگوں کی ہے جو دلی طورپر قرآنی نظام کے منکر ہیں ؛ مگر ان کی زبانیں ان کے مفادات کے گرد گھومتی ہیں ۔ قرآن کریم کوماننے میں اگر کوئی مفاد ہے تو اسے تسلیم کرنے میں دیرنہیں لگاتے اوراگراس سے مفادات پر چوٹ پڑتی ہے تو اس کا اِنکار کرنے میں بھی دیر نہیں لگاتے، ان کے دل و زبان میں مطابقت نہیں ہے، اسے منافقت کہتے ہیں ۔ منافقت کے ذریعہ
انسانوں کو تو دھوکہ دیا جاسکتاہے مگر دلوں کے بھید جاننے والے اللہ رب العزت کو دھوکہ دینا کبھی ممکن نہیں ہے۔
یہاں قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا تذکرہ چار آیات میں ، کفار کا دو آیات اور منافقوں کا تیرہ آیات میں فرمایاہے۔ ان تیرہ آیات میں منافقوں کے مندرجہ ذیل بارہ غلیظ اوصاف بیان ہوئے ہیں :جھوٹ، دھوکہ، عدم شعور، قلبی بیماریاں (حسد، تکبراور حرص وغیرہ) مکروفریب، سفاہت، احکام الٰہی کا مذاق، زمین میں فتنہ وفساد، جہالت، ضلالت، تذبذب، اور اہل ایمان کا تمسخر۔
اب مسلمانوں کو اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہیے کہ ان مذکورہ منافقانہ بیماریوں میں سے کوئی بیماری تو اس کے اندر نہیں پاجاتی!۔
اکیسویں آیت کے بعد عالم اِنسانیت سے اولین خطاب کیا گیا اور ایک وحدہٗ لاشریک رب کی عبادت کا حکم دیاگیا۔ پھر توحید باری تعالیٰ پر کائناتی شواہد کوبطورِ دلیل پیش کیاگیاہے جس میں انسان کو عدم سے وجودبخشنا اور اس کی زندگی کی گزربسر کے لیے آسمان وزمین کی تخلیق اور بارش اور سبزیوں اور پھلوں کی پیدایش کا تذکرہ ہے۔ آیت نمبر۲۳تا۲۴ میں قرآن کریم کے کلام الٰہی ہونے کی عقلی دلیل دی گئی ہے کہ اگر تم اسے بشر کا کلام سمجھتے ہوتو تم بھی بشر ہو ایساکلام بناکر دکھادو؛ ورنہ جہنم کاایندھن بننے کے لیے تیار ہوجائو۔
اس کے بعد قرآنی نظام کے منکرین کے لیے جہنم کے بدترین عقوبت خانہ کی سزااور اس کے ماننے والوں کے لیے جنت کی بہترین نعمتوں اور پھلوں کے انعام کاتذکرہ ہے۔ قرآن‘ کتاب ہدایت ہے انسانی ہدایت ورہنمائی کے لیے کوئی بھی اسلوبِ بیان اپناسکتا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے مکھی یا مچھر یا کسی دوسرے چھوٹے یا بڑے جانور کی مثال دے سکتاہے، مسئلہ مثال کا نہیں بلکہ اس سے حاصل ہونے والے مقصد کاہے۔
اس کے بعد کی آیات فلسفہ قرآنی کو پیش کررہی ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے انسان اور کائنات کے بارے میں ذہن انسانی میں پیدا ہونے والے ان سوالات کا جواب دیا ہے جن سے فلسفہ بحث کرتا ہے۔ انسان کی تخلیق کے حوالے سے فرمایاگیا کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہر انسان کی روح پیدا کی، پھر اسے موت کی نیند سلادیا۔ پھر زندہ کرکے جسم کے ساتھ دنیا میں بھیجا۔ پھر وہ اسے دوبارہ موت دے گااور پھر دوبارہ زندہ کرکے اپنی بارگاہ میں جواب دہی کے لیے حاضر کرے گا۔ اسی طرح یہ کائنات بھی اللہ تعالیٰ نے بنائی ہے، پھر اسے انسان کے لیے مسخر کردیا تاکہ وہ اس سے استفادہ حاصل کرسکے۔
آیت نمبر۳۰ تا ۳۹ میں ہے کہ فرشتوں کے سامنے اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمایا کہ میں آدم کو زمین میں اپنا خلیفہ بنارہا ہوں ۔ فرشتوں نے اپنی فہم کے مطابق اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ عرض کیا کہ بنی آدم زمین میں فساد کریں گے، خون ریزی کریں گے اور اے اللہ! ہم ہمہ وقت تیری تسبیح وتقدیس میں مشغول رہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں جن اسرار اور حکمتوں کوجانتا ہوں تم نہیں جانتے۔ اور پھر نعمتِ علم کے ذریعے آدم علیہ السلام کی فضیلت اور برتری کو فرشتوں پر ثابت کیا۔
ازاں بعد فرشتوں کو حکم ہوا کہ آدم کو سجدہ کریں ، چنانچہ تمام ملائکہ نے حکمِ ربانی کی بلا چوں وچرا تعمیل کی؛ مگر ابلیس لعین نے آدم علیہ السلام کی فضیلت تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ اس تکبر پر اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو ذلیل و خوار کر کے اپنی رحمت سے دور فرمادیا ۔ ابلیس نے اس موقع پر اس عزم کا اِظہار کیاکہ وہ رہتی دنیا تک آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام اور ان کی اولاد کو راہ ِہدایت سے بھٹکانے کے لیے سرگرم عمل رہے گا ۔
یہ قصہ حق وباطل، اورخیروشر کے درمیان دائمی کشمکش کی نشان دہی کرتا ہے۔ اس واقعے سے حضرت آدم علیہ السلام کی عظمت شان مہرنیم روز کی طرح نکھر کر سامنے آجاتی ہے۔ انھیں خلافت ارضی سے نوازا گیا، ایسے علم سے سرفرازی بخشی گئی جن سے فرشتے
محروم تھے، ملائکہ کو ان کے سامنے سجدہ ریز ہونے کا حکم دیاگیا، منصب خلافت پر فائز ہونے کی وجہ سے بنو آدم اس امر کے پابند ہیں کہ وہ زمین پر اللہ کے احکام کا نفاذ کریں اور دنیا کا نظام حسب منشاے الٰہی چلائیں ۔
پھر آدم وحوا علیہم السلام کے جنت میں داخل کرنے اور وہاں ان کے لیے اللہ تعالی کی تمام نعمتوں سے استفادے کی اجازت کے ساتھ ساتھ ایک درخت کے قریب نہ جانے کی پابندی کا ذکر ہے۔ اسی کے ساتھ ابلیس لعین کے آدم علیہ السلام کو سجدہ نہ کرنے، حضرت آدم وحوا علیہم السلام کو بہکانے اور جنت سے نکالے جانے کا بیان ہے۔اور پھر آدم علیہ السلام کوتوبہ کے کلمات اِلقا کیے جانے، اوراِن کلمات سے ان کی توبہ نیز توبہ کی قبولیت کا ذکر ہے۔
حضرت آدم وحوا علیہما السلام کا قصہ جو ابلیس لعین کے ساتھ پیش آیا ، حقیقت میں یہ ساری انسانیت اور اس دنیا کی ابتدا سے انتہا تک کا قصہ ہے۔ یہ قصہ حق و باطل اور خیر وشر کے درمیان دائمی کشمکش کی نشان دہی کرتا ہے۔
یہ قصہ حضرت آدم کی عظمت شان بتاتا ہے، انھیں خلافت ارضی عطا کی گئی، ایسے علم سے نوازا گیا جس سے فرشتوں محروم تھے۔ ملائکہ کو ان کے سامنے سجدہ ریز ہونے کا حکم دیاگیا۔ منصب خلافت پر فائز ہونے کی وجہ سے بنو آدم اس امر کے پابند ہیں کہ وہ زمین پر اللہ تعالیٰ کے احکام کو نافذ کریں اور دنیا کا نظام ویسے چلائیں جیسے اللہ جل مجدہ چاہتا ہے۔
اس کے بعد متعدد آیات میں بنی اسرائیل پر کیے گئے انعامات اور ان کو دیے گئے عذاب کا تذکرہ شرح وبسط کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔ پہلا پارہ تقریباً پورا ہی انھیں کے ذکر پر مشتمل ہے۔ اسرائیل حضرت یعقوب کا لقب تھا جو حضرت ابراہیم کے پوتے اور حضرت اسحق کے بیٹے تھے۔ اسرائیل کے معنی عبداللہ کے ہوتے ہیں ،ا ن کی اولاد بنی
اسرائیل کہلاتی ہے۔ ان میں ہزاروں کے حساب سے انبیاومرسلین تشریف لائے۔ اب ان کے لیے امتحان ہوا کہ وہ پیغمبرآخر الزمان محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائیں جو حضرت ابراہیم ہی کے دوسرے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے ہیں ۔
واضح رہے کہ بنی اسرائیل دنیا کی ایک منتخب قوم تھی، انبیا کی اولاد تھی، اللہ تعالیٰ نے انھیں اس دور کی سیاسی اور مذہبی قیادت وسیادت سے نوازا ہواتھا مگر ان کی نااہلی اور اپنے منصب کے منافی حرکات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انھیں معزول کرنے کا فیصلہ کرلیا کہ اس منصب کے اہل اور حقیقی وارث اُمت محمدیہ کی شکل میں اس سرزمین پرتیار ہوچکے ہیں ۔ تقریباً آدھے سیپارے پر محیط اس قوم کے جرائم اور عاداتِ بد کی ایک طویل فہرست ہے جو چالیس نکات پرمشتمل ہے ۔ یہ وہ ’فردِ جرم‘ ہے جو بنی اسرائیل کے اس منصب عالی سے معزولی کا سبب ہے؛ لہٰذا ہمیں بڑے غور سے انھیں ملاحظہ کرنا چاہیے کہ کہیں ان میں سے کوئی خوے بد ہم میں بھی تو نہیں پائی جاتی!۔
پہلے یہ بتایاگیا کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو بے شمار ظاہری وباطنی، دینی ودنیاوی نعمتیں عطا فرمائیں مثلاً ان کے اندر کثرت سے انبیا پیدا فرمائے، انھیں دنیوی خوش حالی بخشی، عقیدۂ توحید اور ایمان کی نعمت سے مالامال کیا، فرعون کے خونیں مظالم سے نجات دی، انھوں نے موسیٰ علیہ السلام کی قیادت میں مصر سے ہجرت کی، فرعون نے ان کا تعاقب کیا تو سمندر میں ان کے لیے راستے بنادیے گئے اوران پر ظلم وستم ڈھانے والے کو ان کی نظروں کے سامنے اس کے لائو لشکر سمیت غرق آب کردیا۔ صحراے سینا میں وہ بے سروسامانی کے عالم میں تھے، ان کے کھانے کے لیے آسمان سے من وسلویٰ اُتارا، سایہ کے لیے ٹھنڈے بادلوں کا انتظام کیا، پینے کے لیے پانی کی تلاش ہوئی تو پتھر سے بارہ شفاف چشمے جاری فرمادیے۔
پھر انھیں سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہونے والی کتاب پر ایمان لانے
میں سبقت لے جانے کی دعوت دی گئی اور خبردار کیاگیا کہ وہ دنیا کے حقیر مفادات کے عوض اللہ کی آیات کا سودا نہ کریں ۔ انھیں ایفاے عہد، اللہ سے ڈرنے، نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کی تلقین کی گئی۔ حق وباطل کی آمیزش، حق کو چھپانے اور قول وفعل کے تضاد سے منع کیاگیا ہے۔ احکاماتِ خداوندی پر چلنے کے لیے نماز اور استقامت سے اللہ کی مدد حاصل کرنے کی نصیحت کی گئی ہے۔
مگر بنی اسرائیل ان ذمہ داریوں کو پوراکرنے سے قاصر رہے، اور زمین پرفساد پھیلانے سے باز نہ آئے، اور اللہ کی عظیم الشان نعمتوں کے مقابلہ میں لہسن پیاز اور دال روٹی کا مطالبہ کرکے ذہنی پستی اور دیوالیہ پن کا مظاہرہ کیا۔نیز اللہ کے احکام کا کفر کرنے اور انبیا علیہم السلام (اپنے مذہبی پیشوائوں ) کوقتل کرنے کے عظیم جرم کے مرتکب ہوئے جس پر انھیں ذلت ورسوائی اور غضب خداوندی کا سامنا کرنا پڑا۔
قرآنی ضابطہ ہے کہ اللہ کے نزدیک کامیابی قومی یا مذہبی تعصب کی بنیاد پرنہیں بلکہ ایمان اور عمل صالح کی بنیادپر ملتی ہے، خوف اور غم سے نجات حاصل ہوتی ہے، ان کے سروں پر پہاڑ بلند کرکے تجدید عہد کرایاگیا مگر انھوں نے اس کی پاس داری نہ کی ۔ دل جمعی اور یکسوئی کے ساتھ عبادت کرنے کے لیے ہفتہ کے دن کی چھٹی دی گئی مگر اس کی پابندی نہ کرنے پر عبرت ناک انجام کے مستحق ٹھہرے اور ان کی شکلیں بگاڑ کر انھیں ذلیل وقابل نفرت بندر بنادیاگیا۔
بنی اسرائیل کے ایک مالدار شخص کو اس کے بھتیجے نے مالِ وراثت ہتھیانے کی غرض سے قتل کردیا، پھر رات کی تاریکی میں نعش اُٹھاکر کسی دوسرے کے دروازے پر ڈال دی اور اس پر قتل کا دعویٰ کردیا، قریب تھا کہ مدعی اور مدعی ٰ علیہ کے خاندان ایک دوسرے پر ہتھیار اُٹھا لیتے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ انھیں گائے ذبح کرنے اور اس کے گوشت کا کچھ حصہ اس مقتول کے جسم کے ساتھ لگانے کا حکم دیا، بڑی پس وپیش کے بعد یہ
لوگ ذبح پر آمادہ ہوئے ۔خیر! ایسا کرنے سے مقتول زندہ ہوکر اُٹھ بیٹھا اور اس نے اپنے قاتل کی نشان دہی کردی۔ اس طرح اصل مجرم گرفت میں آگیا اور سزا کا مستحق قرار پایا اور کسی بے گناہ کی ناجائز خوں ریزی سے وہ لوگ بچ گئے۔
اتفاق سے انہی دنوں بنی اسرائیل کا ایک گروہ مرنے کے بعد کی زندگی کا انکار بھی کررہا تھا، مقتول کے زندہ ہونے سے نہ صرف یہ کہ قاتل کی نشان دہی ہوگئی بلکہ بعث بعد الموت پر ایک حجت بھی قائم ہوگئی۔ علاوہ بریں مصریوں کے ساتھ طویل عرصہ تک رہنے کی وجہ سے بنی اسرائیل کے دل میں گائے کی جو عقیدت ومحبت رچ بس گئی تھی، گائے ذبح کرنے کا حکم دے کر اس کی تردید اور توہین بھی کردی گئی۔
عقل ودانش کے نام پر کلام الٰہی میں تحریف اور ردّوبدل کی بدترین عادت کے مریض تھے۔ اپنے مفادات اور دنیا کی عارضی منفعت کے لیے اللہ کی آیتوں کوبیچ ڈالتے تھے اور اس خوش فہمی میں مبتلاتھے کہ ہم جو چاہیں کریں ہمیں آخرت میں کوئی عذاب نہیں ہوگا اور ہم جہنم میں نہیں جائیں گے۔ قرآن کریم نے ضابطہ بیان کردیا کہ جو بھی جرائم اور گناہوں کا مرتکب ہوگا وہ جہنم سے بچ نہیں سکے گا اور ایمان و اعمال صالحہ والے ہی جنتوں کے حقدار ہوں گے۔
اگلی آیات میں بنی اسرائیل کو اللہ کے ساتھ اپنے تعلق کو جانچنے کا ایک معیار دیاگیا، فرمایاگیا کہ اگر تم واقعی اللہ کے محبوب ہو اور آخرت میں تمہیں اعزازواکرام سے نوازا جائے گا تو موت کی تمنا کرو کہ جلد از جلد اپنے محبوبِ یعنی خالق حقیقی سے جاملو۔ فرمایاکہ بنی اسرائیل اپنے سیاہ کرتوت کی وجہ سے کبھی بھی موت کی خواہش نہ کریں گے۔ آج ہمیں بھی اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا اپنے اعمال کی بنیاد پر ہم اللہ کے سامنے حاضر ہونے اورجواب دہی کے لیے تیار ہیں !۔
بنی اسرائیل جبریل علیہ السلام کے مخالف تھے کہ وہ عذاب اورسزاکے احکام لے
کرکیوں آتے ہیں ؟ وہ لوگ یہ سمجھنے سے قاصر رہے کہ جبریل تو ایک قاصد اور نمائندہ ہے۔ جزایا سزا کے احکام اللہ تعالیٰ نازل فرماتاہے۔ کسی کے نمائندہ کی مخالفت در اصل اس کی مخالفت شمار ہوتی ہے؛ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ جبریل تو میرے حکم سے قرآن کریم نازل کررہے ہیں ؛ لہٰذا جبرئیل کی دشمنی درحقیقت اللہ ، اس کے رسول اور تمام فرشتوں کے ساتھ دشمنی کے مترادف ہے۔
یہودیوں کی عادات بد میں جادوگروں کی اطاعت اور ان کی اتباع بھی تھی۔ اس کی مذمت آیت ۱۰۲میں کی گئی ہے۔ آیت نمبر۱۰۴ میں واضح طور پر ارشاد ہوا کہ اے اہلِ ایمان! (جب تمہیں نبی کی کوئی بات سمجھ میں نہ آئے ، تو دوبارہ بیان کے لیے) راعِنا (یعنی ہماری رعایت کیجیے)نہ کہو(کیوں کہ اسے یہود اور منافقین اہانت کے معنی میں بھی استعمال کرتے ہیں ؛ لہٰذا یوں کہو کہ) یارسول اللہ! ہم پر توجہ فرمائیے اور (اس سے بھی زیادہ ادب کا تقاضا یہ ہے کہ پہلے ہی نبی کی بات کو) خوب توجہ سے سنو۔ یعنی مومنوں کو رسول اللہ ﷺ کی شان میں ایسا ذومعنی کلمہ استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے جس کو کوئی بدفطرت شخص اشار ، کنایہ یا صریح اہانت کے معنی میں استعمال کر سکتا ہو۔
مسجدیں اللہ کے گھر ہیں ان میں اللہ کی بات کرنے سے روکناظلم کی بدترین مثال ہے۔ ایسی حرکت کے مرتکب اَفراد دنیا میں بھی ذلیل وخوار ہوں گے اور آخرت میں بھی بدترین عذاب کے مستحق ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد کے عقیدے کی مذمت آیت ۱۱۶ میں ہے اور اللہ کی قدرت کا بیان ہے۔ یہودونصاریٰ کے تعصب کی بدترین شکل کو بیان کیا کہ اس وقت تک مسلمانوں سے خوش نہیں ہوں گے جب تک مسلمان اسلام سے دست بردار ہوکر یہودیت یا عیسائیت کو اختیار نہ کریں ۔ آسمانی کتاب کی تلاوت کا حق ادا کرنے کی تلقین کے ساتھ بنی اسرائیل پر انعامات کا ایک مرتبہ پھر تذکرہ اور یومِ احتساب کی یاد تازہ کرکے یہودیوں کے بارے میں گفتگو پوری کردی۔
آیت۱۲۲ پر پہنچ کر بنی اسرائیل سے کلام کااختتام ہورہا ہے۔ ان آیات میں ایک بار پھر انھیں اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کی یاد دہانی کرائی جارہی ہے اور ایسے چور دروازوں کی نفی کی جارہی ہے جن کے ذریعہ انسان بے عملی کے باوجود اپنے جرائم کی سزا سے محفوظ رہنے کی جھوٹی امید رکھتا ہے۔
اس کے بعد حضرتِ ابراہیم علیہ السلام کے امتحانات کی داستان بیان کی گئی ہے۔ پھر منصبِ امامت پر فائز کیے جانے،ان کی آزمائش وابتلا اور اس میں کامیابی کی شہادت کے ساتھ ہی حضرت ابراہیم واسماعیل علیہما السلام کے بیت اللہ کو تعمیر کرنے کا ذکر ہے نیز اس امر کا بیان بھی کہ تعمیر بیت اللہ کے بعد انہوں نے اللہ تعالی کی بارگاہ میں یہ دعا کی: اے ہمارے رب! اِن (اہلِ مکہ) میں ، اِنہی میں ایک عظیم رسول کو مبعوث فرما، جو ان لوگوں پر تیری آیات کی تلاوت کرے اور ان کو کتاب وحکمت کی تعلیم دے اور ان کے نفوس کی اصلاح وتزکیہ کرے۔ اولاد کے حوالے سے انسان کی تمنائیں اس کی دین سے وابستگی کا اظہار ہوتی ہیں ۔
اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایاکرتے تھے کہ میں حضرت عیسیٰ کی بشارت اور حضرت ابراہیم کی دعا کا ثمرہ (نتیجہ) ہوں ۔ اس کے بعد اس سورت میں اولادِ ابراہیم حضرت اسماعیل، حضرتِ اسحاق ، حضرت یعقوب اور ان کی اولاد حضرت موسیٰ وعیسیٰ اور اجمالی طور پر دیگر انبیاے کرام علیہم السلام کا ذکر ہے۔
نیزیہ بھی کہ اہلِ ایمان سب انبیا پر ایمان لاتے ہیں اورایمان کے لانے میں رسولوں کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے اور یہ بھی کہ حضرات ابراہیم ، اسماعیل ، اسحاق، یعقوب اور ان کی اولاد یہودی ونصرانی نہیں تھے بلکہ سب کے سب ایک ہی دینِ اسلام کے علمبردار اور داعی تھے۔
حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے مآثرومفاخر بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
کہ ملت ابراہیمی سے وہی شخص اعراض کرسکتا ہے جو شقی، احمق اور خواہشات کا غلام ہو، یہودو نصاریٰ واقعی ایسے تھے، وہ حضرت ابراہیم کی طرف اپنی نسبت تو کرتے تھے مگر ان کا زعم باطل یہ تھا کہ نجات حنیفیت کی اتباع میں نہیں ہے بلکہ یہودیت اور نصرانیت کی اتباع میں ہے۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا کہ آپ انھیں حنیفیت یعنی دین اسلام کی طرف دعوت دیں جو کہ تمام انبیا ومرسلین کا دین ہے، اگر وہ آپ کی دعوت قبول کرلیں تو ہدایت پاجائیں گے اور اگر قبول نہ کریں تو ان کا انکار اور گمراہی کسی دلیل کی بنا پر نہیں ہوگی بلکہ محض ضد اور عناد کی بنا پر ہوگی توآپ انھیں عناد کی گندگی میں پڑا رہنے دیں ، اللہ ان سے نمٹ لے گا۔
پھر اس پیغام پر پہلا پارہ ختم ہوجاتا ہے کہ ’گزشتہ اُمتوں کے لوگوں کا کرادھرااُن کے ساتھ ہوگا اور جو تم کمائوگے وہ تمہارے لیے ہوگا، اور تم سے ان کے اعمال کی نسبت نہیں پوچھا جائے‘۔ گویا آخرت میں نجات کے لیے نیک لوگوں سے نسلی تعلق نہیں بلکہ اپنا عمل کام آئے گا۔ یہودی یا عیسائی ہونے سے ہدایت نہیں ملے گی بلکہ ہدایت کا راستہ یہ ہے کہ ملت ابراہیم کی پیروی کی جائے۔
یاد رکھیں کہ اللہ کے نزدیک اسی کا ایمان قابل قبول ہے جو تمام انبیا پر ایمان لائے۔ کسی ایک نبی کا انکار بھی انسان کو کافر بنا دیا کرتا ہے؛ لہٰذا ہر کوئی اپنی قبر کو روشن کرنے کی فکر کرے کہ اس کے اپنے اچھے اعمال ہی اس کی لحد کو فروزاں رکھیں گے۔
دعا ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہمیں پہلے پارے میں بیان کردہ واقعات کوسمجھنے، مومنین کی صفاتِ محمودہ سے متصف ہونے اور منافقانہ خصلتوں سے باز آنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین یارب العالمین بجاہ صفوۃ الانبیاء والمرسلین

Tuesday, August 27, 2024

Full tafseer

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق




https://shamilaurdu.com/ 

Wednesday, August 14, 2024

Sura yaseen


امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق

Monday, August 12, 2024

Poetry Allah names






امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل generator Ad created, now place the code Copy and paste the ad unit code in between the tags of your pages Place this code where you want an ad to appear. Do this for each individual ad unit, on every page. شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق

Saturday, April 13, 2024

surah alfatiah

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق Quran بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ 1 بِسْمِ : ساتھ نام اللّٰهِ : اللہ کے الرَّحْمٰنِ : جو بیحد مہربان الرَّحِيْمِ : بار بار رحم فرمانے والا ہے اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ 2 اَلْحَمْدُ : سب تعریف لِلّٰهِ : اللہ کے لیے ہے رَبِّ : جو رب ہے الْعٰلَمِيْنَ : تمام جہانوں کا تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام کائنات کا رب ہے الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ 3 الرَّحْمٰنِ : جو بہت مہربان الرَّحِيْمِ : بار بار رحم فرمانے والا ہے رحمان اور رحیم ہے مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِؕ 4 مٰلِكِ : مالک ہے يَوْمِ : دن کا الدِّيْنِ : بدلے کے روز جزا کا مالک ہے اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُؕ 5 اِيَّاكَ : صرف تیری نَعْبُدُ : ہم عبادت کرتے ہیں وَ : اور اِيَّاكَ : صرف تجھ سے نَسْتَعِيْنُ : ہم مدد چاہتے ہیں ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۙ 6 اِھْدِنَا : دکھا ہم کو الصِّرَاطَ : راستہ الْمُسْتَقِيْمَ : سیدھا ہمیں سیدھا راستہ دکھا صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ١ۙ۬ۦ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ۠ ۧ 7 صِرَاطَ : راستہ الَّذِيْنَ : ان لوگوں کا اَنْعَمْتَ : انعام کیا تو نے عَلَيْهِمْ : اوپر ان کے غَيْرِ : نہ ان (لوگوں) کا الْمَغْضُوْبِ : غضب کیا گیا عَلَيْهِمْ : اوپر ان کے وَ : اور لَا : نہ الضَّآلِّيْنَ : ان (لوگوں) کا جو گمراہ ہیں / گم کردہ راہ ہیں اُن لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا، جو معتوب نہیں ہوئے، جو بھٹکے ہوئے نہیں ہیں

Saturday, March 2, 2024

surah albaqara ayet 1.2

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق





Friday, February 23, 2024

Albaqea sura full lafzi tarjma

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق



Thursday, February 22, 2024

sura albaqra 15 ayat

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے
الٓمّٓۚ
الٓمّٓ : الف ۔ لام ۔ میم
الف لام میم
ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ١ۛۖۚ فِیْهِ١ۛۚ هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ
ذٰلِكَ : وہ / یہ الْكِتٰبُ : کتاب ہے لَا : نہیں رَيْبَ : کوئی شک فِيْهِ : اس میں ھُدًى : ہدایت ہے لِّلْمُتَّقِيْنَ : واسطے ان کے جو متقی ہیں
یہ اللہ کی کتاب ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہدایت ہے اُن پرہیز گار لوگوں کے لیے
الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۙ
الَّذِيْنَ : یہ وہ لوگ ہیں يُؤْمِنُوْنَ : جو ایمان لاتے ہیں بِالْغَيْبِ : ساتھ غیب وَ : اور يُقِيْمُوْنَ : وہ قائم کرتے ہیں الصَّلٰوةَ : نماز وَ : اور مِمَّا : اس میں سے جو رَزَقْنٰھُمْ : رزق دیا ہم نے ان کو يُنْفِقُوْنَ : وہ خرچ کرتے ہیں
جو غیب پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، جو رزق ہم نے اُن کو دیا ہے، اُس میں سے خرچ کرتے ہیں
وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ
وَ : اور الَّذِيْنَ : وہ لوگ يُؤْمِنُوْنَ : جو ایمان لاتے ہیں بِمَآ : ساتھ اس کے جو اُنْزِلَ : نازل کیا گیا اِلَيْكَ : طرف آپ کے وَ : اور مَآ : جو اُنْزِلَ : نازل کیا گیا مِنْ : سے قَبْلِكَ : آپ سے پہلے وَ : اور بِالْاٰخِرَةِ : ساتھ آخرت کے ھُمْ : وہ يُوْقِنُوْنَ : وہ یقین رکھتے ہیں
جو کتاب تم پر نازل کی گئی ہے (یعنی قرآن) اور جو کتابیں تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں ان سب پر ایمان لاتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں
اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ١ۗ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ
اُولٰٓئِكَ : یہی لوگ عَلٰي : اوپر ھُدًى : ہدایت کے ہیں مِّنْ : سے رَّبِّهِمْ : اپنے رب کی طرف سے وَ : اور اُولٰٓئِكَ : یہی لوگ ہیں ھُمُ : وہ الْمُفْلِحُوْنَ : جو فلاح پانے والے ہیں
ایسے لوگ اپنے رب کی طرف سے راہ راست پر ہیں اور وہی فلاح پانے والے ہیں
اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ
اِنَّ : بیشک الَّذِيْنَ : وہ لوگ كَفَرُوْا : جنہوں نے کفر کیا سَوَآءٌ : برابر ہے عَلَيْهِمْ : اوپر ان کے ءَ : یا أَنْذَرْتَهُمْ : خواہ آپ انہیں ڈرائیں اَمْ : یا لَمْ : نہ تُنْذِرْھُمْ : تم ڈراؤ ان کو لَا : نہیں يُؤْمِنُوْنَ : وہ ایمان لائیں گے
جن لوگوں نے (اِن باتوں کو تسلیم کرنے سے) انکار کر دیا، اُن کے لیے یکساں ہے، خواہ تم انہیں خبردار کرو یا نہ کرو، بہرحال وہ ماننے والے نہیں ہیں
خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰى سَمْعِهِمْ١ؕ وَ عَلٰۤى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ١٘ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۠   ۧ
خَتَمَ : مہر لگادیں اللّٰهُ : اللہ نے عَلٰي : اوپر قُلُوْبِهِمْ : ان کے دلوں کے وَ : اور عَلٰي : اوپر سَمْعِهِمْ : ان کے کانوں کے وَ : اور عَلٰٓي : اوپر اَبْصَارِهِمْ : ان کی آنکھوں کے غِشَاوَةٌ : پردہ ہے وَّ : اور لَھُمْ : ان کے لئے عَذَابٌ : عذاب ہے عَظِيْمٌ : بڑا
اللہ نے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑ گیا ہے وہ سخت سزا کے مستحق ہیں
وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ مَا هُمْ بِمُؤْمِنِیْنَۘ
وَ : اور مِنَ : بعض النَّاسِ : لوگ ہیں مَنْ : جو يَّقُوْلُ : کہتے ہیں اٰمَنَّا : ایمان لائے ہم بِاللّٰهِ : اللہ پر وَ : اور بِالْيَوْمِ : یوم الْاٰخِرِ : آخرت پر وَ : اور مَا : نہیں ھُمْ : وہ بِمُؤْمِنِيْنَ : ایمان لانے والے
بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے ہیں، حالانکہ در حقیقت وہ مومن نہیں ہیں
یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَؕ
يُخٰدِعُوْنَ : وہ دھوکہ دیتے ہیں اللّٰهَ : اللہ کو وَ : اور الَّذِيْنَ : ان لوگوں کو اٰمَنُوْا : جو ایمان لائے وَ : اور مَا : نہیں يَخْدَعُوْنَ : وہ دھوکہ دیتے اِلَّآ : مگر اَنْفُسَھُمْ : اپنے نفسوں کو وَ : اور مَا : نہیں يَشْعُرُوْنَ : وہ شعور رکھتے
وہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے ساتھ دھوکہ بازی کر رہے ہیں، مگر دراصل وہ خود اپنے آپ ہی کو دھوکے میں ڈال رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور نہیں ہے
فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ١ۙ فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ١ۙ۬ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ
فِىْ قُلُوْبِهِمْ : ان کے دلوں میں مَّرَضٌ : بیماری ہے فَزَادَھُمُ : پس زیادہ کیا ان کو / بڑھایا ان کو اللّٰهُ : اللہ نے مَرَضًا : بیماری میں وَ : اور لَھُمْ : ان کے لئے عَذَابٌ : عذاب ہے اَلِيْمٌ : درد ناک / المناک بِمَا : بوجہ اس کے جو كَانُوْا : تھے وہ يَكْذِبُوْنَ : جھوٹ بولتے
ان کے دلوں میں ایک بیماری ہے جسے اللہ نے اور زیادہ بڑھا دیا، اور جو جھوٹ وہ بولتے ہیں، اس کی پاداش میں ان کے لیے درد ناک سزا ہے
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ
وَ : اور اِذَا : جب قِيْلَ : کہا جاتا ہے لَھُمْ : ان کو لَا : نہ تُفْسِدُوْا : تم فساد کرو فِى الْاَ رْضِ : زمین میں قَالُوْٓا : وہ کہتے ہیں اِنَّمَا : بیشک نَحْنُ : ہم تو مُصْلِحُوْنَ : اصلاح کرنے والے ہیں
جب کبھی ان سے کہا گیا کہ زمین پر فساد برپا نہ کرو تو انہوں نے یہی کہا کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں
اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ
اَلَآ : خبردار اِنَّھُمْ : بیشک وہ ھُمُ : وہی ہیں الْمُفْسِدُوْنَ : جو فساد کرنے والے ہیں وَلٰكِنْ : لیکن لَّا : نہیں يَشْعُرُوْنَ : وہ شعور رکھتے ہیں
خبردار! حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعور نہیں ہے
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَآءُ وَ لٰكِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ
وَ : اور اِذَا : جب قِيْلَ : کہا جاتا ہے لَھُمْ : واسطے ان کے اٰمِنُوْا : ایمان لے آؤ كَمَآ : جیسا کہ اٰمَنَ : ایمان لائے النَّاسُ : لوگ قَالُوْٓا : وہ کہتے ہیں اَ : کیا نُؤْمِنُ : ہم ایمان لائیں كَمَآ : جیسا کہ اٰمَنَ : ایمان لائے السُّفَهَآءُ : بیوقوف اَلَآ : خبر دار اِنَّھُمْ : بیشک وہ ھُمُ : وہی ہیں السُّفَهَآءُ : جو بیوقوف ہیں وَلٰكِنْ : لیکن لَّا : نہیں يَعْلَمُوْنَ : وہ علم رکھتے
اور جب ان سے کہا گیا جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں اسی طرح تم بھی ایمان لاؤ تو انہوں نے یہی جواب دیا "کیا ہم بیوقوفوں کی طرح ایمان لائیں؟" خبردار! حقیقت میں تو یہ خود بیوقوف ہیں، مگر یہ جانتے نہیں ہیں
وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۚ وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰى شَیٰطِیْنِهِمْ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ١ۙ اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُوْنَ
وَ : اور اِذَا : جب لَقُوا : ملاقات کرتے ہیں الَّذِيْنَ : ان لوگوں سے اٰمَنُوْا : جو ایمان لائے قَالُوْٓا : وہ کہتے ہیں اٰمَنَّا : ایمان لائے ہم وَ : اور اِذَا : جب خَلَوْا : وہ اکیلے ہوتے ہیں اِلٰى : طرف شَيٰطِيْنِهِمْ : اپنے شیطانوں کے قَالُوْٓا : وہ کہتے ہیں اِنَّا : بیشک ہم مَعَكُمْ : تمہارے ساتھ ہیں اِنَّمَا : بیشک نَحْنُ : ہم تو مُسْتَهْزِءُوْنَ : مذاق کرنے والے ہیں
جب یہ اہل ایمان سے ملتے ہیں، تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں اور جب علیحدگی میں اپنے شیطانوں سے ملتے ہیں، تو کہتے ہیں کہ اصل میں تو ہم تمہارے ساتھ ہیں اور ان لوگوں سے محض مذاق کر رہے ہیں
اَللّٰهُ یَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَ یَمُدُّهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ
اَللّٰهُ : اللہ يَسْتَهْزِيئُ : مذاق کرے گا / مذاق کرتا ہے بِهِمْ : ساتھ ان کے وَ : اور يَمُدُّھُمْ : وہ ڈھیل دے رہا ہے ان کو فِىْ طُغْيَانِهِمْ : ان کی سرکشی میں يَعْمَھُوْنَ : وہ بھٹک رہے ہیں/ اندھے بنے پھرتے ہیں
اللہ ان سے مذاق کر رہا ہے، وہ ان کی رسی دراز کیے جاتا ہے، اور یہ اپنی سرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹکتے چلے جاتے

today news

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق 📰 آج ک...