امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل
شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلقThe Right of Allah – English Translation
The right of Allah Almighty is greater and more important than all other rights because He is the Creator, Owner, and Sustainer of the entire universe. He is the Ever-Living, Eternal Being who manages and controls all affairs. He created everything and determined it with perfect wisdom. He honored mankind by making human beings the noblest of creation and reminded them of His countless favors.
O human being! You owe a great right to the One who nurtured you with His blessings. You were in your mother's womb, surrounded by three layers of darkness, where no created being could provide you with food or anything necessary for your growth and survival. Allah caused abundant milk to flow in your mother's breasts, guided you to it, made your parents a means of mercy for you, supported you, and granted you success.
Allah Almighty says:
"And Allah brought you out of your mothers' wombs knowing nothing, and He gave you hearing, sight, and hearts so that you might be grateful."
(Surah An-Nahl 16:78)
O human being! If Allah were to withhold His mercy and favor from you even for a single moment, you would perish. Since Allah has bestowed such immense blessings and mercy upon you, His right over you is greater than every other right.
Allah does not ask you for provision or food. He says:
"We do not ask you for provision; We provide for you. And the best outcome belongs to righteousness."
(Surah Ta-Ha 20:132)
Allah asks only one thing from you—and it is entirely for your own benefit—that you worship Him alone without associating any partner with Him.
Allah says:
"I did not create the jinn and mankind except that they should worship Me. I do not seek any provision from them, nor do I ask them to feed Me. Indeed, Allah is the All-Provider, the Possessor of Strength, the Most Powerful."
(Surah Adh-Dhariyat 51:56–58)
Allah only wants you to become His true servant in every aspect of worship, just as He is your Lord in every aspect of His Lordship. Be a servant who humbly submits before Him, obeys Him completely, and remains grateful for His countless blessings. Should you not feel ashamed of disobeying the One who has favored you so greatly?
If an ordinary person showed you kindness, you would feel ashamed to oppose or disobey them. Then what about your Lord, from Whom every blessing you possess has come? If any hardship is kept away from you, it is only because of His mercy.
Allah says:
"Whatever blessing you have is from Allah. Then when hardship touches you, to Him alone you cry for help."
(Surah An-Nahl 16:53)
Allah has made it obligatory upon His servants that they worship Him sincerely and associate nothing with Him. Whoever is granted guidance by Allah will find fulfilling this right easy.
Allah says:
"...Strive for Allah with the striving due to Him. He has chosen you and has not placed upon you any hardship in religion... So establish prayer, give zakah, and hold firmly to Allah. He is your Protector—the Best Protector and the Best Helper."
(Surah Al-Hajj 22:78)
This is the essence of true faith: sound belief accompanied by righteous deeds. The foundation of faith is love and reverence for Allah, while its fruits are sincerity and steadfastness.
Allah has prescribed five daily prayers through which sins are forgiven, ranks are elevated, hearts are purified, and lives are reformed. He has also commanded believers to fear Him according to their ability.
Allah says:
"So fear Allah as much as you are able."
(Surah At-Taghabun 64:16)
When Imran ibn Husayn (may Allah be pleased with him) was ill, the Prophet ﷺ said:
"Pray standing. If you cannot, then pray sitting. If you cannot, then pray lying on your side."
(Sahih al-Bukhari)
A small portion of your wealth is to be given once each year as zakah to assist the poor, the needy, travelers, those in debt, and other eligible recipients.
Fasting is obligatory only during one month of the year, and even then, Allah grants concessions to the sick and travelers.
Allah says:
"Whoever is ill or on a journey should make up the missed days later."
(Surah Al-Baqarah 2:185)
Pilgrimage (Hajj) to the Sacred House is obligatory only once in a lifetime for those who are financially and physically able.
These are the fundamental rights of Allah. Other obligations depend on circumstances, such as striving in the cause of Allah when it becomes obligatory.
My brother, these duties are few in effort but immense in reward. Whoever fulfills them will attain success in this world and the Hereafter, be saved from the Fire, and enter Paradise.
Allah says:
"Whoever is kept away from the Fire and admitted into Paradise has truly succeeded. And the life of this world is nothing but the enjoyment of deception."
(Surah Aal 'Imran 3:185)
.jpeg)
اللہ تعالیٰ کا حق تمام حقوق سے زیادہ ضروری ہے اور سب سے اہم ہے۔کیونکہ وہ اس کائنات کا خالق و مالک اور تمام تر امور کی تدبیر کرنے والا ہے۔وہ زندہ جاوید ہستی ہے جو تمام کائنات کا نطام سنبھالے ہوئے ہے،اس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور اپنی حکمت بالغہ سے اس کا اندازہ کیا۔انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ،پھر انسان کو اپنے احسانات یاد کرائے کہ اے انسان !تجھ پر اس ذات کا حق ہے جس نے نعمتوں کے ساتھ تیری پرورش کی۔تو اپنی ماں کے پیٹ میں تین طرح کے اندھیروں میں تھا۔جہاں مخلوقات میں کوئی بھی تجھے غذا یا ایسی اشیاء نہیں پہنچا سکتا تھا جو تیری افزائش اور زندگی کو قائم رکھنے والی ہوں۔اس نے ماں کی چھاتیوں میں وافر دودھ اتارا،تجھے اس کی راہ دکھلائی اور تیرے والدین کو تیرا محسن بنا دیا۔تیری امداد کی اور تجھے کامیاب کیا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَٱللَّهُ أَخْرَجَكُم مِّنۢ بُطُونِ أُمَّهَٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْا وَجَعَلَ لَكُمُ ٱلسَّمْعَ وَٱلْأَبْصَٰرَ وَٱلْأَفْدَةَ ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ﴿78﴾
ترجمہ: اور اللہ ہی نے تم کو تمہاری ماؤں کے شکم سے پیدا کیا کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے۔ اور اس نے تم کو کان اور آنکھیں اور دل (اور اُن کے علاوہ اور) اعضا بخشے تاکہ تم شکر کرو (سورۃ النحل،آیت 78)
اے انسان! اگر اللہ تعالیٰ لمحہ بھر کے لیے اپنا فضل اور رحمت روک لے تو تو ہلاک ہو جائے۔جب انسان پر اللہ تعالیٰ کا اتنا فضل اور اس قدر رحمت ہے تو پھر اس کا حق بھی تمام حقوق سے زیادہ اہم ہے۔اللہ تعالیٰ انسان سے (نہ) زق مانگتا ہے نہ کھانا۔ارشاد ربانی ہے:
لَا نَسْلُكَ رِزْقًۭا ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُكَ ۗ وَٱلْعَٰقِبَةُ لِلتَّقْوَىٰ ﴿132﴾
ترجمہ: ہم تجھ سے روزی نہیں مانگتے ہم تجھے روزی دیتے ہیں اور پرہیزگاری کا انجام اچھا ہے (سورۃ طہ،آیت 132)
اللہ تعالیٰ تجھ سے صرف ایک ہی چیز کا مطالبہ کرتا ہے جس میں تیرا ہی فائدہ ہے اور وہ یہ کہ تو اس اکیلے کی عبادت کر جس کا کوئی شریک نہیں۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَمَا خَلَقْتُ ٱلْجِنَّ وَٱلْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ﴿56﴾مَآ أُرِيدُ مِنْهُم مِّن رِّزْقٍۢ وَمَآ أُرِيدُ أَن يُطْعِمُونِ ﴿57﴾إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلرَّزَّاقُ ذُو ٱلْقُوَّةِ ٱلْمَتِينُ ﴿58﴾
ترجمہ: اور میں نے جن اور انسان کو بنایا ہے تو صرف اپنی بندگی کے لیے میں ان سے کوئی روزی نہیں چاہتا ہوں اور نہ ہی چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں بے شک الله ہی بڑا روزی دینے والا زبردست طاقت والا ہے (سورۃ الذاریات،آیت 56-58)
وہ تجھ سے صرف یہ چاہتا ہے کہ عبودیت کہ ہر پہلو سے تو اس کا بندہ بن جا۔جیا کہ ربوبیت کے ہر پہلو سے وہ تیرا پروردگار ہے۔ایسا بندہ جو اسی کے سامنے عجز و انکسار کا اظہار کرے اور اس کی مکمل اطاعت کرے کیونکہ اس نے تجھے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔کیا ایسے منعم حقیقی کی نافرمانی کرتے ہوئے تجھے شرم محسوس نہیں ہوتی؟
اگر لوگوں میں سے کوئی تجھ پر احسان کرتا تو (اے انسان) تو اس کی نافرمانی اور مخالفت پر اُتر آنے سے ضرور شرماتا،پھر اپنے پروردگار سے تیرا معاملہ کیسا ہے کہ جو کچھ بھی تیرے پاس ہے وہ سب اسی کے فضل سے ہے اور اگر تجھ پر کوئی مصیبت نہیں آتی تو وہ صرف اسی کی رحمت سے رکی ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَمَا بِكُم مِّن نِّعْمَةٍۢ فَمِنَ ٱللَّهِ ۖ ثُمَّ إِذَا مَسَّكُمُ ٱلضُّرُّ فَإِلَيْهِ تَجْرُونَ﴿53﴾
ترجمہ: اور جو نعمتیں تم کو میسر ہیں سب اللہ کی طرف سے ہیں۔ پھر جب تم کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کے آگے چلاتے ہو (سورۃ النحل،آیت 53)
اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے صرف یہ حق واجب کیا ہے کہ اس کی خالص عبادت کی جائے اور اس کے ساتھ کسی قسم کا شرک نہ کیا جائے۔جسے اللہ تعالیٰ توفیق دے،اسے یہ حق ادا کرنا نہایت آسان ہے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَجَٰهِدُوا۟ فِى ٱللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِۦ ۚ هُوَ ٱجْتَبَىٰكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِى ٱلدِّينِ مِنْ حَرَجٍۢ ۚ مِّلَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَٰهِيمَ ۚ هُوَ سَمَّىٰكُمُ ٱلْمُسْلِمِينَ مِن قَبْلُ وَفِى هَٰذَا لِيَكُونَ ٱلرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا۟ شُهَدَآءَ عَلَى ٱلنَّاسِ ۚ فَأَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُوا۟ ٱلزَّكَوٰةَ وَٱعْتَصِمُوا۟ بِٱللَّهِ هُوَ مَوْلَىٰكُمْ ۖ فَنِعْمَ ٱلْمَوْلَىٰ وَنِعْمَ ٱلنَّصِيرُ ﴿78﴾
ترجمہ: اور الله کی راہ میں کوشش کرو جیسا کوشش کرنے کا حق ہے اس نے تمہیں پسند کیا ہے اور دین میں تم پر کسی طرح کی سختی نہیں کی تمہارے باپ ابراھیم کا دین ہے اسی نے تمہارا نام پہلے سےمسلمان رکھا تھااوراس قرآن میں بھی تاکہ رسول تم پر گواہ بنے اور تم لوگو ں پر گواہ بنو پس نماز قائم کرو اور زکوٰة دو اور الله کو مضبوط ہو کر پکڑو وہی تمہارا مولیٰ ہے پھر کیا ہی اچھامولیٰ اور کیا ہی اچھا مددگار ہے (سورۃ الحج،آیت 78)
یہ ہے عقیدہ اور حق کے ساتھ ایمان اور عمل صالح جو بار آور ہے۔عقیدے کا قوام محبت و تعظیم اور کا پھل اخلاص و مداومت ہے۔دن اور رات میں پانچ نمازیں ہیں جن سے اللہ تعالیٰ خطاؤں کو معاف،درجات کو بلند اور دلوں کی اصلاح کرتا ہے۔اصلاح احوال کے لیے حسب استطاعت تقوی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ مَا ٱسْتَطَعْتُمْ
ترجمہ: جہاں تک تم سے ہو سکے اللہ سے ڈرو(سورۃ التغابن،آیت 16)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیمار تھے نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا:
صل قائما، فإن لم تستطع فقاعدا، فإن لم تستطع فعلى جنب (صحیح بخاری)
"کھڑے ہو کر نماز ادا کرو،ایسا نہ کر سکو تو بیٹھ کر اور اگر یہ بھی نہ کر سکو تو پھر لیٹے لیٹے پہلو پر ادا کرو۔"
تیرے مال کا ایک قلیل سا حصہ ہےجسے تو سال میں ایک بار مسلمانوں کی امداد کے لیے فقیروں،مسکینوں،مسافروں،قرض داروں اور زکاۃ کے دوسرے مستحقین کو ادا کرتا ہے۔روزے سال بھر میں صرف ایک مہینے کے فرض ہیں اور اس میں بھی مریض اور مسافر کے لیے رعایت ہے کہ وہ باقی دنوں میں رکھ لے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍۢ فَعِدَّةٌۭ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۗ
ترجمہ: اور جو شخص مریض ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں کی گنتی میں پوری کر لے۔"(سورۃ البقرۃ،آیت 185)
بیت اللہ کا حج صاحب استطاعت کے لیے عمر بھر میں صرف ایک دفعہ فرض ہے۔
یہ اللہ تعالیٰ کے بنیادی حقوق ہیں۔اور جو ان کے علاوہ ہیں،وہ حالات کے مطابق واجب ہوتے ہیں ،جیسے جہاد فی سبیل اللہ وغیرہ۔
میرے بھائی! یہ حق کے لحاظ سے تھوڑا اور اجر کے لحاظ سے بہت زیادہ ہے۔جب تو اسے ادا کرے گا تو دنیا و آخرت میں سرخرو ہو جائے گا،آگ سے نجات پائے گا اور جنت میں داخل ہو گا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فَمَن زُحْزِحَ عَنِ ٱلنَّارِ وَأُدْخِلَ ٱلْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ ۗ وَمَا ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَآ إِلَّا مَتَٰعُ ٱلْغُرُورِ ﴿185﴾
ترجمہ: پس جو شخص آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کیا گیا وہ کامیاب ہو گیا اور دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کا سامان
No comments:
Post a Comment
امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل
شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق