حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا نسب
خدیجہ نام، ام ہند کنیت اور طاہرہ لقب تھا۔ سلسلہ نسب اس طرح ہے: حضرت خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی۔ قصی پر پہنچ کر آپ کا خاندان رسول اللہ ﷺ کے خاندان سے مل جاتا ہے۔
آپ کی والدہ کا نام فاطمہ بنت زائدہ تھا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے والد اپنے قبیلے میں نہایت معزز شخص تھے۔ وہ مکہ آکر مقیم ہوئے اور عبدالدار بن قصی کے حلیف بنے۔ یہیں فاطمہ بنت زائدہ سے شادی ہوئی۔
طاہرہ کا لقب
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سن شعور کو پہنچیں تو اپنے پاکیزہ اخلاق اور پاکیزگی کی بنا پر طاہرہ کے لقب سے مشہور ہوئیں۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا نکاح
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے شریفانہ اخلاق اور دولت و ثروت نے قریش کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔ بہت سے لوگ آپ سے نکاح کے خواہش مند تھے، لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے رسول اللہ ﷺ کو منتخب فرمایا۔
رسول اللہ ﷺ تجارت کے سلسلے میں ملک شام سے واپس آئے تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے شادی کا پیغام بھیجا۔ نفیسہ بنت مینہ اس خدمت پر مامور ہوئیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اس پیغام کو منظور فرمایا۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے والد وفات پاچکے تھے، تاہم ان کے چچا عمرو بن اسد زندہ تھے۔ مقررہ تاریخ پر حضرت ابوطالب اور خاندان کے دیگر بزرگ تشریف لائے۔ حضرت ابوطالب نے خطبۂ نکاح پڑھا اور مہر مقرر ہوا۔ اس طرح حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو حرمِ نبوت اور ام المؤمنین ہونے کا شرف حاصل ہوا۔
سب سے پہلے ایمان لانے کا شرف
جب رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل ہوئی اور آپ ﷺ نے نبوت کے فرائض ادا کرنا شروع فرمائے تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو سب سے پہلے یہ پیغام سنایا گیا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کی صداقت پر پہلے ہی ایمان رکھتی تھیں۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی اولاد
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ ﷺ کی اولاد میں دو صاحبزادے اور چار صاحبزادیاں ہوئیں۔
- حضرت قاسم رضی اللہ عنہ
- حضرت زینب رضی اللہ عنہا
- حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ
- حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا
- حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا
- حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نکاح کے بعد تقریباً 25 برس تک رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہیں۔ ہجرت سے تقریباً تین سال قبل آپ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا۔ رسول اللہ ﷺ کے لیے یہ بہت بڑا صدمہ تھا، کیونکہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کی عظیم غمگسار اور مددگار تھیں۔
چونکہ اس وقت نمازِ جنازہ مشروع نہیں ہوئی تھی، اس لیے آپ رضی اللہ عنہا کو دفن کیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ خود آپ رضی اللہ عنہا کی قبر میں اترے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حالاتِ زندگی
رسول اللہ ﷺ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کی پہلی زوجہ تھیں۔ ان کی وفات کے بعد رسول اللہ ﷺ بہت غمگین رہتے تھے۔ حضرت خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کو نکاح کی ترغیب دی اور حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا۔
حضرت خولہ رضی اللہ عنہا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے گئیں اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کا پیغام پہنچایا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ابتدا میں ایک شرعی مسئلہ دریافت کیا، پھر رسول اللہ ﷺ کی وضاحت کے بعد اس رشتے کو قبول فرمایا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا علم، فہم، ذہانت اور دینی بصیرت کے اعتبار سے امت کی عظیم خواتین میں شمار ہوتی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہا سے بہت سی احادیث مروی ہیں اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم آپ سے مسائل دریافت کرتے تھے۔
سادگی سے نکاح
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کے واقعات میں سادگی نمایاں نظر آتی ہے۔ اسلامی نکاح میں غیر ضروری تکلف، فضول خرچی اور دکھاوے کے بجائے سادگی اور شرعی طریقے کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
نکاح کو آسان بنایا جائے، فضول خرچی اور غیر ضروری رسم و رواج سے بچا جائے اور مہر کو عورت کا شرعی حق سمجھا جائے۔
مہر عورت کا حق ہے
مہر عورت کا شرعی حق ہے اور شوہر پر لازم ہے کہ اسے ادا کرے۔ نکاح کے معاملات میں مہر کو محض رسمی چیز سمجھنے کے بجائے عورت کے حق کے طور پر ادا کرنا چاہیے۔
ہجرت اور مدینہ منورہ
ہجرت کے موقع پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف سفر فرمایا۔ بعد میں اہل خانہ کو بھی مدینہ منورہ منتقل کیا گیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی اپنے اہل خانہ کے ساتھ مدینہ منورہ تشریف لائیں۔
نکاح میں سادگی کا پیغام
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے نکاح اور رخصتی کے واقعات سے نکاح میں سادگی کی اہمیت کا سبق ملتا ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ نکاح کو غیر ضروری اخراجات، نمود و نمائش اور فضول رسموں سے محفوظ رکھیں۔
اور اسی میں سبقت لے جانے والوں کو سبقت کرنی چاہیے۔
سورۃ المطففین: 26
سبق اور نصیحت
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی زندگی سے وفاداری، قربانی، پاکیزگی، رسول اللہ ﷺ کی نصرت اور دین کے لیے مال و جان پیش کرنے کا سبق ملتا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی زندگی سے علم، فہم، دینی بصیرت اور سادگی جیسے عظیم اسباق حاصل ہوتے ہیں۔
رضی اللہ عنہن اجمعین























