Saturday, July 18, 2026

میثاقِ مدینہ

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق

ميثاق المدينة المنورة

 

 میثاقِ مدینہ

 میثاق مدینہ
میثاق مدینہ کو بجا طور پر تاریخ انسانی کا پہلا تحریری دستور قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ 730 الفاظ پر مشتمل ایک جامع دستور ہے
 جو ریاست مدینہ کا آئین تھا۔ 622ء میں ہونے والے اس معاہدے کی 53دفعات تھیں۔ یہ معاہدہ اور تحریری دستور مدینہ کے قبائل (بشمول یہود و نصاریٰ) کے درمیان جنگ نہ کرنے کا بھی عہد تھا۔
 معاہدے کا بکثرت ثبوت پوری تفصیل کے ساتھ کتبِ تواریخ میں ملتا ہے مگر اس کے باوجود مغربی مصنفین اسے نظر انداز کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔

 The Charter of Madinah (Constitution of Madinah)

For a detailed article, see: The Charter of Madinah

The Charter of Madinah is widely regarded as the first written constitution in human history. It was a comprehensive document consisting of approximately 730 words and served as the constitution of the State of Madinah.

Concluded in 622 CE, the Charter contained 53 clauses. It established a peaceful agreement among the tribes of Madinah, including Muslims, Jews, and Christians, committing them to mutual cooperation and to refraining from warfare against one another. It also defined the rights and responsibilities of the different communities living in the city.

Extensive historical evidence of this treaty is found in classical books of Islamic history. Nevertheless, some Western writers have attempted to overlook or minimize its historical significance.

Life in Madinah part.9

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق

مدنی زندگی

ہجرت

 
مدنی زندگی

ہجرت

622ء تک مسلمانوں کےلئے مکہ میں رہنا ممکن نہیں رہا تھا۔ کئی دفعہ مسلمانوں اور خود حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تکالیف دیں گئیں۔
 اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسلمانوں کو مدینہ ہجرت کرنے کی اجازت دے دی۔
 آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اللہ کے حکم سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ ستمبر 622ء میں مدینہ کی طرف روانہ ہوئے اور مدینہ میں اپنی جگہ حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کو امانتوں کی واپسی کے لیے چھوڑا۔
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مدینہ پہنچنے پر ان کا انصار نے شاندار استقبال کیا اور اپنے تمام وسائل پیش کر دیے۔
 جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ پہنچے تو انصار استقبال کے لیے آئے اور خواتین چھتوں پر سے دیکھ رہی تھیں۔
 اور دف بجا کر کچھ اشعار پڑھ رہی تھیں جن کا ترجمہ یہ ہے۔

    ہم پر چودھویں کی رات کا چاند طلوع ہوگیا وداع کی پہاڑیوں سے ہم پر شکر واجب ہے جب تک کوئی اللہ کو پکارنے والا باقی رہے۔
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اونٹنی حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر کے سامنے رکی اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے گھر قیام فرمایا۔

 جس جگہ اونٹنی رکی تھی اسے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قیمتاً خرید کر ایک مسجد کی تعمیر شروع کی جو مسجد نبوی کہلائی۔

 اس تعمیر میں انہوں نے خود بھی حصہ لیا۔ یہاں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسلمانوں کے درمیان عقدِ مؤاخات کیا یعنی مسلمانوں کو اس طرح بھائی بنایا کہ انصار میں سے ایک کو مہاجرین میں سے ایک کا بھائی بنایا۔

خود حضرت علی علیہ السلام کو اپنا بھائی قرار دیا۔ انصار نے مہاجرین کی مثالی مدد کی۔
ہجرت کے ساتھ ہی اسلامی تقویم کا آغاز بھی ہوا۔ آپ کے مدینہ آنے سے، اوس اور خزرج، یہاں کے دو قبائل جن نے بعد میں اسلام قبول بھی کیا میں لڑائی جھگڑا ختم ہوا اور ان میں اتحاد اور بھائی چارہ پیدا ہو گیا۔
 اس کے علاوہ یہاں کچھ یہودیوں کے قبائل بھی تھے جو ہمیشہ فساد کا باعث تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آنے کے بعد یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان ہونے والے معاہدہ 'میثاق مدینہ' نے مدینہ میں امن کی فضا پیدا کر دی۔ اسی دور میں مسلمانوں کو کعبہ کی طرف نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا،
 اس سے پہلے مسلمان بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرتے تھے جو کہ یہودیوں کا بھی قبلہ تھا۔

 

Life in Madinah

The Hijrah (Migration)

By 622 CE, it had become impossible for Muslims to continue living in Makkah due to the increasing persecution they faced. The Muslims, including Prophet Muhammad (peace and blessings be upon him), were subjected to repeated hardships and oppression. Therefore, the Prophet (peace and blessings be upon him) granted the Muslims permission to migrate to Madinah.

By the command of Allah, Prophet Muhammad (peace and blessings be upon him) set out for Madinah in 622 CE accompanied by Abu Bakr As-Siddiq (may Allah be pleased with him). Before leaving, he entrusted Ali ibn Abi Talib (may Allah be pleased with him) with returning the valuables and trusts that had been left in his care by the people of Makkah.

When the Prophet (peace and blessings be upon him) arrived in Madinah, he received a warm and joyful welcome from the Ansar (the Helpers), who generously offered their homes and resources to the Muslim emigrants. Men, women, and children came out to greet him, and women watched from the rooftops while people sang words of welcome and gratitude.

The Prophet's camel stopped in front of the house of Abu Ayyub al-Ansari (may Allah be pleased with him), where the Prophet stayed as his guest. He then purchased the land where the camel had knelt and began the construction of Al-Masjid an-Nabawi (the Prophet's Mosque), personally participating in its construction.

The Prophet (peace and blessings be upon him) also established the brotherhood (Mu'akhah) between the Muhajirun (the Emigrants) and the Ansar, pairing each emigrant with a helper from Madinah. He declared Ali ibn Abi Talib to be his own brother. The Ansar set a remarkable example of generosity and support toward the Muhajirun.

The Islamic (Hijri) calendar begins with the Hijrah. After the Prophet's arrival, the long-standing conflicts between the tribes of Aws and Khazraj came to an end, and unity and brotherhood were established among them after they embraced Islam.

Several Jewish tribes also lived in Madinah. To ensure peaceful coexistence among the city's communities, the Prophet established the Constitution of Madinah (Mithaq al-Madinah), which promoted peace, mutual rights, and cooperation.

During this period, Allah commanded the Muslims to change the Qiblah (direction of prayer) from Jerusalem (Bayt al-Maqdis) to the Kaaba in Makkah. Before this command, Muslims had offered their prayers facing Jerusalem.

معراج Muhammad nabi part.8

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق

معراج


مسجدِ اقصیٰ، جہاں سے سفرِ معراج کی ابتداء ہوئی
620ء میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم معراج پر تشریف لے گئے۔
 اس سفر کے دوران آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ سے مسجد اقصیٰ گئے اور وہاں تمام انبیائے کرام کی نماز کی امامت فرمائی۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آسمانوں میں اللہ تعالٰی سے ملاقات کرنے تشریف لے گئے۔
 وہاں اللہ تعالٰی نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جنت اور دوزخ دکھائی۔ وہاں آپکی ملاقات مختلف انبیائے کرام سے بھی ہوئی۔ اسی سفر میں نماز بھی فرض ہوئی۔

Al-Isra and Al-Mi'raj (The Night Journey and Ascension)

In 620 CE, Prophet Muhammad (peace and blessings be upon him) was honored with the miraculous journey of Al-Isra and Al-Mi'raj.

During this blessed journey, he traveled from Makkah to Al-Masjid Al-Aqsa (the Farthest Mosque) in Jerusalem, where he led all the previous prophets in prayer.

After that, the Prophet (peace and blessings be upon him) ascended through the heavens by the command of Allah. During this heavenly journey, he met several prophets and was shown the signs of Allah's creation, including Paradise and Hell.

It was during this miraculous journey that Allah made the five daily prayers (Salah) obligatory upon the Muslim community.


Muhammad nabi part.7

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق

مخالفت
جیسے جیسے اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی مقامی قبیلوں اور لیڈروں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے لئے خطرہ سمجھنا شروع کر دیا۔
 ان کی دولت اور عزت کعبہ کی وجہ سے تھی۔ اگر وہ اپنے بت کعبے سے باہر پھینک کر ایک اللہ کی عبادت کرنے لگتے تو انہیں خوف تھا کہ تجارت کا مرکز ان کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے قبیلے سے بھی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا کونکہ وہ ہی کعبے کے رکھوالے تھے۔
قبائل نے ایک معاہدہ کے تحت مسلمانوں کا معاشی اور معاشرتی بائیکاٹ کیا یہاں تک کہ مسلمان تین سال شعبِ ابی طالب میں محصور رہے۔
 یہ بائیکاٹ اس وقت ختم ہوا جب کعبہ پر لٹکے ہوئے معاہدے میں یہ دیکھا گیا کہ لفظ 'اللہ' کے علاوہ تمام حروف دیمک کی وجہ سے کھائے گئے ہیں۔
جب مخالفت حد سے بڑھ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو حبشہ جہاں ایک عیسائی بادشاہ حکومت کرتا تھا کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دے دی۔
619ء میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیوی حضرت خدیجہ اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیارے چچا حضرت ابوطالب انتقال فرما گئے۔
 اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سال کو عام الحزن یعنی دکھ کا سال قرار دیا۔




Tuesday, July 14, 2026

hadees
























امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق

hadees

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق


ebazar

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق



💰 eBazar Pakistan Affiliate

Join the eBazar Pakistan Affiliate Program and explore affiliate earning opportunities.

🚀 Affiliate Login / Sign Up

میثاقِ مدینہ

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق ميثاق ا...