The Message and Allah Names

Thursday, February 12, 2026

health

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق p>


CardioFit - A Herbal Heart Remedy (Jaam e Shifa)

CardioFit - A Herbal Heart Remedy
  • جام شفا

Rs 1950


  • High Cholesterol Can Be Controlled.
  • Prevention Of Repeated Heart Attacks.
  • People With Heart Diseases Can Be Cured.
  • Can Also Be Taken As a Preventive Medicine
  • Keeps You Fit And Strong

CardioFit aka Jaam-e-Shifa (جام شفا) is an effective syrup for patients suffering with heart health issues prepared with the pure extracts of natural products. It tunes your heart to pulsate healthily. What could be better than having a happy yet a healthy heart! We've got you a way to acquire a healthier heart. There are multiple brands in the market that claim to be effective but how are we better than them? We claim better health with this magical potion. It even enhances your immune system and maintains energy in your body.
 
Health Benefits of CardioFit:

  • High cholesterol can be controlled.
  • People diagnosed with heart blockage can be treated.
  • It’s a reasonable treatment for those who can’t go for a By-pass surgery.
  • Prevention of Repeated Heart Attacks.
  • People with Heart Diseases can be cured.
  • Can also be taken as a preventive medicine
  • Hence, regular use of CardioFit syrup revitalizes the heart health and keeps you fit and strong.

Ingredients:

We never compromise on the quality of our products and we always use 100% natural and premium quality products in all our supplements. Below you may find the ingredients that are used in the preparation of CardioFit syrup.

  • Organic Honey
  • Organic Ginger
  • Organic Garlic
  • Apple Cider Vinegar
  • Lemon Juice

Preferring the Natural way is no harmful. Let nature work best for you naturally and explore the treasures within mother nature. 
 
Dosage: 2 Teaspoon Daily


 

 

online earning job

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق

Wednesday, February 11, 2026

hadees Muhammad

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق


































donate us

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق




 




Tuesday, February 10, 2026

ایک عورت ظلم کی کہانیا

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق


ساجدہ کی شادی کو بیس سال سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے۔ شادی کے دوسرے دن سے لے کر آج تک ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا جب اس کا بدن مشقت و محنت اور طعن وتشنیع سے چور نہ ہوا ہو لیکن وہ ایک بے زبان جانور کی طرح اپنے کاموں میں جتی رہی۔ نہ شکوہ نہ شکایت۔ نہ مظلومیت کا کوئی رونا نہ مجبوری کی کوئی داستان۔ وہ بس اپنے کام میں جتی رہی۔ تین بچے بھی پیدا ہوئے جو صاحب اولاد ہیں۔ بالوں میں چاندی اتر آئی۔ بدن بے بس ہوگیا۔ مزید مشقت کی سکت نہ رہی۔ لیکن وہ شوہر جس نے اس کا خیال رکھنے اور اس کی ذمہ داریاں پوری کرنے کا عہد کیا تھا یوں لا تعلق ہوگیا گویا کہ وہ اس کو جانتا ہی نہیں۔ علاج کرانے اور دوا دارو کا خرچہ اٹھانے سے سرے سے ہی انکار کردیا۔ لوگوں نے سمجھایا تو دشنام طرازی پر مائل ہو گیا۔
ساجدہ بیچاری نے خود ہمت کی۔ کسی کی خوشامد کی تو کسی کی منت کی ۔ کسی نے سو روپے دیا تو کسی نے پانچ سو۔ چندہ کرکے بیچاری شہر پہنچی کہ اپنا علاج کروا سکے۔ اللہ بھلا کرے ہسپتال والوں کا کہ انہوں نے مفت علاج کا بیڑہ اٹھایا۔ حالت سنبھلی۔ جان میں جان آئی۔ سانسیں بحال ہوئیں۔ میاں کو خبر پہنچی تو فون کرکے گالیاں دینا شروع کردیں کہ ’گھر آکر مرو۔ گھر کے کام تمہارا باپ کرے گا؟ اپنا گھر چھوڑ کر تم وہاں شہر میں عیاشی کررہی ہو‘۔ ساجدہ بیچاری مرتی کیا نہ کرتی۔ علاج درمیان میں چھوڑ کر وہ شوہر کے گھر پہنچی ۔ بے حیا شوہر کی انا کی تسکین ہوئی، مگر بیماری کا جن چونکہ بوتل میں پوری طرح قید نہیں ہوا تھا اس لئے اب کے اس نے پوری شدت سے حملہ کیا ۔
ناتواں جان بے حال ہوگئی۔ نہ مناسب خوراک نہ ادویات۔ ساجدہ لمحہ بہ لمحہ گھلتی رہی۔ میاں نے بے غیرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے علاج کروانے سے انکار کردیا کہ مرتی ہے تو مرے مجھے پرواہ نہیں، میں اس کا علاج نہیں کرواؤں گا۔ قبل اس کے کہ ساجدہ کی سانس اکھڑتی اللہ کے ایک نیک بندے نے اسے دوبارہ ہزار مشکلات جھیل کر شہر پہنچایا مگر کمزوری اور بیماری نے پانچ فٹ کی ساجدہ کو دو فٹ کے بچے میں بدل دیا ہے۔ جسم سوکھ گیا ہے۔ کھانا کھایا نہیں جاتا۔ پانی پی نہیں سکتی۔ ڈاکٹر کہتے ہیں خوراک کی نالی سکڑ کر بند ہوگئی ہے۔ اس کا مفت علاج ہم نہیں کر سکتے۔ دوائی کے پیسے نہیں۔ علاج کی اوقات نہیں۔ کھانا کھانے کے قابل رہی نہیں۔ جہاں علاج ہوسکتا ہے شاید وہاں تک ساجدہ شاید کبھی پہنچ نہ پائے۔ ہسپتال کے ایک کونے میں بیڈ پر لیٹی لمحہ لمحہ عذاب جھیلتی اداس ساجدہ کیا سوچتی ہوگی یہ تو اللہ ہی جانتا ہے مگر جہاں تک ہمارا تعلق ہے تو ہمیں شرم سے ڈوب مرنا چاہئے کہ ہم ایسی ساجداؤں کو نہ بے لگام مردوں سے تحفظ فراہم کر سکتے ہیں اور نہ ہی باعزت زندگی دے

Monday, February 2, 2026

: شام کا سفر

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق
سیرت النبی ﷺ


عنوان: شام کا سفر

جونہی آپ نے پتھر پر پاؤں مارا،اس کے نیچے سے صاف اور عمدہ پانی پھوٹ نکلا،انہوں نے ایسا پانی پہلے کبھی نہیں پیا تھا۔خوب سیر ہو کر پیا۔ پھر انہوں نے پوچھا:
"بھتیجے!کیا آپ سیر ہوچکے؟"
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"ہاں!"
آپ نے اسی جگہ اپنی ایڑی پھر ماری اور وہ جگہ دوبارہ ایسی خشک ہوگئی جیسے پہلے تھی۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چند سال اپنے دوسرے چچا زبیر بن عبد المطلب کے ساتھ بھی رہے تھے۔اس زمانے میں ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ان چچا کے ساتھ ایک قافلے میں یمن تشریف لے گئے۔راستے میں ایک وادی سے گذر ہوا۔اس وادی میں ایک سرکش اونٹ رہتا تھا۔گزرنے والوں کا راستہ روک لیتا تھا مگر جونہی اس نے نبی کریم کو دیکھا تو فوراً بیٹھ گیا اور زمین سے اپنی چھاتی رگڑنے لگا۔آپ اپنے اونٹ سے اتر کر اس پر سوار ہوگئے،اب وہ اونٹ آپ کو لے کر چلا اور وادی کے پار تک لے گیا۔اس کے بعد آپ نے اس اونٹ کو چھوڑدیا۔
یہ قافلہ جب سفر سے واپس لوٹا تو ایک ایسی وادی سے اس کا گزر ہوا جو طوفانی پانی سے بھری ہوئی تھی،پانی موجیں مار رہا تھا۔یہ دیکھ کر آپ نے قافلے والوں سے فرمایا:
"میرے پیچھے پیچھے آؤ۔"
پھر آپ اطمینان سے وادی میں داخل ہوگئے،باقی لوگ بھی آپ کے پیچھے تھے۔اللہ تعالٰی نے اپنی قدرت سے پانی خشک کردیا اور آپ پورے قافلے کو لیے پار ہوگئے۔قافلہ مکہ پہنچا تو لوگوں نے یہ حیرت ناک واقعات بیان کئے۔لوگ سن کر بول اٹھے:
"اس لڑکے کی تو کچھ شان ہی نرالی ہے۔"
ابن ہشام لکھتے ہیں،بنولہب کا ایک شخص بہت بڑا قیافہ شناس تھا یعنی لوگوں کی شکل و صورت دیکھ کر ان کے حالات اور مستقبل کے بارے میں اندازہ لگایا کرتا تھا۔مکہ آتا تو لوگ اپنے بچوں کو اس کے پاس لاتے وہ انہیں دیکھ دیکھ کر ان کے بارے میں بتاتا تھا۔ایک بار یہ آیا تو ابو طالب آپ کو بھی اس کے پاس لے گئے اور اس وقت آپ ابھی نوعمر لڑکے ہی تھے۔ قیافہ شناس نے آپ کو ایک نظر دیکھا، پھر دوسرے بچوں کو دیکھنے لگا۔فارغ ہونے کے بعد اس نے کہا:
"اس لڑکے کو میرے پاس لاؤ۔"
ابو طالب نے یہ بات محسوس کرلی تھی کہ قیافہ شناس نے ان کے بھتیجے کو عجیب نظروں سے دیکھا ہے لہٰذا وہ آپ کو لے کر وہاں سے نکل آئے تھے۔جب قیافہ شناس کو معلوم ہوا کہ آپ وہاں موجود نہیں ہیں تو وہ چیخنے لگا 
"تمہارا بُرا ہو،اس لڑکے کو میرے پاس لاؤ جسے میں نے ابھی دیکھا ہے،اللہ کی قسم! وہ بڑی شان والا ہے۔"
ابو طالب نے نکلتے ہوئے اس کے یہ الفاظ سن لیے تھے۔
ابو طالب نے تجارت کی غرض سے شام جانے کا ارادہ کیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ساتھ جانے کا شوق ظاہر فرمایا بعض روایات میں آیا ہے کہ آپ نے جانے کے لئے خاص طور پر فرمائش کی۔ابو طالب نے آپ کا شوق دیکھ کر کہا:
"اللہ کی قسم!میں اسے ساتھ ضرور لے جاؤں گا،نہ یہ کبھی مجھ سے جدا ہوسکتا ہے،نہ میں اسے کبھی اپنے سے جدا کرسکتا ہوں۔"
ایک روایت میں یوں آیا ہے،آپ نے ابو طالب کی اونٹنی کی لگام پکڑلی اور فرمایا:
"چچا جان!آپ مجھے کس کے پاس چھوڑے جارہے ہیں؟میری نہ ماں ہے نہ باپ۔"
اس وقت آپ کی عمر مبارک نو سال تھی۔آخر ابو طالب آپ کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے۔آپ کو اپنی اونٹنی پر بٹھایا۔راستے میں عیسائیوں کی ایک عبادت گاہ کے پاس ٹھہرے۔خانقاہ کے راہب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو چونک اٹھا۔اس نے ابو طالب سے پوچھا:
"یہ لڑکا تمہارا کون ہے؟"
انہوں نے جواب دیا:
"یہ میرا بیٹا ہے۔"
یہ سن کر راہب نے کہا: 
"یہ تمہارا بیٹا نہیں ہوسکتا۔"
یہ سن کر ابو طالب بہت حیران ہوئے،بولے:
"کیا مطلب...یہ کیوں میرا بیٹا نہیں ہوسکتا بھلا؟"
اس نے کہا:
"یہ ممکن ہی نہیں کہ اس لڑکے کا باپ زندہ ہو،یہ نبی ہے۔"
مطلب یہ تھا کہ ان میں جو نشانیاں ہیں وہ دنیا کے آخری نبی کی ہیں اور ان کی ایک علامت یہ ہے کہ وہ یتیم ہوں گے۔ان کے باپ کا انتقال اسی زمانے میں ہو جائے گا جب کہ وہ ابھی پیدا ہونے والے ہوں گے۔اس لڑکے میں آنے والے نبی کی تمام علامات موجود ہیں۔ان کی ایک نشانی یہ ہے کہ بچپن میں ان کی والدہ کا بھی انتقال ہوجائے گا۔
اب ابو طالب نے اس راہب سے پوچھا:
"نبی کیا ہوتا ہے؟"
راہب نے کہا:
"نبی وہ ہوتا ہے جس کے پاس آسمان سے خبریں آتی ہیں اور پھر وہ زمین والوں کو ان کی اطلاع دیتا ہے...تم یہودیوں سے اس لڑکے کی حفاظت کرنا۔"
اس کے بعد ابو طالب وہاں سے آگے روانہ ہوئے۔ راستے میں ایک اور راہب کے پاس ٹھہرے۔یہ بھی ایک خانقاہ کا عابد تھا۔اس کی نظر بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑی تو یہی پوچھا:
"یہ لڑکا تمہارا کیا لگتا ہے؟"
ابو طالب نے اس سے بھی یہی کہا:
"یہ میرا بیٹا ہے۔"
راہب یہ سن کر بولا:
"یہ تمہارا بیٹا نہیں ہوسکتا،اس کا باپ زندہ ہو ہی نہیں سکتا۔"
ابو طالب نے پوچھا: 
"وہ کیوں...؟"
راہب نے جواب میں کہا:
"اس لیے کہ اس کا چہرہ نبی کا چہرہ ہے۔اس کی آنکھیں ایک نبی کی آنکھیں ہیں یعنی اس نبی جیسی جو آخری امت کے لئے بھیجے جانے والے ہیں،ان کی علامات پرانی آسمانی کتابوں میں موجود ہیں۔"
اس کے بعد یہ قافلہ روانہ ہو کر بصری پہنچا۔یہاں بحیرا نام کا ایک راہب اپنی خانقاہ میں رہتا تھا۔اس کا اصل نام جرجیس تھا،بحیرااس کا لقب تھا۔ وہ بہت زبردست عالم تھا۔
حضرت عیسٰی علیہ السلام کے زمانے سے اس خانقاہ کا راہب،نسل در نسل یہ عالم فاضل خاندان ہی چلا آرہا تھا۔اس طرح اس زمانے میں ان کا سب سے بڑا عالم بحیرا ہی تھا۔
قریش کے لوگ اکثر بحیرا کے پاس سے گزرا کرتے تھے مگر اس نے کبھی ان سے کوئی بات نہیں کی تھی،مگر اس بار اس نے قافلے میں آپ کو دیکھ لیا تو پورے قافلے کے لئے کھانا تیار کروایا۔
بحیرا نے یہ منظر بھی دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک بدلی سایہ کیے ہوئے تھی۔جب یہ قافلہ ایک درخت کے نیچے آ کر ٹھہرا تو اس نے بدلی کی طرف دیکھا،وہ اب اس درخت پر سایہ ڈال رہی تھی اور اس درخت کی شاخیں اس طرف جھک گئیں تھیں جدھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے۔ اس نے دیکھا،بہت سی شاخوں نے آپ کے اوپر جمگھٹا سا کرلیا تھا۔اصل میں ہوا یہ تھا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس درخت کے پاس پہنچے تو قافلے کے لوگ پہلے ہی سایہ دار جگہ پر قبضہ کر چکے تھے۔اب آپ کے لئے کوئی سایہ دار جگہ نہیں بچی تھی،چنانچہ آپ جب دھوپ میں بیٹھے تو شاخوں نے اپنا رخ تبدیل کرلیا اور آپ کے اوپر جمع ہوگئیں۔اس طرح آپ مکمل طور پر سائے میں ہوگئے۔بحیرا نے یہ منظر صاف دیکھا تھا۔آپ کی یہ نشانی دیکھ کر اس نے قافلے والوں کو پیغام بھجوایا۔
"اے قریشیو!میں نے آپ لوگوں کے لئے کھانا تیار کروایا ہے، میری خواہش ہے کہ آپ تمام لوگ کھانا کھانے آئیں یعنی بچے بوڑھے اور غلام سب آئیں۔"
بحیرا کا یہ پیغام سن کر قافلے میں سے ایک نے کہا:
"اے بحیرا...آج تو آپ نیا کام کررہے ہیں،ہم تو اکثر اس راستے سے گزرتے ہیں،آپ نے کبھی دعوت کا انتظام نہیں کیا،پھر آج کیا بات ہے۔"
بحیرا نے انہیں صرف اتنا جواب دیا:
"تم نے ٹھیک کہا،لیکن بس آپ لوگ مہمان ہیں اور مہمان کا اکرام کرنا بہت اچھی بات ہے۔"
اس طرح تمام لوگ بحیرا کے پاس پہنچ گئے...لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ نہیں تھے۔انہیں پڑاؤ ہی میں چھوڑ دیا گیا تھا۔
online earning


online earning home



Friday, January 16, 2026

hamare khane ki recipi


امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق
hamare khane




online kamahe
 



health

امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق p...