ساجدہ کی شادی کو بیس سال سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے۔ شادی کے دوسرے دن سے لے کر آج تک ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا جب اس کا بدن مشقت و محنت اور طعن وتشنیع سے چور نہ ہوا ہو لیکن وہ ایک بے زبان جانور کی طرح اپنے کاموں میں جتی رہی۔ نہ شکوہ نہ شکایت۔ نہ مظلومیت کا کوئی رونا نہ مجبوری کی کوئی داستان۔ وہ بس اپنے کام میں جتی رہی۔ تین بچے بھی پیدا ہوئے جو صاحب اولاد ہیں۔ بالوں میں چاندی اتر آئی۔ بدن بے بس ہوگیا۔ مزید مشقت کی سکت نہ رہی۔ لیکن وہ شوہر جس نے اس کا خیال رکھنے اور اس کی ذمہ داریاں پوری کرنے کا عہد کیا تھا یوں لا تعلق ہوگیا گویا کہ وہ اس کو جانتا ہی نہیں۔ علاج کرانے اور دوا دارو کا خرچہ اٹھانے سے سرے سے ہی انکار کردیا۔ لوگوں نے سمجھایا تو دشنام طرازی پر مائل ہو گیا۔
ساجدہ بیچاری نے خود ہمت کی۔ کسی کی خوشامد کی تو کسی کی منت کی ۔ کسی نے سو روپے دیا تو کسی نے پانچ سو۔ چندہ کرکے بیچاری شہر پہنچی کہ اپنا علاج کروا سکے۔ اللہ بھلا کرے ہسپتال والوں کا کہ انہوں نے مفت علاج کا بیڑہ اٹھایا۔ حالت سنبھلی۔ جان میں جان آئی۔ سانسیں بحال ہوئیں۔ میاں کو خبر پہنچی تو فون کرکے گالیاں دینا شروع کردیں کہ ’گھر آکر مرو۔ گھر کے کام تمہارا باپ کرے گا؟ اپنا گھر چھوڑ کر تم وہاں شہر میں عیاشی کررہی ہو‘۔ ساجدہ بیچاری مرتی کیا نہ کرتی۔ علاج درمیان میں چھوڑ کر وہ شوہر کے گھر پہنچی ۔ بے حیا شوہر کی انا کی تسکین ہوئی، مگر بیماری کا جن چونکہ بوتل میں پوری طرح قید نہیں ہوا تھا اس لئے اب کے اس نے پوری شدت سے حملہ کیا ۔
ناتواں جان بے حال ہوگئی۔ نہ مناسب خوراک نہ ادویات۔ ساجدہ لمحہ بہ لمحہ گھلتی رہی۔ میاں نے بے غیرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے علاج کروانے سے انکار کردیا کہ مرتی ہے تو مرے مجھے پرواہ نہیں، میں اس کا علاج نہیں کرواؤں گا۔ قبل اس کے کہ ساجدہ کی سانس اکھڑتی اللہ کے ایک نیک بندے نے اسے دوبارہ ہزار مشکلات جھیل کر شہر پہنچایا مگر کمزوری اور بیماری نے پانچ فٹ کی ساجدہ کو دو فٹ کے بچے میں بدل دیا ہے۔ جسم سوکھ گیا ہے۔ کھانا کھایا نہیں جاتا۔ پانی پی نہیں سکتی۔ ڈاکٹر کہتے ہیں خوراک
کی نالی سکڑ کر بند ہوگئی ہے۔ اس کا مفت علاج ہم نہیں کر سکتے۔ دوائی کے پیسے نہیں۔ علاج کی اوقات نہیں۔ کھانا کھانے کے قابل رہی نہیں۔ جہاں علاج ہوسکتا ہے شاید وہاں تک ساجدہ شاید کبھی پہنچ نہ پائے۔ ہسپتال کے ایک کونے میں بیڈ پر لیٹی لمحہ لمحہ عذاب جھیلتی اداس ساجدہ کیا سوچتی ہوگی یہ تو اللہ ہی جانتا ہے مگر جہاں تک ہمارا تعلق ہے تو ہمیں شرم سے ڈوب مرنا چاہئے کہ ہم ایسی ساجداؤں کو نہ بے لگام مردوں سے تحفظ فراہم کر سکتے ہیں اور نہ ہی باعزت زندگی دے

No comments:
Post a Comment
امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل
شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق