رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
زبان کا زنا( اجنبی سے فحش) بات کرنا ہے،
مرد کے لیے عورت کی آواز بھی ہے آزماٸش
غیر محرم کے آگے بولنا بھی شیطانی ہے فرماٸش
ہوا آخر وہ ہی جس کا تھا ڈر
الفت ومحبت کا شروع ہوا ڈرامہ گھر
آواز کے سریلے پن سے ہوا وہ فدا
غیر عورت کی آواز سے ہوۓ میاں بیوی جدا
بجنے لگا روزانہ ٹیلیفون کا ساز رونگ نمبر کی گھنٹی سے نکلی وہ آواز
بچے بھی کرنے لگے اکثر یہ شکایت
ابو اکثر سناتے ہے کسی کو حکایت
اس بات کو کر دیا بیوی نے اگنور
لڑکی کے پاس پہنچی وہاں کیا خوب شور
بات ابھی ہوٸی نہیں تھی بہت زیادہ آگے
یا اللہ ان عورتوں کا ایمان تو جگا دے
کہ اس آیت پر عمل کرنے کی توفیق مل جاۓ
کہ دوسرے کے گھرانے کو یہ نہ برباد کرواۓ
کرواۓ
زبان کے زنا سے متعلق
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“آدمی کے زنا میں سے اس کا حصہ لکھ دیا گیا ہے، وہ اسے ضرور پائے گا؛ آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے، کانوں کا زنا سننا ہے، زبان کا زنا بات کرنا ہے، ہاتھ کا زنا پکڑنا ہے، اور پاؤں کا زنا چل کر جانا ہے۔”
(صحیح مسلم، 2657)
بدنگاہی کے اٹرات گھر پر حضرت جریر بن عبداللہؓ نے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اچانک پڑ جانے والی نظر کے بارے میں پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: "اپنی نگاہ پھیر لو۔" سنن ابی داؤد: 2148 نگاہ اپنی کو نیچا رکھوں ہے اللہ کے الفاظ
مرد بیچارے کب ہوتے ہیں اس حرکت سے باز
ایسے مرد ہوتے ہیں بہت چست چلاک
ہر بات پہ دیتے ہیں دھمکی طلاق اپنی بیوی کو رکھے گے ہمیشہ طعنوں کی زد میں
پہلے دن ہی کہے گے رہنا اپنی حد میں
دل کو آباد رکھے گے محبوبہ کے قدموں سے
بیوی کو ڈراۓ گے ہمیشہ آنوکھے صدموں سے
بیوی پاس کھڑی ہو بن سنور کے اف کتنے پیارے بال ہے ہمساٸی قمر کے
جو مرد تاکتے ہے دوسروں کی عزت کو
دس پردوں میں ڈھانپتے ہیں اپنی نزہت کو
by kalsoom parveen sha

No comments:
Post a Comment
امن کا پیغام پڑھنے والوں کےلیے اک اچھی کاوش ثابت ہوگا انشآء اللہ اس میں آرٹیکل
شاعری اور بہت کچھ مفید ملے گاقرآن اوراحادیث کے متعلق